داعش کے خلاف 7 طاقتوں کے وزرائے خارجہ کا اجلاس
برطانوی وزیر دفاع مائیکل فالن کا کہنا تھا کہ انھیں اپنی حکمت عملی از سر نو ترتیب دینی چاہیے۔
برطانوی وزیر دفاع مائیکل فالن کا کہنا تھا کہ انھیں اپنی حکمت عملی از سر نو ترتیب دینی چاہیے۔ فوٹو؛ فائل
داعش کے خلاف جنگ کرنے والے 7 مغربی ملکوں کے وزرائے دفاع گزشتہ روز پیرس میں اکٹھے ہوئے تا کہ اپنی حکمت عملی کا جائزہ لے سکیں۔ اس اجلاس کی میزبانی فرانسیسی اور امریکی وزرائے دفاع ژاں ییویس لو ڈریان اور ایشٹن کارٹر نے کی جس میں آسٹریلیا، برطانیہ، ہالینڈ، جرمنی اور اٹلی کے ہم منصب شریک ہوئے۔
برطانوی وزیر دفاع مائیکل فالن کا کہنا تھا کہ انھیں اپنی حکمت عملی از سر نو ترتیب دینی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ داعش کو اگرچہ عراق میں خاصہ نقصان پہنچایا جا چکا ہے مگر اس کا دوسرا گڑھ شام میں ہے جہاں اسے قابو میں کرنے کی ضرورت ہے۔ برطانوی وزیر دفاع نے مزید کہا کہ اس کے ساتھ ہی داعش کے خلاف اتحاد قائم کرنے والے ممالک کو دنیا کے دیگر ممالک پر بھی نظر رکھنی چاہیے جہاں داعش کے لیے بھرتیاں کی جا رہی ہیں۔
اس دفاعی کانفرنس میں روس کو شرکت کی دعوت نہیں دی گئی تھی کیونکہ روس کھل کر شام کے صدر بشارالاسد کے ساتھ کھڑا ہے۔ حالانکہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی سوئٹزر لینڈ کے شہر زیورچ میں اپنے روسی ہم منصب سر گئی کلاوروف سے ملاقات ہوئی ہے اور شام کے مسئلہ پر بات چیت بھی کی گئی ہے۔ ماسکو کے شام پر ہوائی حملوں کے بارے میں روسی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ بمباری آئی ایس کے خلاف کی جا رہی ہے تاہم برطانوی وزیر دفاع مائیکل فالن کا کہنا تھا کہ انھیں شام پر روسی بمباری پر سخت تشویش ہے کیونکہ یہ بمباری بشارالاسد کے مخالفین پر ہو رہی ہے۔
مذکورہ سات عالمی طاقتوں کے لیے سب سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ انھیں شام میں آئی ایس کے خلاف زمین پر لڑنے کے لیے جنگجو نہیں مل رہے البتہ ہوائی حملوں میں چونکہ حملہ آور کی اپنی جان کو کوئی خطرہ نہیں ہوتا لہذا ان حملوں میں مغرب فوجی بڑھ چرھ کر حصہ لیتے ہیں۔ شام میں ایک مصیبت یہ بھی ہے کہ زیادہ تر جنگجو گروپ بشارالاسد کی حکومت گرانے کی کوششوں میں مصروف ہیں جب کہ روس اور ایران کا اتحاد بشار حکومت کے مخالفین کو نشانہ بنا رہا ہے۔
اس لیے صورت حال انتہائی پیچیدہ ہو گئی ہے اور کسی کو سمجھ نہیں آ رہی کہ داعش کے خطرے سے کیسے نمٹا جائے۔ امریکا، سعودی عرب اور اس کے اتحادی چاہتے ہیں کہ شام میں بشار حکومت بھی ختم ہو جائے اور داعش کا بھی خاتمہ ہو جائے جب کہ روس اور ایران چاہتے ہیں کہ بشار حکومت قائم رہے اور داعش کا خاتمہ ہو جائے۔ یوں یہ بحران طویل سے طویل اور خون رنگ ہوتا جا رہا ہے۔
برطانوی وزیر دفاع مائیکل فالن کا کہنا تھا کہ انھیں اپنی حکمت عملی از سر نو ترتیب دینی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ داعش کو اگرچہ عراق میں خاصہ نقصان پہنچایا جا چکا ہے مگر اس کا دوسرا گڑھ شام میں ہے جہاں اسے قابو میں کرنے کی ضرورت ہے۔ برطانوی وزیر دفاع نے مزید کہا کہ اس کے ساتھ ہی داعش کے خلاف اتحاد قائم کرنے والے ممالک کو دنیا کے دیگر ممالک پر بھی نظر رکھنی چاہیے جہاں داعش کے لیے بھرتیاں کی جا رہی ہیں۔
اس دفاعی کانفرنس میں روس کو شرکت کی دعوت نہیں دی گئی تھی کیونکہ روس کھل کر شام کے صدر بشارالاسد کے ساتھ کھڑا ہے۔ حالانکہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی سوئٹزر لینڈ کے شہر زیورچ میں اپنے روسی ہم منصب سر گئی کلاوروف سے ملاقات ہوئی ہے اور شام کے مسئلہ پر بات چیت بھی کی گئی ہے۔ ماسکو کے شام پر ہوائی حملوں کے بارے میں روسی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ بمباری آئی ایس کے خلاف کی جا رہی ہے تاہم برطانوی وزیر دفاع مائیکل فالن کا کہنا تھا کہ انھیں شام پر روسی بمباری پر سخت تشویش ہے کیونکہ یہ بمباری بشارالاسد کے مخالفین پر ہو رہی ہے۔
مذکورہ سات عالمی طاقتوں کے لیے سب سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ انھیں شام میں آئی ایس کے خلاف زمین پر لڑنے کے لیے جنگجو نہیں مل رہے البتہ ہوائی حملوں میں چونکہ حملہ آور کی اپنی جان کو کوئی خطرہ نہیں ہوتا لہذا ان حملوں میں مغرب فوجی بڑھ چرھ کر حصہ لیتے ہیں۔ شام میں ایک مصیبت یہ بھی ہے کہ زیادہ تر جنگجو گروپ بشارالاسد کی حکومت گرانے کی کوششوں میں مصروف ہیں جب کہ روس اور ایران کا اتحاد بشار حکومت کے مخالفین کو نشانہ بنا رہا ہے۔
اس لیے صورت حال انتہائی پیچیدہ ہو گئی ہے اور کسی کو سمجھ نہیں آ رہی کہ داعش کے خطرے سے کیسے نمٹا جائے۔ امریکا، سعودی عرب اور اس کے اتحادی چاہتے ہیں کہ شام میں بشار حکومت بھی ختم ہو جائے اور داعش کا بھی خاتمہ ہو جائے جب کہ روس اور ایران چاہتے ہیں کہ بشار حکومت قائم رہے اور داعش کا خاتمہ ہو جائے۔ یوں یہ بحران طویل سے طویل اور خون رنگ ہوتا جا رہا ہے۔