انصاف اور قانون کی حُرمت یا…

کیا وہ قوت نافذہ موجود ہے جو قانون کی بالادستی کو یقینی بناتی ہے؟

zaheerakhtar_beedri@yahoo.com

قانون اور جمہوریت کی برتری کے حوالے سے آج کل ہماری جو دو قابل احترام ہستیاں انتہائی بلکہ غیر معمولی حوصلہ افزا یا امید افزا باتیں کررہی ہیں، ان میں ہماری اعلیٰ عدلیہ کے محترم چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے چیف جناب فخرالدین جی ابراہیم سرفہرست ہیں۔

رجائیت کو انسان کی مثبت خوبیوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ انسان جب مایوسیوں کے دلدل میں گلے گلے تک دھنستا چلا جاتا ہے تو اسے رجائیت ہی اس دلدل سے باہر آنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ رجائیت امید ہے اور اگر امید ٹوٹ جاتی ہے تو انسان انفرادی انارکی کی طرف اور معاشرہ اجتماعی زیادتی کی زد میں آجاتا ہے۔ ہم اسی پس منظر میں مذکورہ بالا دو قابل احترام افراد کی باتوں/ بیانات کو رجائیت سے منسوب کر رہے ہیں۔ لیکن ہمارا خیال ہے کہ پرامید اور خوش فہمی میں ایک حد فاصل موجود ہوتی ہے اور اس قسم کی پرامیدی کے پیچھے ''عمل'' ایک اہم عنصر کی حیثیت سے موجود ہوتا ہے۔ مثلاً جب ہم یہ کہتے ہیں کہ قانون کے ذریعے ہم اپنے معاشرے کو بدل دیں گے یا قانون کے ذریعے ہم ہر قسم کے جرائم کا خاتمہ کر دیں گے، تو ہمیں قانون کی ہیئت ترکیبی کا جائزہ لے کر یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ آیا قانون میں وہ صلاحیت موجود ہے جو ہر قسم کے جرائم کا خاتمہ کرنے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ کیا وہ قوت نافذہ موجود ہے جو قانون کی بالادستی کو یقینی بناتی ہے؟

یہی صورت حال جمہوریت کی کامیابی اور ناگزیریت کے پس منظر میں ہوتی ہے۔ جب ہمارے چیف الیکشن کمشنر یہ کہتے ہیں کہ انتخابات یا شفاف انتخابات ہی ہمارے تمام مسائل کا حل ہیں اور ایسے انتخابات عوام کو خوش حال بنا دیں گے، تو فطری طور پر ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارے انتخابی نظام میں وہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ ہمارے تمام مسائل کو حل کرکے ملک کو خوشحال بنادیںگے؟ اس حوالے سے جب ہم ان دونوں قابل احترام ہستیوں کی رجائیت پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ دونوں پرامیدیاں یا رجائیت آسمان پر اڑنے والی ایسی پتنگیں نظر آتی ہیں جو ڈور سے قطعی محروم ہیں۔ ہم یہاں صرف جرائم کی خوفناک وبا کے حوالے سے قانون کے کردار کا جائزہ لے کر اس کی اہلیت اور نفاذ کو ہائی لائٹ کرنے کی کوشش کریں گے۔

عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ تعلیم یافتہ مہذب معاشروں میں جرائم کی تعداد بہت کم ہوتی ہے لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ انتہائی غیر مہذب معاشروں میں جرائم اس قدر کم ہوتے تھے کہ وہاں قانون کی ضرورت ہی نہیں پڑتی تھی۔ ایک مغربی مفکر ہرمن میلویل کہتا ہے کہ ''جتنا عرصہ میں ٹائینس قبیلے کے لوگوں کے درمیان رہا وہاں کسی فرد پر بھی ایک دوسرے کو نقصان پہنچاتے نہیں دیکھا'' الفریڈ رسل کہتا ہے ''میں مشرق اور شمالی امریکا کے انتہائی غیر مہذب معاشروں میں رہا ہوں جہاں نہ قانون تھا نہ عدالتیں، ان معاشروں میں ایسی روایات مستحکم تھیں جن میں جرائم کا امکان ہی نہیں رہتا تھا۔'' جدید چین میں ایک عرصے تک جرائم کا نام و نشان نہ تھا لیکن ان حقائق کو کلیہ نہیں بنایا جاسکتا کیونکہ شہری معاشروں میں جرائم موجود رہے ہیں۔


ہاں اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ سرمایہ دارانہ نظام کے فروغ کے ساتھ جرائم بھی فروغ پاتے رہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نظام میں دو محرکات ایسے ہوتے ہیں جو انسانوں کو جرائم کی طرف دھکیلتے ہیں، ایک معاشی ناانصافی، دوسرے ارتکاز دولت کی قانونی آزادی۔ ہم یہاں اس کی تفصیلات میں جائے بغیر اپنے ملک میں ہونے والے جرائم کا جائزہ لیں گے۔

جرائم کو ان کی نوعیت کے حوالے سے کئی حصوں میں بانٹا جاسکتا ہے۔ اسٹریٹ کرائم اگرچہ معمولی نوعیت کے جرم ہوتے ہیں لیکن اسٹریٹ کرائم سنگین جرائم میں اس وقت بدل جاتے ہیں جب ایک موبائل فون یا موٹر بائیک چھیننے والے سے مزاحمت کی جاتی ہے تو وہ گولی چلا دیتا ہے۔ بڑی ڈکیتیاں، بینک ڈکیتیاں، ریپ، اغوا برائے تاوان کا شمار سنگین جرائم میں ہوتا ہے، لیکن یہ جرائم اب محض معاشی ناانصافیوں کی پیداوار نہیں رہے بلکہ ان میں دو ایسے عناصر داخل ہوگئے ہیں جو بے حد خطرناک ہیں ایک یہ کہ بااثر حتیٰ کہ قانون ساز ادارے میں بیٹھے ہوئے لوگ یہ جرائم کرواتے ہیں دوسرے ان جرائم سے حاصل ہونے والی کروڑوں کی رقم کو دہشت گردی کے پھیلاؤ اور استحکام میں استعمال کیا جا رہا ہے۔

ایک تیسرے قسم کے جرائم جو انتہائی اعلیٰ سطح ہوتے ہیں، ان میں اربوں روپوں کی کرپشن ہوتی ہے، مثال کے طور پر بینکوں کے نادہندگان ، مختلف اداروں کی اربوں کی کرپشن ۔ایک چپڑاسی، ایک کلرک، ایک سپاہی اگر 100 روپے کی رشوت لیتا ہے تو پورا قانون اور انصاف کا نظام حرکت میں آجاتا ہے، ایک شخص ضرورت کے تحت کسی مالیاتی ادارے سے ایک لاکھ کا قرض لیتا ہے اور دو لاکھ سے زیادہ ادا بھی کردیتا ہے تو اخباروں میں اس کے مکان کی نیلامی کا اشتہار چھپ جاتا ہے، کیونکہ سود ملا کر ایک لاکھ کا قرض 3 لاکھ سے زیادہ ہوجاتا ہے۔ ایلیٹ بینکوں سے اربوں کے قرض لے کر برسوں سے ملک کی وزارتوں پر بار بار متمکن رہے ہیں اور ایک بار پھر 2013 کے ممکنہ الیکشن میں وزارتوں کے لیے عوام کو بے وقوف بنانے میں مصروف ہیں۔

ملک بھر میں دہشت گردی میں ہزاروں بے گناہ انسان مارے جارہے ہیں، صرف کراچی میں ہر روز اوسطاً 12-10 بے گناہ قتل کیے جا رہے ہیں، ہر روز ان کی گرفتاریوں، ان کے کالعدم تنظیموں سے تعلق، سیکڑوں انسانوں کے قتل کے اعترافات، جدید ترین ہتھیاروں، بارودی جیکٹوں کی برآمد کی کہانیاں اخباروں اور ٹی وی اسکرین پر نظر آتی ہیں لیکن آج تک ان قاتلوں، دہشت گردوں کو دی جانے والی کسی سزا کی خبر میڈیا پر نظر نہیں آئی۔ اگر قانون کی یہ رفتار اورانصاف کا یہ معیار رہا تو پھر قانون کی برتری انصاف کی عظمت کی رجاعی باتوں سے نہ جرائم میں کمی آسکتی ہے نہ عوام کی جان و مال کے تحفظ کا کوئی امکان پیدا ہو سکتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہورہا ہے؟ جواب یہ ہے کہ نظام میں ناقابل اصلاح خرابیاں پیدا ہوگئی ہیں۔ جب صورت حال یہ ہو تو ہماری ساری رجائیت خود فریبی کے علاوہ کچھ نہیں اور عوام ایسے نظام پر مایوسی کا اظہار کرتے ہیں تو کیا وہ غلط کرتے ہیں؟
Load Next Story