ریلوے اراضی اسکینڈل 3سابق جرنیل نیب میں پیش جاوید اشرف کا صحافیوںسے توہین آمیز رویہ

جاویداشرف قاضی،سعیدالظفر،حامدبٹ نے تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے دیاگیاتحریری سوالنامہ بھی جمع کرایا

جاوید اشرف قاضی صحافیوں کے سوالوں کا جواب دینے کی بجائی شٹ اپ اور ایڈیٹ کہتے ہوئے چلے گئے ۔فوٹو: فائل

KARACHI:
ریلوے اراضی اسکینڈل کیس میں فوج کے تین سابق جرنیلوں ریلوے کے سابق وفاقی وزیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) جاوید اشرف قاضی، لیفٹیننٹ جنرل(ر)سعیدالظفراور لیفٹیننٹ جنرل (ر)حامدحسن بٹ نے نیب کی تحقیقاتی ٹیم کے سامنے بیانات ریکارڈکرائے۔


جبکہ ریلوے کے دو سابق افسران سابق ممبر فنانس خورشیداحمدخان اورسابق جی ایم آپریشن اقبال صمدخان کو پیرکو بیانات ریکارڈکرانے کیلیے طلب کیاگیاہے۔نیب ترجمان کے مطابق ریلوے اراضی کی لیزمیںمبینہ کرپشن کیس کی تحقیقات آخری مراحل میں ہے اور نیب کی تحقیقاتی ٹیم تین جرنیلوں سمیت ملوث افرادکے خلاف جاری تحقیقات جلد مکمل کر لے گی۔ نیب ذرائع کے مطابق فوج کے سابق جرنیلوںکو ریلوے اراضی اسکینڈل کیس میں نیب کی تفتیشی ٹیم نے تحریری سوالنامہ دیا تھا جسے تینوںنے واپس جمع کرادیاہے۔

تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہونیکے بعدنیب ہیڈکوارٹرزسے باہر نکلتے ہی جب میڈیا نمائندوں نے لیفٹیننٹ جنرل (ر) جاوید اشرف قاضی سے بات چیت کرناچاہی توانھوں نے میڈیاسے بات کرنے سے انکارکردیا،وہاں موجودصحافیوں کے بار بار پوچھنے پر لیفٹیننٹ جنرل(ر)جاویداشرف قاضی صحافی کوشٹ اپ ایڈیٹ کہتے ہوئے اپنی گاڑی میںسوار ہوکرچلے گئے جبکہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) سعیدالظفر نے بھی بات کرنے سے انکارکردیا اوربار بارپوچھنے پرانھوں نے کہاکہ گیارہ برس سے جرنیلوں کا ٹرائل ہو رہاہے۔جب ان سے پوچھا گیاکہ سیاستدانوںکا تو 65 برس سے ٹرائل ہوتارہاہے توانھوں نے کہا کہ انہیںاسکا علم نہیں انھوں نے صحافیوںکے سوالات کاجواب نہیں دیا اورچلے گئے۔
Load Next Story