سرمد … ایک سمندر
ایران کا ایک خوشحال تاجر جب اس شہر میں پہنچا تو وہ یہاں ایک چہرے کو دیکھ کر دنگ رہ گیا
Abdulqhasan@hotmail.com
سرمد شہید پر معین زبیری صاحب کی ایک کتاب ملی اور اس بے صبری میں کہ اس میں سرمد کے بارے میں کچھ زیادہ معلومات ہوں گی، میں نے اسے فوراً دیکھ لیا لیکن تاریخ تصوف کی اس پیچیدہ شخصیت سے تعارف ادھورا ہی رہا۔
عالم تصوف کی شاید سب سے بڑی پہیلی کا نام ہے سرمد شہید، یہ شخصیت جس قدر معروف اور مقبول خلائق ہے لیکن اس کے تعارف کا عشر عشیر بھی ہمارے پاس موجود نہیں ہے بلکہ جو کچھ مستند تاریخی حوالوں سے ملتا ہے وہ چند سطروں میں ختم ہو جاتا ہے ،بس اتنا معلوم ہے کہ وہ ایران کے مسیحی یا یہودی خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ پیشہ تھا تجارت لیکن ایک بہت ہی پڑھا لکھا عالم شخص بھی تھا۔ یہ رئیس تاجر گھوڑوں کی تجارت کرتا ہوا ہندوستان آیا۔ جس کا شہر ٹھٹھہ اس وقت تجارت کا بڑا مرکز تھا۔
ایران کا ایک خوشحال تاجر جب اس شہر میں پہنچا تو وہ یہاں ایک چہرے کو دیکھ کر دنگ رہ گیا۔ یکسر بدل گیا، بے خودی کی ایسی جذب و مستی کی کیفیت طاری ہوئی کہ سرمد دنیا جہان کو بھول گیا سوائے اپنے محبوب کے۔ اس ہندو لڑکے کا نام ابے چند تھا جو خوش رو اور خوش گلو بھی تھا، وہ کلام جب پڑھتا تو یہ شاعر بے خود ہو جاتا۔ سرمد اورنگ زیب کے مخالف بھائی کا دعا گو تھا جو ایک صوفی مزاج شہزادہ تھا، اسی داراشکوہ سے تعلق سرمد کی شہادت کا اصل باعث بنا اور یہ مجذوب صوفی حکمران کی سیاست کا شکار بن گیا۔
سرمد کے دور کے مورخین نے اس کا نام یا تو لکھا ہی نہیں یا ڈر کر صرف چند الفاظ ہی لکھے ہیں، اس لیے اپنے وقت کی ایک محبوب خلائق شخصیت کا ذکر سرسری ملتا ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے ابو الکلام دہلوی کے نام سے سرمد پر کچھ لکھا ہے اور کہا ہے کہ عہد عالمگیری میں اور اس کے بعد جس قدر تذکرے ملتے ہیں، ان میں سرمد کے عنوان سے چند سطریں ہی ملتی ہیں۔ عظیم المرتبت انشاء پرداز مولانا آزاد لکھتے ہیں کہ سرمد کا خاندانی پیشہ تجارت تھا، ایران سے تجارتی مال لے کر وہ ہندوستان کی طرف بڑھا۔ مگر یہ ایرانی تاجر نہیں جانتا تھا کہ ہندوستان میں پہنچ کر اسے کس تجارت میں اپنا سرمایہ لگانا پڑے گا۔
وہ ہندوستان کی قیمتی اشیاء خریدنا چاہتا تھا لیکن اسے معلوم نہ تھا کہ قدرت نے فیصلہ اس کے خلاف دے دیا ہے، تجارت تو اسے زندگی بھر کرنی ہی پڑے گی مگر منڈیوں میں نہیں حسن و عشق کے بازار میں جہاں سونے چاندی کا نہیں دلِ صد پارہ اور جگرِ زخم خوردہ کا سکہ رائج ہے۔
یہ وہ زمانہ تھا کہ عالمگیر بساط ہند پر ایک نئی چال چلنے والا تھا۔ شہزادہ دارا شکوہ ولی عہد سلطنت تھا۔ سلسلہ مغلیہ میں دارا شکوہ ایک عجیب طبیعت اور مزاج کا شخص گزرا ہے، افسوس کرنا چاہیے کہ تاریخ ہند میں مورخ کی قلم پر اس کے دشمن کا قبضہ رہا ،اس لیے اصل تصویر سیاسی چالوں کے گرد و غبار میں چھپ گئی۔ وہ ابتدا سے درویش دوست اور صوفیانہ دل و دماغ کا شخص تھا اور ارباب تصوف کی مجلس میں رہتا تھا۔ سرمد جوش جنون میں پھرتا ہوا جب شاہ جہاں آباد دلی پہنچا تو قضا نے اشارہ کیا کہ یہاں قدم روک دیے جائیں کیونکہ وہ جس جام کی تلاش میں ہے، وہ عالمگیر کے پاس نہیں ،ان کے حریف کے پاس ہے۔
دارا شکوہ کو سرمد سے کمال عقیدت تھی۔ اس زمانے میں عشق کی شورش انگیزیاں کبھی کبھی اسے باہر نکلنے پر مجبور کرتی تھیں لیکن اسے معلوم ہو چکا تھا کہ اس کی آخری امتحان گاہ اسی شہر میں ہے، اس لیے وہ اس شہر سے نکل نہ سکا۔ ایک عرصہ کی شورش کے بعد 1069ھ میں عالمگیر تخت نشین ہوا اور دارا شکوہ اور اس کے ساتھیوں کی مصیبت کا دور شروع ہو گیا۔ کئی لوگ تو دارا شکوہ کے ساتھ نکل گئے لیکن سرمد کو تو اسی شہر میں رہنا تھا۔ فیصلہ یہی تھا۔
سرمد کی شہادت کے اسباب تذکرہ نویسوں نے کئی بتلائے ہیں۔ جبہ پوش حضرات کی سرمد کی ایک رباعی سے کان کھڑے ہو گئے کہ سرمد معراج جسمانی سے انکار کرتا ہے جو کفر ہے لیکن اصل بات یہ تھی کہ عالمگیر کی نظروں میں سب سے بڑا جرم دارا شکوہ کی معیت تھی۔ وہ اسے کسی نہ کسی بہانے قتل کرنا چاہتا تھا۔ دریں اثناء سرمد بالکل بے لباس رہنے لگا تو بادشاہ نے قاضی القضاۃ مُلا قوی کو بھیجا کہ وہ اس برہنگی کی وجہ دریافت کرے، سرمد نے قاضی کے سوال کے جواب میں یہ رباعی پڑھی کہ میں کمزور اور دشمن طاقت ور ہے۔ قاضی قوی نے بادشاہ سے کہا کہ کفر کا کافی مواد ہاتھ آ گیا ہے لیکن اورنگ زیب نے صرف برہنگی کو کافی نہ سمجھا۔ وہ خوب جانتا تھا کہ سرمد کوئی معمولی شخص نہیں۔ سارا شاہ جہان آباد اس کا عقیدت مند ہے، اس لیے بہت معقول بہانہ مطلوب ہے۔
بالآخر یہ طے پایا کہ علما و فضلا کو جمع کیا جائے اور تمام علماء کی جو رائے ہو اس کے مطابق فیصلہ کیا جائے چنانچہ مجلس منعقد ہوئی، اس میں سرمد کو بلایا گیا۔ سب سے پہلے خود عالمگیر نے پوچھا کہ لوگ کہتے ہیں، سرمد نے دارا شکوہ کو مژدہ سلطنت دیا تھا۔ کیا یہ سچ ہے۔ سرمد نے کہا کہ ہاں اور یہ مژدہ درست نکلا ،اسے ابدی سلطنت کی تاجپوشی نصیب ہوئی۔ خلیفہ ابراہیم بدخشانی ایک صاحب طریقت بزرگ گزرے ہیں۔ ان سے روایت ہے کہ جب مجمع علما نے سرمد کو لباس پہننے کے لیے کہا تو اس کا جواب سرمد پہلے ہی ایک رباعی میں دے چکا تھا کہ میرے اندر ایک ایسا چور در آیا ہے جس نے مجھے بے لباس کر دیا ہے۔ بادشاہ نے برہنگی کو کافی نہ سمجھا اور سرمد سے کہا کہ کلمہ طیبہ پڑھے ، بادشاہ سن چکا تھا کہ وہ پورا کلمہ نہیں پڑھتا۔ اس کی عادت ہے کہ جب کلمہ پڑھتا ہے تو صرف لا الہ پڑھتا ہے۔
اس نے جب علماء کے سامنے بھی آدھا کلمہ پڑھا تو اعتراض پر جواب دیا کہ ابھی تک میں نفی میں مستغرق ہوں، رتبہ اثبات تک نہیں پہنچا۔ اگر الا الہ کہوں گا تو جھوٹ ہو گا جو دل میں نہ ہو وہ زبان پر کیسے آئے، علماء نے اس جواب کو کفر قرار دیا۔ اور کہا کہ اگر توبہ نہ کرے تو قتل کا مستو جب ہے۔ سرمد جھوٹ کیسے بولتا۔ اس کا جرم یہ تھا کہ جو اس جام کو چھپ کر پیتے تھے، سرمد نے علانیہ منہ کو لگایا اور ہر سزا کا مستحق ٹھہرا۔ توبہ نہ کی تو قتل کا فتویٰ صادر ہوا۔ یہ واقعہ 1070ھ کا ہے جب عالمگیر کی حکومت کو ایک سال سے کچھ زیادہ وقت گزرا تھا۔
جب سرمد کو شہادت گاہ لے چلے تو تمام شہر ٹوٹ پڑا۔ راستہ چلنا دشوار ہو گیا۔ جب جلاد تلوار چمکاتا ہوا آگے بڑھا تو سرمد نے مسکرا کر اس سے نظر ملائی اور کہا ''تجھ پر قربان آئو آئو جس صورت میں بھی آئو میں تمہیں خوب پہچانتا ہوں۔'' ایک مورخ لکھتا ہے کہ اس جملے کے بعد سرمد نے یہ شعر پڑھا اور مردانہ وار سر تلوار کے نیچے رکھ دیا اور جان دے دی۔ ''ایک شور برپا ہوا اور اس میں خواب عدم سے میں نے آنکھ کھولی لیکن جب دیکھا کہ شب فتنہ باقی ہے تو پھر بند کر کے نیند میں چلا گیا''۔
سرمد کو جامع مسجد کے پہلو میں قتل کیا گیا اور وہیں دفن کر دیا گیا۔
مولانا آزاد کے بیان کو میں نے عام فہم بنانے کے لیے مختصر کر دیا ہے لیکن غالباً اصل بیان موجود ہے۔ جناب محمد انور زبیری مجددی نے اپنی اس کتاب 'سرمد ایک سمندر' پر تحقیق بھی لکھی ہے اور مولانا کے بیان پر جرح کی ہے مگر ان کا سب سے بڑا یاد گار کارنامہ رباعیات کا اردو زبان میں شعری ترجمہ ہے۔ افسوس کہ سرمد جیسی عظمت ہمارے لیے اجنبی ہی ہے۔ سیاست دوران نے اس کو گم کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔
عالم تصوف کی شاید سب سے بڑی پہیلی کا نام ہے سرمد شہید، یہ شخصیت جس قدر معروف اور مقبول خلائق ہے لیکن اس کے تعارف کا عشر عشیر بھی ہمارے پاس موجود نہیں ہے بلکہ جو کچھ مستند تاریخی حوالوں سے ملتا ہے وہ چند سطروں میں ختم ہو جاتا ہے ،بس اتنا معلوم ہے کہ وہ ایران کے مسیحی یا یہودی خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ پیشہ تھا تجارت لیکن ایک بہت ہی پڑھا لکھا عالم شخص بھی تھا۔ یہ رئیس تاجر گھوڑوں کی تجارت کرتا ہوا ہندوستان آیا۔ جس کا شہر ٹھٹھہ اس وقت تجارت کا بڑا مرکز تھا۔
ایران کا ایک خوشحال تاجر جب اس شہر میں پہنچا تو وہ یہاں ایک چہرے کو دیکھ کر دنگ رہ گیا۔ یکسر بدل گیا، بے خودی کی ایسی جذب و مستی کی کیفیت طاری ہوئی کہ سرمد دنیا جہان کو بھول گیا سوائے اپنے محبوب کے۔ اس ہندو لڑکے کا نام ابے چند تھا جو خوش رو اور خوش گلو بھی تھا، وہ کلام جب پڑھتا تو یہ شاعر بے خود ہو جاتا۔ سرمد اورنگ زیب کے مخالف بھائی کا دعا گو تھا جو ایک صوفی مزاج شہزادہ تھا، اسی داراشکوہ سے تعلق سرمد کی شہادت کا اصل باعث بنا اور یہ مجذوب صوفی حکمران کی سیاست کا شکار بن گیا۔
سرمد کے دور کے مورخین نے اس کا نام یا تو لکھا ہی نہیں یا ڈر کر صرف چند الفاظ ہی لکھے ہیں، اس لیے اپنے وقت کی ایک محبوب خلائق شخصیت کا ذکر سرسری ملتا ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے ابو الکلام دہلوی کے نام سے سرمد پر کچھ لکھا ہے اور کہا ہے کہ عہد عالمگیری میں اور اس کے بعد جس قدر تذکرے ملتے ہیں، ان میں سرمد کے عنوان سے چند سطریں ہی ملتی ہیں۔ عظیم المرتبت انشاء پرداز مولانا آزاد لکھتے ہیں کہ سرمد کا خاندانی پیشہ تجارت تھا، ایران سے تجارتی مال لے کر وہ ہندوستان کی طرف بڑھا۔ مگر یہ ایرانی تاجر نہیں جانتا تھا کہ ہندوستان میں پہنچ کر اسے کس تجارت میں اپنا سرمایہ لگانا پڑے گا۔
وہ ہندوستان کی قیمتی اشیاء خریدنا چاہتا تھا لیکن اسے معلوم نہ تھا کہ قدرت نے فیصلہ اس کے خلاف دے دیا ہے، تجارت تو اسے زندگی بھر کرنی ہی پڑے گی مگر منڈیوں میں نہیں حسن و عشق کے بازار میں جہاں سونے چاندی کا نہیں دلِ صد پارہ اور جگرِ زخم خوردہ کا سکہ رائج ہے۔
یہ وہ زمانہ تھا کہ عالمگیر بساط ہند پر ایک نئی چال چلنے والا تھا۔ شہزادہ دارا شکوہ ولی عہد سلطنت تھا۔ سلسلہ مغلیہ میں دارا شکوہ ایک عجیب طبیعت اور مزاج کا شخص گزرا ہے، افسوس کرنا چاہیے کہ تاریخ ہند میں مورخ کی قلم پر اس کے دشمن کا قبضہ رہا ،اس لیے اصل تصویر سیاسی چالوں کے گرد و غبار میں چھپ گئی۔ وہ ابتدا سے درویش دوست اور صوفیانہ دل و دماغ کا شخص تھا اور ارباب تصوف کی مجلس میں رہتا تھا۔ سرمد جوش جنون میں پھرتا ہوا جب شاہ جہاں آباد دلی پہنچا تو قضا نے اشارہ کیا کہ یہاں قدم روک دیے جائیں کیونکہ وہ جس جام کی تلاش میں ہے، وہ عالمگیر کے پاس نہیں ،ان کے حریف کے پاس ہے۔
دارا شکوہ کو سرمد سے کمال عقیدت تھی۔ اس زمانے میں عشق کی شورش انگیزیاں کبھی کبھی اسے باہر نکلنے پر مجبور کرتی تھیں لیکن اسے معلوم ہو چکا تھا کہ اس کی آخری امتحان گاہ اسی شہر میں ہے، اس لیے وہ اس شہر سے نکل نہ سکا۔ ایک عرصہ کی شورش کے بعد 1069ھ میں عالمگیر تخت نشین ہوا اور دارا شکوہ اور اس کے ساتھیوں کی مصیبت کا دور شروع ہو گیا۔ کئی لوگ تو دارا شکوہ کے ساتھ نکل گئے لیکن سرمد کو تو اسی شہر میں رہنا تھا۔ فیصلہ یہی تھا۔
سرمد کی شہادت کے اسباب تذکرہ نویسوں نے کئی بتلائے ہیں۔ جبہ پوش حضرات کی سرمد کی ایک رباعی سے کان کھڑے ہو گئے کہ سرمد معراج جسمانی سے انکار کرتا ہے جو کفر ہے لیکن اصل بات یہ تھی کہ عالمگیر کی نظروں میں سب سے بڑا جرم دارا شکوہ کی معیت تھی۔ وہ اسے کسی نہ کسی بہانے قتل کرنا چاہتا تھا۔ دریں اثناء سرمد بالکل بے لباس رہنے لگا تو بادشاہ نے قاضی القضاۃ مُلا قوی کو بھیجا کہ وہ اس برہنگی کی وجہ دریافت کرے، سرمد نے قاضی کے سوال کے جواب میں یہ رباعی پڑھی کہ میں کمزور اور دشمن طاقت ور ہے۔ قاضی قوی نے بادشاہ سے کہا کہ کفر کا کافی مواد ہاتھ آ گیا ہے لیکن اورنگ زیب نے صرف برہنگی کو کافی نہ سمجھا۔ وہ خوب جانتا تھا کہ سرمد کوئی معمولی شخص نہیں۔ سارا شاہ جہان آباد اس کا عقیدت مند ہے، اس لیے بہت معقول بہانہ مطلوب ہے۔
بالآخر یہ طے پایا کہ علما و فضلا کو جمع کیا جائے اور تمام علماء کی جو رائے ہو اس کے مطابق فیصلہ کیا جائے چنانچہ مجلس منعقد ہوئی، اس میں سرمد کو بلایا گیا۔ سب سے پہلے خود عالمگیر نے پوچھا کہ لوگ کہتے ہیں، سرمد نے دارا شکوہ کو مژدہ سلطنت دیا تھا۔ کیا یہ سچ ہے۔ سرمد نے کہا کہ ہاں اور یہ مژدہ درست نکلا ،اسے ابدی سلطنت کی تاجپوشی نصیب ہوئی۔ خلیفہ ابراہیم بدخشانی ایک صاحب طریقت بزرگ گزرے ہیں۔ ان سے روایت ہے کہ جب مجمع علما نے سرمد کو لباس پہننے کے لیے کہا تو اس کا جواب سرمد پہلے ہی ایک رباعی میں دے چکا تھا کہ میرے اندر ایک ایسا چور در آیا ہے جس نے مجھے بے لباس کر دیا ہے۔ بادشاہ نے برہنگی کو کافی نہ سمجھا اور سرمد سے کہا کہ کلمہ طیبہ پڑھے ، بادشاہ سن چکا تھا کہ وہ پورا کلمہ نہیں پڑھتا۔ اس کی عادت ہے کہ جب کلمہ پڑھتا ہے تو صرف لا الہ پڑھتا ہے۔
اس نے جب علماء کے سامنے بھی آدھا کلمہ پڑھا تو اعتراض پر جواب دیا کہ ابھی تک میں نفی میں مستغرق ہوں، رتبہ اثبات تک نہیں پہنچا۔ اگر الا الہ کہوں گا تو جھوٹ ہو گا جو دل میں نہ ہو وہ زبان پر کیسے آئے، علماء نے اس جواب کو کفر قرار دیا۔ اور کہا کہ اگر توبہ نہ کرے تو قتل کا مستو جب ہے۔ سرمد جھوٹ کیسے بولتا۔ اس کا جرم یہ تھا کہ جو اس جام کو چھپ کر پیتے تھے، سرمد نے علانیہ منہ کو لگایا اور ہر سزا کا مستحق ٹھہرا۔ توبہ نہ کی تو قتل کا فتویٰ صادر ہوا۔ یہ واقعہ 1070ھ کا ہے جب عالمگیر کی حکومت کو ایک سال سے کچھ زیادہ وقت گزرا تھا۔
جب سرمد کو شہادت گاہ لے چلے تو تمام شہر ٹوٹ پڑا۔ راستہ چلنا دشوار ہو گیا۔ جب جلاد تلوار چمکاتا ہوا آگے بڑھا تو سرمد نے مسکرا کر اس سے نظر ملائی اور کہا ''تجھ پر قربان آئو آئو جس صورت میں بھی آئو میں تمہیں خوب پہچانتا ہوں۔'' ایک مورخ لکھتا ہے کہ اس جملے کے بعد سرمد نے یہ شعر پڑھا اور مردانہ وار سر تلوار کے نیچے رکھ دیا اور جان دے دی۔ ''ایک شور برپا ہوا اور اس میں خواب عدم سے میں نے آنکھ کھولی لیکن جب دیکھا کہ شب فتنہ باقی ہے تو پھر بند کر کے نیند میں چلا گیا''۔
سرمد کو جامع مسجد کے پہلو میں قتل کیا گیا اور وہیں دفن کر دیا گیا۔
مولانا آزاد کے بیان کو میں نے عام فہم بنانے کے لیے مختصر کر دیا ہے لیکن غالباً اصل بیان موجود ہے۔ جناب محمد انور زبیری مجددی نے اپنی اس کتاب 'سرمد ایک سمندر' پر تحقیق بھی لکھی ہے اور مولانا کے بیان پر جرح کی ہے مگر ان کا سب سے بڑا یاد گار کارنامہ رباعیات کا اردو زبان میں شعری ترجمہ ہے۔ افسوس کہ سرمد جیسی عظمت ہمارے لیے اجنبی ہی ہے۔ سیاست دوران نے اس کو گم کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔