عدلیہ کی صدا ’’فغانِ درویش‘‘ نہیں
بدامنی کے باعث کراچی کے90 فیصد شہری نفسیاتی مریض بن چکے ہیں
چند قاتلوں اور قانون سے خود کو بالاتر سمجھنے والے عناصر کی سرکوبی کے لیے صرف حوصلے اور سیاسی ارادے کی ضرورت ہے. فوٹو: راشد اجمیری
کراچی بدامنی کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے آبزروکیا کہ کراچی میں اندھیر نگری چوپٹ راج والا معاملہ ہے، صوبائی حکومت نے متوازی عدالتی نظام قائم کررکھا ہے اور وہ ان ملزم کو پیرول پر رہا کردیتی ہے جنھیں تفتیش کی خامیوں کے باوجود عدالتیں سزائیں سناتی ہیں۔
جمعرات کو جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں جسٹس خلجی عارف حسین، جسٹس سرمد جلال عثمانی، جسٹس امیر ہانی مسلم اور جسٹس گلزار احمد پر مشتمل بینچ نے کراچی بدامنی کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمدکی رپورٹس کا جائزہ مکمل کرتے ہوئے جو ریمارکس دیے ہیں وہ منی پاکستان کی حالت زار کا نوحہ ہیں جس پر حکمرانوں اور تمام سیاسی جماعتوں کی قیادتوں کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔عدلیہ کے استفسارات کو فغان درویش نہ سمجھا جائے ، یہ صدائے جرس ہے ، چنانچہ ارباب اختیار انتظامی خامیوں کو دورکریں ، حکومتی رٹ قائم کرنے کے لیے گینگ وار کارندوں سمیت ہر ٹارگٹ کلر کو پکڑ کرجیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیں اور قانون کی حکمرانی میں حائل رکاوٹوں کو بلا تاخیر دور کرنے کی تدبیر کریں ۔
پانی سر سے اونچا ہوچکا ہے، چند قاتلوں اور قانون سے خود کو بالاتر سمجھنے والے عناصر کی سرکوبی کے لیے صرف حوصلے اور سیاسی ارادے کی ضرورت ہے۔منی پاکستان زخموں سے چور چور ہوچکا ہے،اسے خیر سگالی کے مرہم ،توجہ اور ہر ممکن امداد و داد رسی کی ضرورت ہے۔فاضل ججز کے استفسارات کے نتیجے میں کراچی میں بدامنی کے واقعات اور ان میں ملوث عناصر کی گرفتاری اور پراسرار رہائی کے حوالے سے جوانکشافات سامنے آئے ہیں وہ ہر قانون پسند شہری اور محب وطن حلقوں کے لیے دردانگیزی کا باعث بنے ہیں،ایسی بدامنی اور لاقانونیت منی پاکستان کے موجودہ تناظر میں ایک ہولناک معمہ ہے جو سیاسی مصلحتوں کا شاخسانہ ہے۔
بلاشبہ سچ کو چھپانے کی اندوہ ناک کوششوں کے باعث ایک خوبصورت شہر اور ملک بھر کے محنت کش خاندانوں اور بے منزل ہم وطنوں کی معاشی پناہ گاہ بربادیوں کی زدمیں ہے جہاں اب عدلیہ اس کے مسئلے کو حل کرنے کی مخلصانہ کوششوں میں مصروف ہے ۔عدالت کا یہ سوال معنی خیز ہے کہ جب ہزاروں قاتل شہر میں دندناتے پھر رہے ہیں ایسے میں امن کیسے قائم ہوسکتا ہے، بدامنی کے باعث کراچی کے90 فیصد شہری نفسیاتی مریض بن چکے ہیں۔
ایڈووکیٹ جنرل پراسیکیوٹر جنرل سندھ اور ایڈیشنل چیف سیکریٹری ہوم نے بھی اعتراف کیا کہ ایسے ملزمان کو بھی پیرول پر رہاکردیا گیا جس کی قانون میں ممانعت ہے اور اس کا دفاع نہیں کیا جاسکتا۔ سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مشیرعالم نے لاپتہ شہریوں کے مقدمات کی سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ مسلح افواج بھی آئین و قانون کی پابند ہیں اورعدالتی فیصلوں پر عملدرآمد ان کی آئینی ذمے داری ہے، چیف جسٹس مشیرعالم کی سربراہی میں2 رکنی بینچ نے آبزروکیا کہ پہلے ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف عوام کے جذبات بھڑکے ہوئے ہیں۔
تاہم مجموعی طور پر لوگ پاک فوج کا احترام کرتے ہیں، عوام کا اداروں پراعتماد تباہ ہورہا ہے، اعتماد کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے ۔عدلیہ کے ریمارکس میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ گزشتہ18سال سے مطلوبہ نتائج نہیں ملے ،بجٹ کا بڑاحصہ رینجرز پرخرچ کیا جاتا ہے اگر پولیس کی تنخواہ دُگنی کردی جائے تو پولیس بھی بہتر نتائج دے سکتی ہے ۔رینجرز کو ہٹایا جائے۔صدرآصف زرداری نے کہا کہ کراچی ملک کااکنامک زون ہے،کراچی کی ترقی ملک کی ترقی ہے، اگریہاں امن خراب ہوگا تواس کے اثرات پورے ملک کی معیشت پرپڑیں گے، بعض عناصر شہر کاامن تباہ کرکے ملک کی معیشت کونقصان پہنچانے کی جو سازشیں کررہے ہیں،ان عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا ۔
تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت سندھ کراچی میں مستقل بنیادوںپر قیام امن کے لیے صدر کی ان ہدایات پر عمل کرے جو انھوں نے کمیونٹی پولیسنگ کانظام فوری شروع کرنے ، موبائل فون سمز کی خریدوفروخت کے نظام کو مربوط بنانے کے ساتھ اسلحہ لائنس کے اجرا کے نظام کوکمپیوٹرائز کرنے ، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے،امن وامان کے معاملات پرمشاورت اورمختلف مسائل کے حل کے لیے رابطہ کارکمیٹی کے قائم اورمشترکہ طور پر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی کے لیے حکمت عملی مرتب کرنے کے حوالے سے جاری کیں۔ بلاشبہ کراچی میں بھتہ خوروں ٹارگٹ کلرز اورجرائم پیشہ افراد کے لیے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔اور کسی بھی شخص کو ملک کے معاشی حب کا امن خراب کرنے کی اجازت نہیں ملنی چاہیے۔
تاہم اس کے لیے قانون نافذ کرنے ادارے بلا تفریق اوربہتر انداز میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف ٹارگٹڈآپریشن جاری رکھیں، گینگ وار ناسور ختم کیا جائے۔جرائم پیشہ افراد کو عدالتوں سے سزا دلوانے کے لیے تفتیش کے نظام کو سائنسی بنیاد پرمنظم کیاجائے۔وفاقی وزیرداخلہ نے صدرکو بتایا کہ موبائل فون کی سمزسے دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہوا، سمزکی خریدوفروخت کامربوط نظام نہ ہونے کی وجہ سے امن وامان کی صورتحال خراب ہورہی ہے۔
انھوںنے تجویزدی کہ سمز کی خرید ورفروخت کے لیے نیا طریقہ کار اپنایاجائے ۔یہ تمام اقدامات ناگزیر ہیں مگر ارباب اختیار حقائق سے چشم پوشی نہ کریں۔ مغویوں کی روز بوری بند لاشیںمل رہی ہیں،پیرول پر جن ملزمان کو رہا کیا گیا ان کے بارے میں بتایاگیا کہ وہ اب نہ معلوم کون سے ممالک میں ہوں گے۔کیا قانون کے ساتھ اس سے بڑا کوئی اور مذاق ہوسکتا ہے۔ مجرموں کو ایسی آزادی کسی ملک میں حاصل نہیں ہوسکتی ۔عدلیہ کو یہ بھی بتایا گیا کہ مفرور ملزمان کی رہائی کے دوران 2000سے زائد افراد قتل کیے گئے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ صدر مملکت نے کراچی کو ملک کا معاشی مرکز قرار دے کر اس حقیقت پر مہر تصدیق ثبت کی ہے کہ منی پاکستان کے دشمن وفاق پاکستان کے دشمن ہیں جو کراچی کے قلب پر حملہ کرکے ملکی اقتصادیات اور جمہوری نظام کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے جنون میں مبتلا ہیں ان کا تعاقب کرنا حکومت کا فرض ہے۔وقت بہت کم ہے ،حکام آیندہ انتخابات کی تیاریوں سے قبل کراچی میں امن و امان کی بحالی پر خصوصی توجہ دیں۔
جمعرات کو جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں جسٹس خلجی عارف حسین، جسٹس سرمد جلال عثمانی، جسٹس امیر ہانی مسلم اور جسٹس گلزار احمد پر مشتمل بینچ نے کراچی بدامنی کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمدکی رپورٹس کا جائزہ مکمل کرتے ہوئے جو ریمارکس دیے ہیں وہ منی پاکستان کی حالت زار کا نوحہ ہیں جس پر حکمرانوں اور تمام سیاسی جماعتوں کی قیادتوں کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔عدلیہ کے استفسارات کو فغان درویش نہ سمجھا جائے ، یہ صدائے جرس ہے ، چنانچہ ارباب اختیار انتظامی خامیوں کو دورکریں ، حکومتی رٹ قائم کرنے کے لیے گینگ وار کارندوں سمیت ہر ٹارگٹ کلر کو پکڑ کرجیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیں اور قانون کی حکمرانی میں حائل رکاوٹوں کو بلا تاخیر دور کرنے کی تدبیر کریں ۔
پانی سر سے اونچا ہوچکا ہے، چند قاتلوں اور قانون سے خود کو بالاتر سمجھنے والے عناصر کی سرکوبی کے لیے صرف حوصلے اور سیاسی ارادے کی ضرورت ہے۔منی پاکستان زخموں سے چور چور ہوچکا ہے،اسے خیر سگالی کے مرہم ،توجہ اور ہر ممکن امداد و داد رسی کی ضرورت ہے۔فاضل ججز کے استفسارات کے نتیجے میں کراچی میں بدامنی کے واقعات اور ان میں ملوث عناصر کی گرفتاری اور پراسرار رہائی کے حوالے سے جوانکشافات سامنے آئے ہیں وہ ہر قانون پسند شہری اور محب وطن حلقوں کے لیے دردانگیزی کا باعث بنے ہیں،ایسی بدامنی اور لاقانونیت منی پاکستان کے موجودہ تناظر میں ایک ہولناک معمہ ہے جو سیاسی مصلحتوں کا شاخسانہ ہے۔
بلاشبہ سچ کو چھپانے کی اندوہ ناک کوششوں کے باعث ایک خوبصورت شہر اور ملک بھر کے محنت کش خاندانوں اور بے منزل ہم وطنوں کی معاشی پناہ گاہ بربادیوں کی زدمیں ہے جہاں اب عدلیہ اس کے مسئلے کو حل کرنے کی مخلصانہ کوششوں میں مصروف ہے ۔عدالت کا یہ سوال معنی خیز ہے کہ جب ہزاروں قاتل شہر میں دندناتے پھر رہے ہیں ایسے میں امن کیسے قائم ہوسکتا ہے، بدامنی کے باعث کراچی کے90 فیصد شہری نفسیاتی مریض بن چکے ہیں۔
ایڈووکیٹ جنرل پراسیکیوٹر جنرل سندھ اور ایڈیشنل چیف سیکریٹری ہوم نے بھی اعتراف کیا کہ ایسے ملزمان کو بھی پیرول پر رہاکردیا گیا جس کی قانون میں ممانعت ہے اور اس کا دفاع نہیں کیا جاسکتا۔ سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مشیرعالم نے لاپتہ شہریوں کے مقدمات کی سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ مسلح افواج بھی آئین و قانون کی پابند ہیں اورعدالتی فیصلوں پر عملدرآمد ان کی آئینی ذمے داری ہے، چیف جسٹس مشیرعالم کی سربراہی میں2 رکنی بینچ نے آبزروکیا کہ پہلے ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف عوام کے جذبات بھڑکے ہوئے ہیں۔
تاہم مجموعی طور پر لوگ پاک فوج کا احترام کرتے ہیں، عوام کا اداروں پراعتماد تباہ ہورہا ہے، اعتماد کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے ۔عدلیہ کے ریمارکس میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ گزشتہ18سال سے مطلوبہ نتائج نہیں ملے ،بجٹ کا بڑاحصہ رینجرز پرخرچ کیا جاتا ہے اگر پولیس کی تنخواہ دُگنی کردی جائے تو پولیس بھی بہتر نتائج دے سکتی ہے ۔رینجرز کو ہٹایا جائے۔صدرآصف زرداری نے کہا کہ کراچی ملک کااکنامک زون ہے،کراچی کی ترقی ملک کی ترقی ہے، اگریہاں امن خراب ہوگا تواس کے اثرات پورے ملک کی معیشت پرپڑیں گے، بعض عناصر شہر کاامن تباہ کرکے ملک کی معیشت کونقصان پہنچانے کی جو سازشیں کررہے ہیں،ان عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا ۔
تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت سندھ کراچی میں مستقل بنیادوںپر قیام امن کے لیے صدر کی ان ہدایات پر عمل کرے جو انھوں نے کمیونٹی پولیسنگ کانظام فوری شروع کرنے ، موبائل فون سمز کی خریدوفروخت کے نظام کو مربوط بنانے کے ساتھ اسلحہ لائنس کے اجرا کے نظام کوکمپیوٹرائز کرنے ، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے،امن وامان کے معاملات پرمشاورت اورمختلف مسائل کے حل کے لیے رابطہ کارکمیٹی کے قائم اورمشترکہ طور پر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی کے لیے حکمت عملی مرتب کرنے کے حوالے سے جاری کیں۔ بلاشبہ کراچی میں بھتہ خوروں ٹارگٹ کلرز اورجرائم پیشہ افراد کے لیے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔اور کسی بھی شخص کو ملک کے معاشی حب کا امن خراب کرنے کی اجازت نہیں ملنی چاہیے۔
تاہم اس کے لیے قانون نافذ کرنے ادارے بلا تفریق اوربہتر انداز میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف ٹارگٹڈآپریشن جاری رکھیں، گینگ وار ناسور ختم کیا جائے۔جرائم پیشہ افراد کو عدالتوں سے سزا دلوانے کے لیے تفتیش کے نظام کو سائنسی بنیاد پرمنظم کیاجائے۔وفاقی وزیرداخلہ نے صدرکو بتایا کہ موبائل فون کی سمزسے دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہوا، سمزکی خریدوفروخت کامربوط نظام نہ ہونے کی وجہ سے امن وامان کی صورتحال خراب ہورہی ہے۔
انھوںنے تجویزدی کہ سمز کی خرید ورفروخت کے لیے نیا طریقہ کار اپنایاجائے ۔یہ تمام اقدامات ناگزیر ہیں مگر ارباب اختیار حقائق سے چشم پوشی نہ کریں۔ مغویوں کی روز بوری بند لاشیںمل رہی ہیں،پیرول پر جن ملزمان کو رہا کیا گیا ان کے بارے میں بتایاگیا کہ وہ اب نہ معلوم کون سے ممالک میں ہوں گے۔کیا قانون کے ساتھ اس سے بڑا کوئی اور مذاق ہوسکتا ہے۔ مجرموں کو ایسی آزادی کسی ملک میں حاصل نہیں ہوسکتی ۔عدلیہ کو یہ بھی بتایا گیا کہ مفرور ملزمان کی رہائی کے دوران 2000سے زائد افراد قتل کیے گئے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ صدر مملکت نے کراچی کو ملک کا معاشی مرکز قرار دے کر اس حقیقت پر مہر تصدیق ثبت کی ہے کہ منی پاکستان کے دشمن وفاق پاکستان کے دشمن ہیں جو کراچی کے قلب پر حملہ کرکے ملکی اقتصادیات اور جمہوری نظام کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے جنون میں مبتلا ہیں ان کا تعاقب کرنا حکومت کا فرض ہے۔وقت بہت کم ہے ،حکام آیندہ انتخابات کی تیاریوں سے قبل کراچی میں امن و امان کی بحالی پر خصوصی توجہ دیں۔