دہشتگردوں کیخلاف کثیرالجہتی حکمت عملی کی ضرورت
وزیراعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے دہشت گردوں کے خلاف جنگ پوری قوت سے جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
وزیراعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے دہشت گردوں کے خلاف جنگ پوری قوت سے جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ فوٹو: اے پی
KARACHI:
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے دہشت گردوں کے خلاف جنگ پوری قوت سے جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ وزیراعظم نے بدھ کو سوئٹزر لینڈ سے آرمی چیف کو ٹیلی فون کیا اور چارسدہ حملے کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم اور آرمی چیف کے درمیان اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حمایت کر رہی ہے لہٰذا یہ جنگ پوری قوت سے جاری رہے گی۔
وزیراعظم نے یونیورسٹی کے علاقے کو محفوظ بنانے میں فوری ردعمل پر آرمی یونٹس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ انھوں نے تمام سیکیورٹی ایجنسیوں کو ہدایت کی کہ وہ چارسدہ حملے میں دہشت گردوں کے سرپرستوں اور مالی معاونت کرنے والوں کا سراغ لگائیں۔ قبل ازیں وزیراعظم نوازشریف نے چارسدہ کی باچا خان یونیورسٹی پر دہشت گردی کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ معصوم طلبا اور شہریوں کو قتل کرنے والوں کا کوئی مذہب اور عقیدہ نہیں ہوتا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم وطنوں کی قربانیاں ضایع نہیں جانے دیں گے اورملک سے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔
حملے کے بعد آرمی چیف جنرل راحیل شریف فوراً وہاں پہنچے اور یونیورسٹی کا جائزہ لیا اور پاک فوج کی بروقت کارروائی کو سراہا۔ آرمی چیف نے کہا کہ دہشت گردوں کو ملک کے کسی کونے میں چھپنے نہیں دیں گے، وہ وقت دور نہیں جب پاکستان سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق چارسدہ حملے کو افغانستان کے ایک مقام سے کنٹرول کیا گیا، اس سلسلے میں جمعرات کو آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے افغان صدر اشرف غنی اور افغان چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کو فون کیا۔
امریکا، بھارت، چین، ایران، افغانستان، مالدیپ، یورپی یونین، ترکی سمیت دیگر ممالک نے باچاخان یونیورسٹی چارسدہ پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملہ دہشت گردی ہے وہ پاکستان کے ساتھ ہیں۔ آئی ایس پی آر کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کور ہیڈکوارٹر پشاور میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ حملے میں 18 طالب علم، 2 اسٹاف ممبرز شہید جب کہ 11 افراد زخمی ہوئے، دہشت گردوں کے حوالے سے تمام معلومات اکٹھی کر لی گئی ہیں، دہشت گرد کون تھے۔
کہاں سے کنٹرول ہوا، افغان سمیں استعمال کی گئیں، ایک دہشت گرد کے مرنے کے بعد بھی کالز آتی رہیں، آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے آپس میں رابطے ہوتے رہے، انھیں کس نے بھیجا پتہ چل گیا، موبائل فون سے زیادہ سے زیادہ ڈیٹا اکٹھا کیا گیا، فرانزک اور فنگر پرنٹس نادرا کو بھیج دیے، معلومات کی بنیاد پر مختلف علاقوں میں آپریشن شروع کر دیا اور سہولت کاروں کو ملک بھر سے پکڑا جا رہا ہے۔ دہشت گردوں کے حملوں سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ وہ تعلیمی اداروں کو خصوصی طور پر نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس سے قبل انھوں نے پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر حملہ کیا تھا۔
اس کے علاوہ صوبہ خیبرپختونخوا میں بھی وہ بڑی تعداد میں تعلیمی اداروں کو نشانہ بنا چکے ہیں۔ آپریشن ضرب عضب میں فوج نے دہشت گردوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے جس کے باعث دہشت گردی کی وارداتوں میں خاطرخواہ کمی آئی لیکن باچاخان یونیورسٹی، جمرود اور کوئٹہ میں ہونے والے حالیہ حملے اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ ملک بھر میں دہشت گردوں کا نیٹ ورک مضبوط ہے اور وہ کسی بھی وقت کوئی بڑی کارروائی کر سکتے ہیں۔ چارسدہ یونیورسٹی پر ہونے والے حملے نے سیکیورٹی اقدامات کے حوالے سے بہت سے سوالات اٹھائے ہیں جس کے بعد تجزیہ نگار یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمارے تعلیمی اداروں کے علاوہ اہم تنصیبات میں سیکیورٹی کے انتظامات انتہائی کمزور ہیں اور دہشت گرد انھیں کسی بھی وقت باآسانی نشانہ بنا سکتے ہیں۔
آرمی پبلک اسکول پر حملے کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ملک بھر میں تمام تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے جاتے، کمانڈوز کی چیک پوسٹیں بنائی جاتیں تاکہ کسی بھی متوقع دہشت گردی کے واقعے کو ناکام بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ یہ بات سامنے آئی ہے کہ دہشت گرد باآسانی پاک افغان سرحد کے آرپار چلے جاتے ہیں۔ دہشت گردی روکنے کے لیے افغان سرحد پر سیکیورٹی کے انتظامات سخت سے سخت کرنا ہوں گے اور بڑی تعداد میں لوگوں کی آمد ورفت کو کنٹرول کرنا ہو گا کیونکہ اس کی آڑ میں دہشت گرد پاکستان میں گھس آتے ہیں۔
پاک افغان سرحد پر باڑ نصب کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت بن گئی ہے۔ دوسری جانب اندرون ملک ان کے سہولت کاروں کے خلاف بھی بڑے پیمانے پر آپریشن کرنا ہو گا۔ بعض حلقوں کی جانب سے یہ شکایت بھی سامنے آئی ہے کہ وفاقی، صوبائی سیکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کے مابین مربوط رابطوں کی کمی کے باعث بھی دہشت گردی کے واقعات پر قابو پانے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ حکومت کو اس جانب بھی توجہ دینی چاہیے اور صوبائی سطح پر تمام سیکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کے مابین باہمی رابطوں اور انفارمیشن شیئرنگ کا نظام بہتر بنانا چاہیے ۔ ضروری ہے کہ دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے کثیرالجہتی حکمت عملی پر کام کیا جائے۔
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے دہشت گردوں کے خلاف جنگ پوری قوت سے جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ وزیراعظم نے بدھ کو سوئٹزر لینڈ سے آرمی چیف کو ٹیلی فون کیا اور چارسدہ حملے کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم اور آرمی چیف کے درمیان اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حمایت کر رہی ہے لہٰذا یہ جنگ پوری قوت سے جاری رہے گی۔
وزیراعظم نے یونیورسٹی کے علاقے کو محفوظ بنانے میں فوری ردعمل پر آرمی یونٹس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ انھوں نے تمام سیکیورٹی ایجنسیوں کو ہدایت کی کہ وہ چارسدہ حملے میں دہشت گردوں کے سرپرستوں اور مالی معاونت کرنے والوں کا سراغ لگائیں۔ قبل ازیں وزیراعظم نوازشریف نے چارسدہ کی باچا خان یونیورسٹی پر دہشت گردی کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ معصوم طلبا اور شہریوں کو قتل کرنے والوں کا کوئی مذہب اور عقیدہ نہیں ہوتا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم وطنوں کی قربانیاں ضایع نہیں جانے دیں گے اورملک سے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔
حملے کے بعد آرمی چیف جنرل راحیل شریف فوراً وہاں پہنچے اور یونیورسٹی کا جائزہ لیا اور پاک فوج کی بروقت کارروائی کو سراہا۔ آرمی چیف نے کہا کہ دہشت گردوں کو ملک کے کسی کونے میں چھپنے نہیں دیں گے، وہ وقت دور نہیں جب پاکستان سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق چارسدہ حملے کو افغانستان کے ایک مقام سے کنٹرول کیا گیا، اس سلسلے میں جمعرات کو آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے افغان صدر اشرف غنی اور افغان چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کو فون کیا۔
امریکا، بھارت، چین، ایران، افغانستان، مالدیپ، یورپی یونین، ترکی سمیت دیگر ممالک نے باچاخان یونیورسٹی چارسدہ پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملہ دہشت گردی ہے وہ پاکستان کے ساتھ ہیں۔ آئی ایس پی آر کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کور ہیڈکوارٹر پشاور میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ حملے میں 18 طالب علم، 2 اسٹاف ممبرز شہید جب کہ 11 افراد زخمی ہوئے، دہشت گردوں کے حوالے سے تمام معلومات اکٹھی کر لی گئی ہیں، دہشت گرد کون تھے۔
کہاں سے کنٹرول ہوا، افغان سمیں استعمال کی گئیں، ایک دہشت گرد کے مرنے کے بعد بھی کالز آتی رہیں، آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے آپس میں رابطے ہوتے رہے، انھیں کس نے بھیجا پتہ چل گیا، موبائل فون سے زیادہ سے زیادہ ڈیٹا اکٹھا کیا گیا، فرانزک اور فنگر پرنٹس نادرا کو بھیج دیے، معلومات کی بنیاد پر مختلف علاقوں میں آپریشن شروع کر دیا اور سہولت کاروں کو ملک بھر سے پکڑا جا رہا ہے۔ دہشت گردوں کے حملوں سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ وہ تعلیمی اداروں کو خصوصی طور پر نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس سے قبل انھوں نے پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر حملہ کیا تھا۔
اس کے علاوہ صوبہ خیبرپختونخوا میں بھی وہ بڑی تعداد میں تعلیمی اداروں کو نشانہ بنا چکے ہیں۔ آپریشن ضرب عضب میں فوج نے دہشت گردوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے جس کے باعث دہشت گردی کی وارداتوں میں خاطرخواہ کمی آئی لیکن باچاخان یونیورسٹی، جمرود اور کوئٹہ میں ہونے والے حالیہ حملے اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ ملک بھر میں دہشت گردوں کا نیٹ ورک مضبوط ہے اور وہ کسی بھی وقت کوئی بڑی کارروائی کر سکتے ہیں۔ چارسدہ یونیورسٹی پر ہونے والے حملے نے سیکیورٹی اقدامات کے حوالے سے بہت سے سوالات اٹھائے ہیں جس کے بعد تجزیہ نگار یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمارے تعلیمی اداروں کے علاوہ اہم تنصیبات میں سیکیورٹی کے انتظامات انتہائی کمزور ہیں اور دہشت گرد انھیں کسی بھی وقت باآسانی نشانہ بنا سکتے ہیں۔
آرمی پبلک اسکول پر حملے کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ملک بھر میں تمام تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے جاتے، کمانڈوز کی چیک پوسٹیں بنائی جاتیں تاکہ کسی بھی متوقع دہشت گردی کے واقعے کو ناکام بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ یہ بات سامنے آئی ہے کہ دہشت گرد باآسانی پاک افغان سرحد کے آرپار چلے جاتے ہیں۔ دہشت گردی روکنے کے لیے افغان سرحد پر سیکیورٹی کے انتظامات سخت سے سخت کرنا ہوں گے اور بڑی تعداد میں لوگوں کی آمد ورفت کو کنٹرول کرنا ہو گا کیونکہ اس کی آڑ میں دہشت گرد پاکستان میں گھس آتے ہیں۔
پاک افغان سرحد پر باڑ نصب کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت بن گئی ہے۔ دوسری جانب اندرون ملک ان کے سہولت کاروں کے خلاف بھی بڑے پیمانے پر آپریشن کرنا ہو گا۔ بعض حلقوں کی جانب سے یہ شکایت بھی سامنے آئی ہے کہ وفاقی، صوبائی سیکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کے مابین مربوط رابطوں کی کمی کے باعث بھی دہشت گردی کے واقعات پر قابو پانے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ حکومت کو اس جانب بھی توجہ دینی چاہیے اور صوبائی سطح پر تمام سیکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کے مابین باہمی رابطوں اور انفارمیشن شیئرنگ کا نظام بہتر بنانا چاہیے ۔ ضروری ہے کہ دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے کثیرالجہتی حکمت عملی پر کام کیا جائے۔