پاکستان میں دہشتگردی افغان حکومت کی ذمے داری
حیرت انگیز امر یہ ہے کہ افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج بھی تعینات ہیں مگر سرحد پرنگرانی کا انتظام انتہائی کمزورہے
پاکستان کو افغان حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے یہ مسئلہ اقوام متحدہ میں بھی اٹھانا چاہیے۔
LOS ANGELES:
چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے جمعرات کو افغان صدر اشرف غنی، چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ اور افغانستان میں تعینات امریکی فوج کے جنرل جان کیمبل کو الگ الگ ٹیلی فون کیے اور انھیں باچاخان یونیورسٹی چارسدہ پرہونے والے دہشت گرد حملے کی تحقیقات کے بارے میں آگاہ کیا۔
آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ کی جانب سے کی جانے والی ''ٹویٹس'' کے مطابق اب تک کی تحقیقات کے مطابق باچا خان یونیورسٹی پر ہونے والا دہشت گرد حملہ افغانستان سے افغان سیل فون کے ذریعے کنٹرول کیا جا رہا تھا، حملے کے دوران کالعدم ٹی ٹی پی کا ایک رکن دہشت گردوں کو فون پر ہدایات دیتا رہا۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے افغان قیادت اور امریکی فوج کے کمانڈر سے مطالبہ کیا کہ اس ہولناک حملے میں ملوث افراد کی لوکیشن کا پتہ کرنے، ان کو ٹارگٹ کرنے اور کیفرکردار تک پہنچانے کے سلسلے میں پاکستان سے تعاون کیا جائے۔
پاکستان میں دہشت گردی کے ہونے والے متعدد واقعات کے بارے میں جو معلومات سامنے آئیں ان کے مطابق ان کے ڈانڈے افغانستان میں ملتے رہے ہیں۔ پاکستان نے متعدد بار افغان قیادت سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی اور انھیں پاکستان کے حوالے کرنے کے لیے کہا لیکن افغان حکومت نے کبھی دہشت گردوں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن نہیں کیا جس سے اس شک کو تقویت ملی کہ افغان حکومت کے کچھ عہدیدار دہشت گردوں کی معاونت کر رہے اور افغان حکومت ان سے اغماض برت رہی ہے۔
بعض حلقوں کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ افغانستان میں بھارتی ایجنسی را نے تربیتی کیمپ قائم کر رکھے ہیں جہاں سے افغان ایجنسیوں کی معاونت سے دہشت گردوں کو پاکستان میں بھیجا جاتا ہے۔ اب پھر باچاخان یونیورسٹی پر ہونے والے حملے کے بارے میں ہونے والی تحقیقات کے مطابق جو اطلاعات سامنے آئی ہیں اس کے مطابق بھی دہشت گردی کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی اور دہشت گردوں کو وہیں سے ہدایات ملتی رہیں۔
ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ چارسدہ حملے میں افغان انٹیلی جنس ایجنسی کی ایک سابق اعلیٰ شخصیت ملوث ہے۔ خبر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس کے براہ راست ملوث ہونے کے ثبوت بھی ملے ہیں جن میں انکشاف ہوا ہے کہ افغانستان میں بھارتی قونصلیٹ نے حملے کے لیے ٹاسک دیا تھا۔ پاکستان سے فرار ہونے والے ملا فضل اللہ سمیت بہت سے دہشت گرد افغانستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ ایسی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں کہ ان کے بھارتی ایجنسیوں کے ساتھ قریبی مراسم ہیں۔
یہ صورت حال پاکستان کے لیے انتہائی پریشان کن ہے کہ دہشت گردوں کے حملوں کے باعث اس کی شمال مغربی سرحد سیکیورٹی رسک بن چکی ہے۔ اگرچہ پاکستانی سیکیورٹی ادارے افغان سرحد پر نگرانی کا انتظام بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں مگر چونکہ یہ ایک طویل اور مشکل پہاڑی علاقے پر مشتمل ہے اور سرحد کے آرپار لوگوں کے ایک دوسرے سے قریبی تعلقات بھی ہیں اس لیے دہشت گردوں کو کنٹرول کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ افغان حکومت پر بھی یہ بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے علاقے میں سرحدی نگرانی کا انتظام موثر بنائے۔
حیرت انگیز امر یہ ہے کہ افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج بھی تعینات ہیں مگر سرحد پر نگرانی کا انتظام انتہائی کمزور ہے جس کے باعث دہشت گرد پاکستان میں داخل ہو کر اپنی مذموم کارروائیاں کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ افغانستان میں جب کبھی دہشت گردی کا کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو وہاں کی حکومت اس کا الزام فوری طور پر پاکستان پر عائد کر دیتی ہے مگر اس نے اپنے علاقے میں موجود پاکستان کے مفرور دہشت گردوں کے خلاف کبھی کوئی کارروائی نہیں کی۔
اب جب پاکستان نے افغان قیادت اور امریکی فوج کے کمانڈر جنرل جان کیمبل سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی اور تعاون کا مطالبہ کیا ہے تو ان پر یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس سلسلے میں فوری کارروائی کریں۔ اگر افغان اور امریکی قیادت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حقیقی معنوں میں مخلص ہیں تو انھیں چاہیے کہ وہ پاکستان کے ساتھ مل کر لائحہ عمل طے کریں، بہتر ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ طور پر کارروائیاں کی جائیں۔
اگر اس سلسلے میں کوتاہی برتی گئی تو اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ دہشت گردی پر قابو پانا مشکل ہو جائے گا اور یہ مذموم سلسلہ وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا چلا جائے گا جس کے پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک کی سلامتی پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ بعض حلقوں کی جانب سے یہ مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے کہ پاکستان افغان سرحد کے ساتھ ساتھ خاردار تاریں نصب کرے تاکہ دہشت گردوں کی آمد ورفت روکی جا سکے۔ دہشت گردی کے خطرات بدستور موجود ہیں، انھیں روکنا اشد ضروری ہے۔ ملکی سلامتی سب سے پہلی ترجیح ہے۔ پاکستان کو افغان حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے یہ مسئلہ اقوام متحدہ میں بھی اٹھانا چاہیے۔
چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے جمعرات کو افغان صدر اشرف غنی، چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ اور افغانستان میں تعینات امریکی فوج کے جنرل جان کیمبل کو الگ الگ ٹیلی فون کیے اور انھیں باچاخان یونیورسٹی چارسدہ پرہونے والے دہشت گرد حملے کی تحقیقات کے بارے میں آگاہ کیا۔
آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ کی جانب سے کی جانے والی ''ٹویٹس'' کے مطابق اب تک کی تحقیقات کے مطابق باچا خان یونیورسٹی پر ہونے والا دہشت گرد حملہ افغانستان سے افغان سیل فون کے ذریعے کنٹرول کیا جا رہا تھا، حملے کے دوران کالعدم ٹی ٹی پی کا ایک رکن دہشت گردوں کو فون پر ہدایات دیتا رہا۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے افغان قیادت اور امریکی فوج کے کمانڈر سے مطالبہ کیا کہ اس ہولناک حملے میں ملوث افراد کی لوکیشن کا پتہ کرنے، ان کو ٹارگٹ کرنے اور کیفرکردار تک پہنچانے کے سلسلے میں پاکستان سے تعاون کیا جائے۔
پاکستان میں دہشت گردی کے ہونے والے متعدد واقعات کے بارے میں جو معلومات سامنے آئیں ان کے مطابق ان کے ڈانڈے افغانستان میں ملتے رہے ہیں۔ پاکستان نے متعدد بار افغان قیادت سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی اور انھیں پاکستان کے حوالے کرنے کے لیے کہا لیکن افغان حکومت نے کبھی دہشت گردوں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن نہیں کیا جس سے اس شک کو تقویت ملی کہ افغان حکومت کے کچھ عہدیدار دہشت گردوں کی معاونت کر رہے اور افغان حکومت ان سے اغماض برت رہی ہے۔
بعض حلقوں کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ افغانستان میں بھارتی ایجنسی را نے تربیتی کیمپ قائم کر رکھے ہیں جہاں سے افغان ایجنسیوں کی معاونت سے دہشت گردوں کو پاکستان میں بھیجا جاتا ہے۔ اب پھر باچاخان یونیورسٹی پر ہونے والے حملے کے بارے میں ہونے والی تحقیقات کے مطابق جو اطلاعات سامنے آئی ہیں اس کے مطابق بھی دہشت گردی کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی اور دہشت گردوں کو وہیں سے ہدایات ملتی رہیں۔
ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ چارسدہ حملے میں افغان انٹیلی جنس ایجنسی کی ایک سابق اعلیٰ شخصیت ملوث ہے۔ خبر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس کے براہ راست ملوث ہونے کے ثبوت بھی ملے ہیں جن میں انکشاف ہوا ہے کہ افغانستان میں بھارتی قونصلیٹ نے حملے کے لیے ٹاسک دیا تھا۔ پاکستان سے فرار ہونے والے ملا فضل اللہ سمیت بہت سے دہشت گرد افغانستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ ایسی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں کہ ان کے بھارتی ایجنسیوں کے ساتھ قریبی مراسم ہیں۔
یہ صورت حال پاکستان کے لیے انتہائی پریشان کن ہے کہ دہشت گردوں کے حملوں کے باعث اس کی شمال مغربی سرحد سیکیورٹی رسک بن چکی ہے۔ اگرچہ پاکستانی سیکیورٹی ادارے افغان سرحد پر نگرانی کا انتظام بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں مگر چونکہ یہ ایک طویل اور مشکل پہاڑی علاقے پر مشتمل ہے اور سرحد کے آرپار لوگوں کے ایک دوسرے سے قریبی تعلقات بھی ہیں اس لیے دہشت گردوں کو کنٹرول کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ افغان حکومت پر بھی یہ بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے علاقے میں سرحدی نگرانی کا انتظام موثر بنائے۔
حیرت انگیز امر یہ ہے کہ افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج بھی تعینات ہیں مگر سرحد پر نگرانی کا انتظام انتہائی کمزور ہے جس کے باعث دہشت گرد پاکستان میں داخل ہو کر اپنی مذموم کارروائیاں کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ افغانستان میں جب کبھی دہشت گردی کا کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو وہاں کی حکومت اس کا الزام فوری طور پر پاکستان پر عائد کر دیتی ہے مگر اس نے اپنے علاقے میں موجود پاکستان کے مفرور دہشت گردوں کے خلاف کبھی کوئی کارروائی نہیں کی۔
اب جب پاکستان نے افغان قیادت اور امریکی فوج کے کمانڈر جنرل جان کیمبل سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی اور تعاون کا مطالبہ کیا ہے تو ان پر یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس سلسلے میں فوری کارروائی کریں۔ اگر افغان اور امریکی قیادت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حقیقی معنوں میں مخلص ہیں تو انھیں چاہیے کہ وہ پاکستان کے ساتھ مل کر لائحہ عمل طے کریں، بہتر ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ طور پر کارروائیاں کی جائیں۔
اگر اس سلسلے میں کوتاہی برتی گئی تو اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ دہشت گردی پر قابو پانا مشکل ہو جائے گا اور یہ مذموم سلسلہ وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا چلا جائے گا جس کے پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک کی سلامتی پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ بعض حلقوں کی جانب سے یہ مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے کہ پاکستان افغان سرحد کے ساتھ ساتھ خاردار تاریں نصب کرے تاکہ دہشت گردوں کی آمد ورفت روکی جا سکے۔ دہشت گردی کے خطرات بدستور موجود ہیں، انھیں روکنا اشد ضروری ہے۔ ملکی سلامتی سب سے پہلی ترجیح ہے۔ پاکستان کو افغان حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے یہ مسئلہ اقوام متحدہ میں بھی اٹھانا چاہیے۔