کراچی میں کمیونٹی پولیسنگ شروع اور سمز کی فروخت مربوط نظام بنایا جائے صدر زرداری

اسلحہ لائنس کے اجراکے نظام کوکمپیوٹرائزکیاجائے،رپورٹ مت بتائیں عملی اقدام کرکے دکھائیں اجلاس میں ہدایت

کراچی، صدر زرداری سول سروس اکیڈمی کی سالانہ تقریب سے خطاب کررہے ہیں، وزیراعلیٰ بھی موجود ہیں۔ فوٹو: اے پی پی

صدرآصف زرداری نے حکومت سندھ کو ہدایت کی ہے کہ کراچی میں مستقل بنیادپر قیام امن کیلیے کمیونٹی پولیسنگ کانظام فوری شروع اورموبائل فون سمزکی خریدوفروخت کے نظام کو مربوط بنانے کے ساتھ اسلحہ لائنس کے اجراکے نظام کوکمپیوٹرائزکیاجائے۔

ملک بھرمیںگردے اورجگرکی بیماریوں کے علاج کی جدیدسہولیات کی فراہمی کیلیے عالمی معیارکے طبی مراکزقائم کیے جائیں ۔وزیراعلیٰ ہائوس کراچی میں امن وامان کی صورتحال،بلدیاتی نظام،پاکستان لیوراینڈکڈنی انسٹی ٹیوٹ آف اسلام آباد کے قیام اورجناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے حوالے سے منعقدہ علیحدہ علیحدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے صدرنے کہاکہ کراچی میں قیام امن کیلیے وفاقی اورصوبائی حکومتیں مربوط اندازمیں کام کریں،انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے،امن وامان کے معاملات پرمشاورت اورمختلف مسائل کے حل کیلیے ایک رابطہ کارکمیٹی قائم کی جائے جس میں وفاقی حکومت،سندھ حکومت اورقانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندے شامل ہوں۔

یہ کمیٹی کراچی میں مستقل بنیادپرقیام امن کیلیے تجاویزمرتب کرے،قانون نافذ کرنے ادارے بلا تفریق اوربہتر انداز میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف ٹارگٹڈآپریشن جاری رکھیں۔انھوںنے کہاکہ کراچی ملک کااکنامک زون ہے،کراچی کی ترقی ملک کی ترقی ہے، اگریہاں امن خراب ہوگاتواس کے اثرات پورے ملک کی معیشت پرپڑیںگے،انھوں نے کہاکہ وفاقی اورصوبائی حکومتیں کراچی میں قیام امن کیلیے مشترکہ طور پرلائحہ عمل اختیارکریں اورصوبائی حکومت کوکراچی میں قیام امن کیلیے جن وسائل کی ضرورت ہوگی وفاقی حکومت فراہم کرے گی۔صدر نے کہاکہ جو افسران اپنے فرائض کی انجام دہی میں غفلت کا مظاہرہ کریں گے انھیں فوری طورپران کے عہدوں سے ہٹادیاجائے۔


صدر نے وزیراعلیٰ سندھ اور وزیر داخلہ سندھ کو ہدایت کی کہ کراچی میں تاجروں اور صنعت کاروں کے تحفظات کو دور کریں،تمام صنعتی زونز اور تجارتی مراکز میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جائیں،صدر آصف علی زرداری نے ہدایت کی کہ گواہوںکے تحفظ کے بل کواسمبلی سے جلد منظور کرایا جائے،صدرنے کراچی میں بڑی تعدادمیں غیر قانونی اسلحے کی موجودگی اور جعلی اسلحہ لائسنس کے اجرا کے حوالے سے رپورٹ پر تشویش کااظہارکیااورکہاکہ غیر قانونی اسلحے کی برآمدگی کے لیے قانون نافذکرنے والے ادارے فوری اقدامات کریں ۔بعد ازاں صدرسے وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے بھی وزیراعلیٰ ہائوس میں ملاقات کی اورصدرکوملک کی مجموعی امن وامان کی صورتحال،اپنے دورہ لندن اورعیدالاضحیٰ پرسیکیورٹی انتظامات کے حوالے سے آگاہ کیا۔

ذرائع کے مطابق وفاقی وزیرداخلہ نے صدرکوبتایا کہ موبائل فون کی سمزسے دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہوا،سمزکی خریدوفروخت کامربوط نظام نہ ہونے کی وجہ سے امن وامان کی صورتحال خراب ہورہی ہے۔ذرائع کے مطابق رحمن ملک نے تجویزدی کہ سمز کی خرید ورفروخت کیلیے نیا طریقہ کار اپنایاجائے اور سمز کو گھروں کے پتوں پر بھیجا جائے۔ علاوہ ازیںپاکستان لیور اینڈکڈنی انسٹی ٹیوٹ آف اسلام آباد کے قیام اور جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے حوالے سے منعقدہ علیحدہ علیحدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے صدر زرداری نے کہاکہ حکومت عوام کوجدید طبی سہولیات کی فراہمی کیلیے ہرممکن اقدامات کررہی ہے۔

صدر نے وزیراعلیٰ سندھ کوہدایت کی کہ کراچی،حیدرآباد سمیت صوبے بھرکے تمام اضلاع میں جاری ترقیاتی منصوبوںکومقررہ مدت میں مکمل کیا جائے۔ آئی جی سندھ فیاض خان لغاری نے کہا ہے کہ صدر آصف علی زرداری نے سندھ پولیس کو ہدایت کی ہے کہ وہ کسی سیاسی دبائو کے بغیر کام کرے اور دہشت گردوں وجرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلا تفریق کارروائی کرے۔ آئی جی سندھ نے کہا کہ صدر نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ کراچی میں کمیونٹی پولیسنگ کا نظام فوری طور پر شروع کیا جائے اور ٹارگٹڈ آپریشن کو جاری رکھا جائے۔

Recommended Stories

Load Next Story