31دسمبرتک ڈالرکی قیمت 100روپے سے بڑھنے کاخدشہ
بڑے پیمانے پر خریداری،اوپن مارکیٹ میں 70سے 80کروڑ ڈالرکی خریداری ہوئی
بڑے پیمانے پر خریداری،اوپن مارکیٹ میں 70سے 80کروڑ ڈالرکی خریداری ہوئی. فوٹو: اے ایف پی/ فائل
حکومت کی طرف سے آئی ایم ایف کورواں ماہ نومبرسے فروری2013کے درمیان تقریباً پونے2ارب ڈالرقرضے کی واپسی کے باعث31دسمبرتک ڈالرکی قیمت میں10فیصداضافے سے100روپے سے بڑھنے کاخدشہ ہے۔
فنانشل مارکیٹ کے پنڈتوں اورکرنسی کے کاروبارمیں سرمایہ کاری کرنے والوں نے بڑے پیمانے پرڈالرکی خریداری شروع کردی،گزشتہ2سے3روز کے دوران اوپن مارکیٹ سے70سے 80کروڑ ڈالرکی خریداری ہوئی ہے۔حکومت پاکستان اورآئی ایم ایف کے درمیان معاہدے کے مطابق ہمیں نومبرسے مئی 2012تک قرض کی واپسی کی مدمیں2.2ارب ڈالرعالمی مالیاتی فنڈکوواپس اداکرنا ہوں گے۔وزارت خزانہ بالخصوص فنانس ڈویژن کے کرتادھرتااس بارے میں پریشان ہیںکہ6ماہ میں سوا2ارب ڈالرکی رقم کاانتظام کیوں ہوگا،دوسری جانب حکومت پاکستان کے پاس واحدراستہ یہ ہے کہ آئی ایم ایف کوقسطوں کی ادائیگی کیلیے زرمبادلہ کے ذخائرکواستعمال کیا جائے۔
شیڈول کے مطابق حکومت پاکستان کونومبر2012میں600ملین ڈالرسے زائد،فروری2013 میں 1.1 ارب ڈالر اور مئی 2013 میں500ملین ڈالر آئی ایم ایف کو ادا کرنا ہوں گے۔ 500 ملین ڈالرحکومت پاکستان پہلے ہی2010میں آئی ایم ایف کوادا کرچکی،خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ آئندہ6ماہ کے دوران اتنی بڑی رقم کی ادائیگی کے نتیجے میں جہاں زرمبادلہ کے ذخائرمیں مزیدکمی ہوگی جوپہلے ہی2011کی سوا 18 ارب ڈالرکی سطح سے گرکر14ارب ڈالرکی سطح پرآچکے ہیں جبکہ6ماہ کے دوران سوا2ارب ڈالرکی رقم کے اخراج کے نتیجے میں زری مارکیٹ میں ڈالرکی مانگ ایک دم بڑھ جائے گی۔
فنانشل مارکیٹ کے پنڈتوں اورکرنسی کے کاروبارمیں سرمایہ کاری کرنے والوں نے بڑے پیمانے پرڈالرکی خریداری شروع کردی،گزشتہ2سے3روز کے دوران اوپن مارکیٹ سے70سے 80کروڑ ڈالرکی خریداری ہوئی ہے۔حکومت پاکستان اورآئی ایم ایف کے درمیان معاہدے کے مطابق ہمیں نومبرسے مئی 2012تک قرض کی واپسی کی مدمیں2.2ارب ڈالرعالمی مالیاتی فنڈکوواپس اداکرنا ہوں گے۔وزارت خزانہ بالخصوص فنانس ڈویژن کے کرتادھرتااس بارے میں پریشان ہیںکہ6ماہ میں سوا2ارب ڈالرکی رقم کاانتظام کیوں ہوگا،دوسری جانب حکومت پاکستان کے پاس واحدراستہ یہ ہے کہ آئی ایم ایف کوقسطوں کی ادائیگی کیلیے زرمبادلہ کے ذخائرکواستعمال کیا جائے۔
شیڈول کے مطابق حکومت پاکستان کونومبر2012میں600ملین ڈالرسے زائد،فروری2013 میں 1.1 ارب ڈالر اور مئی 2013 میں500ملین ڈالر آئی ایم ایف کو ادا کرنا ہوں گے۔ 500 ملین ڈالرحکومت پاکستان پہلے ہی2010میں آئی ایم ایف کوادا کرچکی،خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ آئندہ6ماہ کے دوران اتنی بڑی رقم کی ادائیگی کے نتیجے میں جہاں زرمبادلہ کے ذخائرمیں مزیدکمی ہوگی جوپہلے ہی2011کی سوا 18 ارب ڈالرکی سطح سے گرکر14ارب ڈالرکی سطح پرآچکے ہیں جبکہ6ماہ کے دوران سوا2ارب ڈالرکی رقم کے اخراج کے نتیجے میں زری مارکیٹ میں ڈالرکی مانگ ایک دم بڑھ جائے گی۔