مصالحت مشن کی تکمیل ناگزیر ہے

سعودی عرب اور ایران میں مصالحت مشرق وسطیٰ میں پیدا شدہ بحران کے خاتمہ کے لیے ایک تاریخی کوشش ہے

ایران و سعودی عرب خطے کے دو طاقتور کردار ہیں جب کہ علاقے میں شام و یمن کی صورتحال بھی امن و مفاہمت کی متقاضی ہے۔ فوٹو : آئی این پی

سعودی عرب اور ایران کے مابین تنازع کے خاتمہ اور صلح ، مفاہمت اور ثالثی کے لیے وزیر اعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف سعودی عرب سے ایران پہنچے جہاں انھوں نے ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔ وزیر اعظم نواز شریف نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان تنازعے کے خاتمے کو مقدس مشن قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب اور ایران بات چیت کرنے پر رضا مند ہیں جب کہ پاکستان دونوں ممالک کی میزبانی چاہتا ہے جس پر ایران نے آمادگی ظاہر کر دی تاہم سعودی عرب سے پوچھنا باقی ہے۔

سعودی عرب اور ایران میں مصالحت مشرق وسطیٰ میں پیدا شدہ بحران کے خاتمہ کے لیے ایک تاریخی کوشش ہے جس میں کامیابی کے امکانات پر ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا تاہم وزیر اعظم نواز شریف کے اس بیان سے امید و توقعات کا افق قدرے روشن نظر آتا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ ایران اور سعودی عرب دونوں بات چیت پر رضامند ہیں اور ان سے ملاقات نے حوصلہ دیا ہے کہ اس مقدس مشن کی تکمیل ہو جائے۔ دوسری طرف آرمی چیف جنرل راحیل کی وفد میں شمولیت سے دونوں برادر ملکوں سے امن و مفاہمت کی بات چیت کا دائرہ عالمی دہشت گردی کے مضمرات اور خطے میں امن کے دائمی قیام جب کہ اس کے منفی اثرات پر وسیع تناظر میں تبادلہ خیال تقاضائے وقت ہے۔

ایران کے دارالحکومت تہران میں وزیر اعظم نواز شریف نے ایرانی صدر حسن روحانی سے ملاقات کی جس میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف سمیت معاون خصوصی طارق فاطمی اور سیکریٹری فواد حسن فواد، ایران میں پاکستانی سفیر نور محمد بھی موجود تھے۔ ملاقات 30 منٹ کی طے تھی مگر یہ ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہی جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ایرانی قیادت نے کتنی توجہ اور دل جمعی سے پاکستانی مشن کی معروضات سنیں، اسی ملاقات میں ایران اور پاکستان نے سعودی عرب سے تنازع کے حل کے لیے فوکل پرسن مقرر کرنے کا فیصلہ کیا جب کہ سعودی عرب سے بھی فوکل پرسن مقرر کرنے کے معاملے پر بات کی جائے گی۔

ایرانی صدر سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ قرآن پاک کا حکم ہے کہ جب 2 بھائی لڑ پڑیں تو ان میں صلح کرا دیا کرو، سعودی عرب اور ایران تنازعے کا خاتمہ مقدس مشن ہے جب کہ دونوں ممالک کے درمیان مصالحت کسی کے کہنے پر نہیں کی بلکہ پاکستان اپنا فرض نبھا رہا ہے۔ وزیر اعظم کا یہ کہنا صائب ہے کہ 1997ء میں بھی ہم نے سعودی شاہ عبداللہ اور ایرانی صدر ہاشمی رفسنجانی کے درمیان رابطہ کرایا تھا۔ تاریخی حقیقت یہ ہے کہ ایران و سعودی مفاہمت خطے کے عظیم تر مفاد میں ہے، خدانخواستہ صورتحال ابتری کی سمت مڑی تو خطے کا منظر نامہ کس قدر ہولناک ہو سکتا ہے ۔


اس کا تصور بھی محال ہو گا، اس لیے کہ عالمی استعماری قوتوں کے طے کردہ عالمی سیاسی جغرافیہ نے مشرق وسطیٰ کو زمانہ سے جنگی تھیٹر بنا دیا ہے جہاں اس وقت بھی پراکسی وار، دہشت گردی، جارحیت، داخلی بدامنی اور بداعتمادی نے مسلم دنیا کو عجیب انتشار و افتراق میں الجھا دیا ہے، پاکستان گہرے ادراک اور ایک ایٹمی مسلم طاقت کی حیثیت سے اسے اپنا فرض سمجھتا ہے کہ سعودی ایران تنازع بات چیت سے حل ہو جائے۔

ادھر مغرب اسے مذہب سے زیادہ سیاسی اور خطے میں بالادستی کی جنگ کہہ کر امن کے قیام کے لیے ٹھوس اقدامات کی بجائے صرف زبانی جمع خرچ تک محدود ہے اور اپنے مخصوص مفادات کے لیے قیاس آرائیوں کا بازار گرم رکھے ہوئے ہے جب کہ اس وقت ضرورت عالمی برادری کے فعال ترین کردار کی فوری ادائیگی کا ہے جس کے فقدان کے باعث یہ ذمے داری پاکستان نے قبول کی ہے۔ پاکستان نے عالم اسلام کی دو سربرآوردہ علاقائی طاقتوں کے باہمی تنازع کے خاتمہ کے لیے جو مثبت پیش قدمی کی ہے اس کا دنیا اپنے منطقی اور خوشگوار انجام تک پہنچنے کا بے تابی سے انتظار کر رہی ہے، وزیر اعظم نواز شریف نے یقین ظاہر کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جلد رابطوں کا آغاز ہو جائے گا۔

وزیر اعظم نے ایران کے وزیر دفاع حسین دہقان سے ہوائی اڈے پر مختصر ملاقات کی جب کہ بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے ایرانی وزیر دفاع سردار دہقان سے ملاقات میں کہا دہشت گردی عالمی خطرہ ہے جو خطے کو غیر مستحکم کر سکتی ہے، اس موقع پر وزیر دفاع دہقان نے خطے کی سیکیورٹی اور استحکام کے لیے کوششوں پر پاک فوج کے سربراہ اور پاکستانی عوام کا شکریہ ادا کیا ۔

امید واثق ہے کہ سعودیہ ایران تنازع کے تصفیہ کے لیے پاکستان نیک نیتی سے جس مقدس مشن کی تکمیل کے لیے کوشش کر رہا ہے اسے عالمی حمایت ہی نہیں بلکہ مکمل سفارتی، اخلاقی اور سیاسی معاونت بھی ملنی چاہیے، کیونکہ ایران سعودی کشیدگی تسلسل سے مشرق وسطیٰ کی سیاسی سماجی اور اقتصادی صورتحال علاقے کے دیگر ملکوں کے داخلی حالات کو بھی شدید متاثر کر سکتی ہے جو پہلے ہی دہشت گردی اور جنگوں سے نڈھال ہیں۔

پاکستان کے لیے یہ بہترین موقع ہے کہ وہ ایران اور سعودی قیادت کے ساتھ سفارتی محاذ پر ایک پرجوش مصالحتی پیکیج تک پہنچنے کی خوشخبری عالم اسلام کو دے۔ ایران و سعودی عرب خطے کے دو طاقتور کردار ہیں جب کہ علاقے میں شام و یمن کی صورتحال بھی امن و مفاہمت کی متقاضی ہے۔ لہٰذا پاکستان کو سفارتی محاذ پر عالمی حمایت کا ملنا ناگزیر ہے۔
Load Next Story