او آئی سی اور عرب لیگ… چند معروضات

مسلم ممالک اگر ان تنظیموں کو فعال اور کارآمد بنانا چاہتے ہیں تو ان تنظیموں کے مینڈیٹ میں اضافہ کیا جائے

او آئی سی اور عرب لیگ کے تمام رکن ممالک مسلم ہیں لیکن عجیب بات یہ ہے کہ ان دونوں تنظیموں نے مسلم ممالک کے باہمی تنازعات یا دیگر ممالک کے ساتھ تنازعات نمٹانے میں کبھی فیصلہ کن کردار ادا نہیں کیا ،فوٹو: فائل

امت مسلمہ کے دو اہم ممالک میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے بارے میں کسی بھی عام آدمی سے اس کے حل کے بارے میں پوچھا جائے تو وہ یہی جواب دیگا جو ستاون مسلمان ملکوں کی تنظیم او آئی سی کے سیکریٹری جنرل عیاض مدنی نے ایران اور سعودی عرب کے کشیدہ تعلقات کے حوالے سے دیا ہے کہ دونوں کے تعلقات میں بہتری وقت کی ضرورت ہے حالانکہ اس قدر اہم عہدے پر فائز شخصیت کو زیادہ ٹھوس تجویز پیش کرنا چاہیے تھی اور بحران کے حل کا کوئی لائحہ عمل تجویز کرنا چاہیے تھا۔

سعودی عرب کی درخواست پر او آئی سی کے بلائے گئے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے تنظیم کے سیکریٹری جنرل عیاض مد نی نے کہا کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی نے مسلم دنیا کو درپیش اصل چیلنجز سے توجہ ہٹا دی ہے۔ انھوں نے مذاکرات کے ذریعے تفہیم کے پل تعمیر کرنے اور باہمی اعتماد بحال کرنے پر زور دیا اور کہا کہ اس سے تنازعات کو روکنے میں مدد ملے گی جو توانائی برباد کرتے ہیں اور عوام کی ترقی میں رکاوٹ بنتے ہیں۔


ادھر ایرانی قیادت کی جانب سے بھی کشیدگی پر قابو پانے کی خواہش ظاہر کی گئی ہے۔ دریں اثنا چین کے صدر ژی جن پنگ نے مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں عرب لیگ کے اجلاس میں شرکت کی اور کہا کہ چین مشرق وسطیٰ میں کسی خلا کو پُر کرنا چاہتا ہے اور نہ ہی پراکسی وارز کا حصہ بنے گا۔ چینی صدر نے کہا کہ چین عرب ریاستوں میں اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کے لیے کوئی منصوبہ سازی نہیں کر رہا۔ انھوں نے عرب ریاستوں پر زور دیا کہ مشرق وسطیٰ کے تمام تنازعات کو طاقت کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ طاقت کا استعمال کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے۔

انھوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ ان تنازعات میں اپنی مرضی کا حل متعارف کرانے کی بجائے براہ راست فریق عوام، ہمسایہ ممالک اور علاقائی تنظیموں کی رائے کا احترام کرے۔ او آئی سی اور عرب لیگ کے تمام رکن ممالک مسلم ہیں لیکن عجیب بات یہ ہے کہ ان دونوں تنظیموں نے مسلم ممالک کے باہمی تنازعات یا دیگر ممالک کے ساتھ تنازعات نمٹانے میں کبھی فیصلہ کن کردار ادا نہیں کیا۔

دونوں تنظیموں کا آئینی ڈھانچہ کچھ ایسا ہے کہ یہ سوائے رکن ممالک کو مشورہ دینے کے کوئی عملی اقدام نہیں اٹھا سکتیں۔ مسلم ممالک اگر ان تنظیموں کو فعال اور کارآمد بنانا چاہتے ہیں تو ان تنظیموں کے مینڈیٹ میں اضافہ کیا جائے۔ اگر او آئی سی اور عرب لیگ کو تنازعات نمٹانے کے لیے مینڈیٹ حاصل ہو تو ان کا فائدہ ہو سکتا ہے ورنہ ان تنظیموں کے اجلاس سرمائے کے ضیاع کے سوا کچھ نہیں ہیں۔
Load Next Story