میئرڈپٹی میئرکا انتخاب شوآف ہینڈ سے ہوگا سندھ اسمبلی میں ترمیمی بل منظوراپوزیشن کا شدید احتجاج
وزیرتعلیم نثارکھوڑونے ترمیمی بل کاایجنڈاپیش کیاتواپوزیشن ارکان نے کاپیاں پھاڑدیں،ایوان میںشدید نعرے بازی اورشورشرابہ
قومی شماریاتی ادارے میں تمام صوبوں کی نمائندگی اور وی آئی پی کلچرکے خاتمے سمیت دیگر5 قراردادیں بھی منظور فوٹو: فائل
سندھ اسمبلی نے گزشتہ روزسندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترمیم کا بل کثرت رائے سے منظور کرلیا۔
بل کے مطابق بلدیاتی اداروں کے میئرز،ڈپٹی میئرز،چیئرمین اورڈپٹی چیئرمین کے انتخابات میں خفیہ رائے شماری کے بجائے شو آف ہینڈ سے رائے شماری ہوگی،متحدہ قومی موومنٹ سمیت حزب اختلاف کے ارکان نے ترمیمی بل کے خلاف سخت احتجاج کیا،ایوان میں نعرے بازی کی اور بل کی کاپیاں پھاڑدیں، تحریک انصاف کے اراکین نے بل کی مخالفت نہیں کی۔
سندھ اسمبلی میں گزشتہ روز پرائیویٹ ممبرزڈے تھا،نجی قرار دادوں کے وقفے کے بعدسینئروزیرنثاراحمدکھوڑونے سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 میں ترمیم کابل پیش کرنے کیلیے اچانک ضمنی ایجنڈاپیش کیا،اپوزیشن لیڈرخواجہ اظہارالحسن نے کہاکہ آج پرائیویٹ ممبرزڈے ہے،پرائیویٹ ممبرزکے بل بھی ایجنڈے میں موجودہیں،انھیں یہ بل پیش کرنے کا موقع دیا جائے۔سینئروزیرنثاراحمدکھوڑونے کہاکہ بلدیاتی اداروں کے ایوان مکمل ہونے جارہے ہیں،ہم نہیں چاہتے کہ ان میںکوئی رکاوٹ ہو،میئرز،ڈپٹی میئرزاورچیئرمینوں کے انتخابات کیلیے کاغذات نامزدگی20جنوری سے جمع ہونا شروع ہوں گے،اس لیے اس بل کی منظوری ضروری ہے۔
اسپیکرنے اپوزیشن ارکان سے کہاکہ وہ حکومت سے ہمیشہ تعاون کرتے رہے ہیں،اس معاملے پربھی تعاون کریں تاہم اپوزیشن کے ارکان''نونونو ''اور''گو کرپشن گو''کے نعرے لگاتے رہے۔اپوزیشن کے احتجاج اورشورشرابے کے دوران بل کثرت رائے سے متعارف اورمنظورکرلیاگیا۔قبل ازیں سندھ اسمبلی نے ایک متفقہ قرار داد منظور کرتے ہوئے خانہ شماری3دن کے اندر کرانے کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ قومی شماریاتی ادارے میں تمام صوبوں کونمائندگی دی جائے اورمردم و خانہ شماری کرانے کے طریقہ کار طے کرنے کے لیے تمام صوبوں سے مشاورت کی جائے۔
ایوان نے وی آئی پی کلچر اور وی آئی پی پروٹوکول کے خلاف بھی ایک قرار داد اتفاق رائے سے منظور کرلی ۔ قرار داد میں کہا گیا کہ وی آئی پی کلچر / پروٹوکول سے متاثرہ خاندانوں کو افسوس ناک اور ناقابل تلافی نقصان پہنچاہے ۔ یہ قرار داد متحدہ قومی موومنٹ ( ایم کیو ایم ) کے رکن کامران اختر نے پیش کی تھی ۔ایوان میں پاکستانی خاتون شرمین عبیدچنائے کو خراج تحسین پیش کیا گیا،جس کی غیرت کے نام پر قتل کے موضوع پربنائی گئی ایک دستاویزی فلم کوآسکرایوارڈ کیلیے نامزدکردیاگیا۔یہ قراردادمتحدہ قومی موومنٹ(ایم کیوایم) کی خاتون رکن نائلہ منیرنے پیش کی تھی۔
2علیحدہ علیحدہ قراردادوںکے ذریعے سندھ اسمبلی نے مطالبہ کیاکہ صوبے کے ہرڈویژنل ہیڈکوارٹرمیں ایئرایمبولینس سروس شروع کی جائے اورصوبے کے تمام اضلاع میں جدیدسہولتوں کے ساتھ فائربریگیڈاسٹیشنزقائم کیے جائیں، دونوں قراردادیں اتفاق رائے سے منظورکی گئیں۔بعد ازاں ایم کیوایم کی خاتون رکن ہیراسماعیل سوہواورنائلہ منیرنے تحریک التواپیش کی،جس میں کہاگیاکہ 249ترقیاتی اسکیموں کے فنڈزبندکردیے گئے ہیں۔
قبل ازیں محکمہ تعلیم سے متعلق وقفہ سوالات کے دوران متعددارکان کے تحریری اورضمنی سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے سینئروزیرتعلیم و پارلیمانی امورنثاراحمد کھوڑو نے کہاکہ نئے پرائمری اسکولز کھولنے پر پابندی کے فیصلے پرنظرثانی ہونی چاہیے کیونکہ صوبے کے شہری اوردیہی علاقوں کی آبادی میں اضافہ ہوگیاہے۔انھوں نے بتایاکہ سندھ میں اس وقت بھی4200اسکولزبندہیں جبکہ1300اسکولزکھلنے کے قابل نہیں ہیں،کل 39890 اسکولزفعال ہیں۔
بل کے مطابق بلدیاتی اداروں کے میئرز،ڈپٹی میئرز،چیئرمین اورڈپٹی چیئرمین کے انتخابات میں خفیہ رائے شماری کے بجائے شو آف ہینڈ سے رائے شماری ہوگی،متحدہ قومی موومنٹ سمیت حزب اختلاف کے ارکان نے ترمیمی بل کے خلاف سخت احتجاج کیا،ایوان میں نعرے بازی کی اور بل کی کاپیاں پھاڑدیں، تحریک انصاف کے اراکین نے بل کی مخالفت نہیں کی۔
سندھ اسمبلی میں گزشتہ روز پرائیویٹ ممبرزڈے تھا،نجی قرار دادوں کے وقفے کے بعدسینئروزیرنثاراحمدکھوڑونے سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 میں ترمیم کابل پیش کرنے کیلیے اچانک ضمنی ایجنڈاپیش کیا،اپوزیشن لیڈرخواجہ اظہارالحسن نے کہاکہ آج پرائیویٹ ممبرزڈے ہے،پرائیویٹ ممبرزکے بل بھی ایجنڈے میں موجودہیں،انھیں یہ بل پیش کرنے کا موقع دیا جائے۔سینئروزیرنثاراحمدکھوڑونے کہاکہ بلدیاتی اداروں کے ایوان مکمل ہونے جارہے ہیں،ہم نہیں چاہتے کہ ان میںکوئی رکاوٹ ہو،میئرز،ڈپٹی میئرزاورچیئرمینوں کے انتخابات کیلیے کاغذات نامزدگی20جنوری سے جمع ہونا شروع ہوں گے،اس لیے اس بل کی منظوری ضروری ہے۔
اسپیکرنے اپوزیشن ارکان سے کہاکہ وہ حکومت سے ہمیشہ تعاون کرتے رہے ہیں،اس معاملے پربھی تعاون کریں تاہم اپوزیشن کے ارکان''نونونو ''اور''گو کرپشن گو''کے نعرے لگاتے رہے۔اپوزیشن کے احتجاج اورشورشرابے کے دوران بل کثرت رائے سے متعارف اورمنظورکرلیاگیا۔قبل ازیں سندھ اسمبلی نے ایک متفقہ قرار داد منظور کرتے ہوئے خانہ شماری3دن کے اندر کرانے کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ قومی شماریاتی ادارے میں تمام صوبوں کونمائندگی دی جائے اورمردم و خانہ شماری کرانے کے طریقہ کار طے کرنے کے لیے تمام صوبوں سے مشاورت کی جائے۔
ایوان نے وی آئی پی کلچر اور وی آئی پی پروٹوکول کے خلاف بھی ایک قرار داد اتفاق رائے سے منظور کرلی ۔ قرار داد میں کہا گیا کہ وی آئی پی کلچر / پروٹوکول سے متاثرہ خاندانوں کو افسوس ناک اور ناقابل تلافی نقصان پہنچاہے ۔ یہ قرار داد متحدہ قومی موومنٹ ( ایم کیو ایم ) کے رکن کامران اختر نے پیش کی تھی ۔ایوان میں پاکستانی خاتون شرمین عبیدچنائے کو خراج تحسین پیش کیا گیا،جس کی غیرت کے نام پر قتل کے موضوع پربنائی گئی ایک دستاویزی فلم کوآسکرایوارڈ کیلیے نامزدکردیاگیا۔یہ قراردادمتحدہ قومی موومنٹ(ایم کیوایم) کی خاتون رکن نائلہ منیرنے پیش کی تھی۔
2علیحدہ علیحدہ قراردادوںکے ذریعے سندھ اسمبلی نے مطالبہ کیاکہ صوبے کے ہرڈویژنل ہیڈکوارٹرمیں ایئرایمبولینس سروس شروع کی جائے اورصوبے کے تمام اضلاع میں جدیدسہولتوں کے ساتھ فائربریگیڈاسٹیشنزقائم کیے جائیں، دونوں قراردادیں اتفاق رائے سے منظورکی گئیں۔بعد ازاں ایم کیوایم کی خاتون رکن ہیراسماعیل سوہواورنائلہ منیرنے تحریک التواپیش کی،جس میں کہاگیاکہ 249ترقیاتی اسکیموں کے فنڈزبندکردیے گئے ہیں۔
قبل ازیں محکمہ تعلیم سے متعلق وقفہ سوالات کے دوران متعددارکان کے تحریری اورضمنی سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے سینئروزیرتعلیم و پارلیمانی امورنثاراحمد کھوڑو نے کہاکہ نئے پرائمری اسکولز کھولنے پر پابندی کے فیصلے پرنظرثانی ہونی چاہیے کیونکہ صوبے کے شہری اوردیہی علاقوں کی آبادی میں اضافہ ہوگیاہے۔انھوں نے بتایاکہ سندھ میں اس وقت بھی4200اسکولزبندہیں جبکہ1300اسکولزکھلنے کے قابل نہیں ہیں،کل 39890 اسکولزفعال ہیں۔