صوبائی حکومتوں کے لیے لمحہ فکریہ

تھرپارکرمیں غذائی قلت کےباعث21روزمیں جاں بحق بچوں کی تعداد78 ہوگئی جب کہ مختلف اسپتالوں میں200 سےزائد بچے زیرعلاج ہیں

امید کی جانی چاہیے کہ صوبائی حکومتیں مختلف بیماریوں میں مبتلا شہریوں کو ہر ممکن طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائیں گی۔ فوٹو: فائل

قحط زدہ صحرا تھر میں حکومتی غفلت اور خوراک کی کمی نے مزید 9 بچوں کی جان لے لی، بچوں کی اموات کے بعد اب مویشی بھی ہلاک ہونا شروع ہو گئے، اطلاعات کے مطابق تھرپارکر میں غذائی قلت کے باعث 21 روز میں جاں بحق بچوں کی تعداد 78 ہو گئی، مختلف اسپتالوں میں 200 سے زائد بچے زیرعلاج ہیں، ادھر کراچی میں ڈینگی وائرس نے شدت اختیار کرتے ہوئے اپنا پیٹرن تبدیل کر دیا جو اب سرد موسم میں بھی صحت مند افراد کو متاثر کر رہا ہے، کراچی میں ایک ہفتے کے دوران مزید 49 افراد ڈینگی وائرس کا شکار ہو گئے۔

رواں ماہ میں 120 افراد ڈینگی وائرس میں مبتلا ہونے کی تصدیق کی گئی، یہ لمحہ فکریہ ہے کہ ملک کے سب سے بڑے شہر میں محکمہ صحت کے حکام کی عدم دلچسپی کی وجہ سے ڈینگی کنٹرول پروگرام کو رواں مالی سال کا مختص کردہ 50 ملین روپے کا بجٹ بھی فراہم نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے گندے نالوں میں مچھروں کے لاروے کے خاتمے کا کام بھی معطل کر دیا گیا جب کہ پروگرام کے تحت کراچی میں ایک بار بھی مچھر مار سپرے نہیں کیا جا سکا۔


محکمہ صحت پنجاب نے سوائن فلو کو سیزنل انفلوئنزا اے کا نام دیکر باقاعدہ اس بیماری کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ صوبہ بھر کے ای ڈی اوز ہیلتھ' اسپتالوں کے ایم ایس کو بھجوائے گئے مراسلہ میں کہا گیا ہے کہ حالیہ پھیلی ہوئی بیماری سوائن فلو نہیں بلکہ سیزنل انفلوئنزا اے (ایچ ون این ون) ہے، ملتان کے نشتر اسپتال میں سیزنل انفلوئنزا کے شبہ میں مجموعی طور پر 45 مریض لائے گئے ہیں جن میں سے20 میں مرض کی تصدیق ہوئی ہے۔ صوبائی حکومتوں کو صحت کے شعبوں میں جس مستعدی اور عوام کو طبی سہولتوں کی فوری فراہمی کا میکنزم وضع کرنا چاہیے اس میں حد درجہ کوتاہی اور تساہل کا عمل دخل ہے۔

ابھی تک سوائن فلو کی ماہیت اور اس کی تشخیص نہیں ہو سکی ہے، چنانچہ ایک اطلاع کے مطابق پنجاب کے بعض علاقوں میں سیزنل انفلوئنزا (سوائن فلو) کے خوف سے شہریوں نے مرغی کا گوشت کھانا کم کر دیا جس کے بعد طلب میں کمی سے اس کے نرخوں میں کمی آ گئی جب کہ پولٹری شاپس اور مختلف پرندوں کے حاصل کے گئے خون کے نمونوں میں سے کسی میں کوئی وائرس نہیں پایا گیا۔

اسی طرح تھر میں ہلاکتوں پر سندھ حکومت زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد کے مصداق اس بات سے انکاری ہے کہ تھرپارکر میں قحط نام کی کوئی تباہی آئی ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ صوبائی حکومتیں مختلف بیماریوں میں مبتلا شہریوں کو ہر ممکن طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائیں گی کیونکہ طبی ثمرات سے استفادہ تو ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔
Load Next Story