رئیسانی وزیراعلیٰ بلوچستان ہیں یا نہیں گورنر رائے دیں اسپیکر اسلم بھوتانی
عدالتی فیصلے سے وزیراعلیٰ کی آئینی حیثیت پر سوالیہ نشان لگ چکا، انکی ہدایت پر اسمبلی اجلاس بلانا توہین عدالت ہے
صوبائی اسمبلی کا اجلاس 9نومبرکو گوادر میں طلب کیا جائے، وزیر اعظم بھی شریک ہونگے، وزیراعلیٰ بلوچستان رئیسانی کے پرنسپل سیکریٹری کا اسمبلی سیکریٹریٹ کو خط۔ فوٹو: فائل
ISLAMABAD:
بلوچستان اسمبلی کے اسپیکر محمد اسلم بھوتانی نے بلوچستان اسمبلی کے بلائے گئے اجلاس کی صدارت سے انکار کر دیا ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق اسلم بھوتانی نے کہا کہ عدالتی حکم کی موجودگی میں وزیراعلیٰ کی ہدایت پر اسمبلی اجلاس بلانا توہین عدالت ہے، اسی بنیاد پر بلوچستان اسمبلی کے بلائے گئے اجلاس کی صدارت سے انکار کر دیا ہے۔ جب تک صوبائی حکومت کی قانونی حیثیت کا تعین نہیں ہوتا اجلاس نہیں بلاسکتے۔ بلوچستان اسمبلی سیکریٹریٹ نے وزیراعلیٰ کی آئینی حیثیت پر گورنر سیکریٹریٹ سے بھی وضاحت کی درخواست کی ہے۔ اسلم بھوتانی نے کہا عدالتی فیصلے کے بعد وزیراعلیٰ کی آئینی حیثیت پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے، وزیراعلیٰ کی ہدایت پر عمل کروں گا تو توہین عدالت کا مرتکب ہوں گا۔
بلوچستان حکومت کے حوالے سے سپریم کورٹ کے عبوری حکم کی آئینی حیثیت کا جائزہ لینے کیلیے گورنر سیکریٹریٹ کو لکھ دیاہے اگر گورنر بلوچستان کہیں گے تو اسمبلی اجلاس بلالیں گے۔ بلوچستان میں امن و امان کی حالت ٹھیک نہیں۔ صوبے میں جلد انتخابات ہونے چاہئیں۔ آئندہ الیکشن میں بائیکاٹ کرنے والے افراد بھی حصہ لیں۔ الیکشن میں سب حصہ لیں گے تو بلوچستان کے حالات ٹھیک ہو سکتے ہیں۔ اسلم بھوتانی نے کہا اقتدار میں سیاسی انتقام نہیں لینا چاہیے، یار محمد رند بلوچستان صوبائی اسمبلی کے معزز رکن ہیں۔ گورنر بلوچستان یار محمد رند کی قبائلی حیثیت کے حوالے سے تحفظ کی فراہمی یقینی بنانے میں اپنا مؤثر و عملی کردار ادا کریں۔
انھوں نے کہا مجھے اسپیکراﷲکی ذات کے بعد بلوچستان اسمبلی کے65 ارکان نے بنایا ان میں ایک ووٹ اسلم رئیسانی کا بھی شامل ہے تاہم جہاں تک انھوں نے مجھ پر ترس آنے کی بات کی ہے تو یہ میں بلوچستان کے عوام پر چھوڑتا ہوں کہ وہ کس پر ترس کھاتے ہیں۔ علاوہ ازیں بلوچستان اسمبلی سیکریٹریٹ ذرائع نے آئی این پی کو بتایا کہ وزیراعلیٰ اسلم رئیسانی کے پرنسپل سیکرٹری نے اسمبلی سیکرٹریٹ کو ایک خط لکھا تھا جس میں ہدایت کی گئی تھی کہ بلوچستان اسمبلی کا اجلاس 9 نومبر کو گوادر میں طلب کیا جائے جس میں وزیراعظم بھی شریک ہوں گے۔
وزیراعلیٰ کے اس خط کے جواب میں اسمبلی سیکریٹریٹ نے گورنر بلوچستان کو ایک خط لکھا جس میں اس بات کی وضاحت طلب کی گئی کہ سپریم کورٹ کے عبوری حکم کی روشنی میں اسمبلی کا اجلاس طلب کیا جاسکتا ہے یا نہیں اور موجودہ حکومت کو آئینی حکمرانی کا کس حد تک حق حاصل ہے اور کہیں ایسا نہیں ہو کہ عبوری حکم کی موجودگی میں سپریم کورٹ کے فیصلے کی توہین ہو جائے اس لیے گورنر کی ہدایت کی روشنی میں جو بھی حکم آئے گا اس پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ آن لائن کے مطابق سیکریٹری بلوچستان اسمبلی نے بتایا کہ گوادر میں طلب کیے جانے والے اجلاس سے متعلق ان کے پاس کسی قسم کی کوئی انفارمیشن نہیںہے۔
بلوچستان اسمبلی کے اسپیکر محمد اسلم بھوتانی نے بلوچستان اسمبلی کے بلائے گئے اجلاس کی صدارت سے انکار کر دیا ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق اسلم بھوتانی نے کہا کہ عدالتی حکم کی موجودگی میں وزیراعلیٰ کی ہدایت پر اسمبلی اجلاس بلانا توہین عدالت ہے، اسی بنیاد پر بلوچستان اسمبلی کے بلائے گئے اجلاس کی صدارت سے انکار کر دیا ہے۔ جب تک صوبائی حکومت کی قانونی حیثیت کا تعین نہیں ہوتا اجلاس نہیں بلاسکتے۔ بلوچستان اسمبلی سیکریٹریٹ نے وزیراعلیٰ کی آئینی حیثیت پر گورنر سیکریٹریٹ سے بھی وضاحت کی درخواست کی ہے۔ اسلم بھوتانی نے کہا عدالتی فیصلے کے بعد وزیراعلیٰ کی آئینی حیثیت پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے، وزیراعلیٰ کی ہدایت پر عمل کروں گا تو توہین عدالت کا مرتکب ہوں گا۔
بلوچستان حکومت کے حوالے سے سپریم کورٹ کے عبوری حکم کی آئینی حیثیت کا جائزہ لینے کیلیے گورنر سیکریٹریٹ کو لکھ دیاہے اگر گورنر بلوچستان کہیں گے تو اسمبلی اجلاس بلالیں گے۔ بلوچستان میں امن و امان کی حالت ٹھیک نہیں۔ صوبے میں جلد انتخابات ہونے چاہئیں۔ آئندہ الیکشن میں بائیکاٹ کرنے والے افراد بھی حصہ لیں۔ الیکشن میں سب حصہ لیں گے تو بلوچستان کے حالات ٹھیک ہو سکتے ہیں۔ اسلم بھوتانی نے کہا اقتدار میں سیاسی انتقام نہیں لینا چاہیے، یار محمد رند بلوچستان صوبائی اسمبلی کے معزز رکن ہیں۔ گورنر بلوچستان یار محمد رند کی قبائلی حیثیت کے حوالے سے تحفظ کی فراہمی یقینی بنانے میں اپنا مؤثر و عملی کردار ادا کریں۔
انھوں نے کہا مجھے اسپیکراﷲکی ذات کے بعد بلوچستان اسمبلی کے65 ارکان نے بنایا ان میں ایک ووٹ اسلم رئیسانی کا بھی شامل ہے تاہم جہاں تک انھوں نے مجھ پر ترس آنے کی بات کی ہے تو یہ میں بلوچستان کے عوام پر چھوڑتا ہوں کہ وہ کس پر ترس کھاتے ہیں۔ علاوہ ازیں بلوچستان اسمبلی سیکریٹریٹ ذرائع نے آئی این پی کو بتایا کہ وزیراعلیٰ اسلم رئیسانی کے پرنسپل سیکرٹری نے اسمبلی سیکرٹریٹ کو ایک خط لکھا تھا جس میں ہدایت کی گئی تھی کہ بلوچستان اسمبلی کا اجلاس 9 نومبر کو گوادر میں طلب کیا جائے جس میں وزیراعظم بھی شریک ہوں گے۔
وزیراعلیٰ کے اس خط کے جواب میں اسمبلی سیکریٹریٹ نے گورنر بلوچستان کو ایک خط لکھا جس میں اس بات کی وضاحت طلب کی گئی کہ سپریم کورٹ کے عبوری حکم کی روشنی میں اسمبلی کا اجلاس طلب کیا جاسکتا ہے یا نہیں اور موجودہ حکومت کو آئینی حکمرانی کا کس حد تک حق حاصل ہے اور کہیں ایسا نہیں ہو کہ عبوری حکم کی موجودگی میں سپریم کورٹ کے فیصلے کی توہین ہو جائے اس لیے گورنر کی ہدایت کی روشنی میں جو بھی حکم آئے گا اس پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ آن لائن کے مطابق سیکریٹری بلوچستان اسمبلی نے بتایا کہ گوادر میں طلب کیے جانے والے اجلاس سے متعلق ان کے پاس کسی قسم کی کوئی انفارمیشن نہیںہے۔