سانحات کا منتظر شہر

فیکٹری میں کئی دفعہ آتشزدگی کی وارداتوں کے باوجود آگ پر قابو پانے کے لیے کوئی مشق نہیں کی گئی

tauceeph@gmail.com

کراچی میں گزشتہ ماہ صنعتی دور کی تاریخ کا بدترین واقعہ ہوا۔

بلدیہ ٹائون میں ایک گارمنٹس فیکٹری میں آتشزدگی کے واقعات میں 258 افراد جاں بحق ہوئے۔ کراچی شہر کے فائر بریگیڈ کے تمام اسٹیشن 30 گھنٹے تک آگ بجھانے میں ناکام رہے، حکومت نے اس حادثے کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن قائم کیا مگر حکومتی اہلکاروں نے اس کمیشن کی رپورٹ کی تکمیل میں دلچسپی نہیں لی مگر عیدالاضحیٰ کے موقع پر گلبائی کے صنعتی علاقے میں ایک کیمیکل فیکٹری میں آگ لگ گئی، فائر بریگیڈ کا عملہ 30 گھنٹوں کی کوششوں کے باوجود آگ پر قابو پانے میں ناکام رہا۔ عید کی تعطیلات کے باعث اس فیکٹر ی میں کارکن موجود نہیں تھے، اس بنا پر کوئی جانی نقصان تو نہیں ہوا مگر اربوں روپے مالیت کی یہ فیکٹری جل کر خاک ہوگئی، کئی سو کارکن روزگار سے محروم ہوئے، فیکٹری کے مالکان منافع اور ملک صنعتی زرمبادلہ سے محروم ہوئے۔

عید کے دنوں میں کئی فیکٹریوں میں آتشزدگی کے واقعات رونما ہوئے مگر فائر بریگیڈ کا عملہ ان تمام وارداتوں پر قابو پانے میں ناکام رہا۔ جب گزشتہ ماہ بلدیہ ٹائون میں آتشزدگی کا بدترین حادثہ رونما ہوا تھا تو وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اپنی اپنی ایجنسیوں کو تحقیقات پر مامور کیا تھا۔ وفاقی حکومت نے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی ایف آئی اے کے ذریعے تحقیقات کرائی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ خفیہ ایجنسیوں جن میں عسکری ایجنسیاں بھی شامل ہیں، نے اس واقعے کے اسباب جاننے کے لیے تحقیقات کی تھی، ان ایجنسیوں کے اہلکاروں نے کئی مہینوں تک فیکٹری مالکان، متاثر ہونے والے کارکنوں، ہلاک ہونے والے کارکنوں کے لواحقین سے انٹرویو کیے تھے اور عمارت کے معائنے، بجلی کی ترسیل کے نظام کا بغور مطالعہ کیا تھا، ایف آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ صحافیوں کو مل گئی تھی۔

ایف آئی اے نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ فیکٹری کی عمارت کے منظور شدہ نقشے میں سنگین خلاف ورزی کی گئی تھی، اس طرح شہری دفاع کے قوانین کو یکسر نظر انداز کیا گیا تھا، رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ فیکٹری میں گنجائش سے زیادہ کارکنوں کو ملازم رکھا گیا تھا۔ رپورٹ میں اس سانحے کی ذمے داری فیکٹری کی انتظامیہ اور متعلقہ شہری اداروںپر عائد کی گئی تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ معائنے میں عمارت کے نقشے میں دوسری منزل موجود نہیں تھی مگر انتظامیہ نے لکڑی کی چھت ڈال کر دوسری منزل آباد کی تھی اور دوسری منزل سے گزرنے والا ہنگامی راستہ بند کردیا گیا تھا، اس طرح فیکٹری میں واٹرہائیڈرنٹ موجود تھا مگر ہائیڈرنٹ فعال نہیں تھا، فیکٹری میں کئی دفعہ آتشزدگی کی وارداتوں کے باوجود آگ پر قابو پانے کے لیے کوئی مشق نہیں کی گئی تھی۔

اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اس فیکٹری میں حادثے والے دن صبح میں آگ لگی اور زیادہ تر افراد دم گھٹنے سے ہلاک ہوئے۔ کہا جاتا ہے کہ کراچی پولیس نے بھی ایسی ہی تحقیقاتی رپورٹ تیار کی تھی، یہ رپورٹیں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اعلیٰ افسروں اور وزرا کو فراہم کی گئی تھیں مگر ان رپورٹوں پر کارروائی کرنے یا انھیں تحقیقاتی ٹریبونل کے سامنے پیش کرنے کے بجائے خاموشی سے داخل دفتر کردیا گیا۔ حکومت نے عوام کے مطالبے کے زور کو کم کرنے کے لیے ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس قربان زاہد علوی پر مشتمل ایک رکنی کمیشن قائم کیا تھا جب کہ تاریخ کے اس بدترین حادثے کی تحقیقات کے لیے ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کی حاضر سروس جج پر مشتمل ٹریبونل قائم ہونا چاہیے تھا۔


جسٹس قربان علوی نے گزشتہ ماہ متعلقہ ایجنسیوں، متاثرہ افراد اور فیکٹری کے مالکان کے بیانات ریکارڈ کرنے کے بعد اپنی تحقیقاتی رپورٹ تیار کرلی تھی مگر حکومت نے رپورٹ کے حصول کے لیے ٹریبونل کے چیئرمین سے تاحال رابطہ نہیں کیا۔ ایکسپریس کے رپورٹر نے اپنی رپورٹ میں تحریر کیا ہے کہ حکومت کو جسٹس قربان علوی کی رپورٹ سے کوئی دلچسپی نہیں ہے، اس بنا پر حکومت نہ تو رپورٹ لینے میں سنجیدہ ہے نہ ہی اس رپورٹ میں پیش کی گئی سفارشات پر عمل درآمد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

آتشزدگی کے واقعے نے تمام ہوش مند لوگوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا، اس آتشزدگی کے بارے میں کچھ لوگوں نے مختلف نوعیت کی سازشی تھیوریاں اخذ کرلی تھیں مگر غیر سرکاری تنظیموں، مزدور یونینوں، ایف آئی اے، پولیس حکام نے اس آتشزدگی کی ذمے داری رائج الوقت قوانین پر عملدرآمد نہ کرنے پر ڈالی تھی۔ کراچی میں حادثات کی رپورٹنگ کرنے والے سینئر صحافیوں کا کہنا ہے کہ کراچی میں آتشزدگی کی وارداتوں میں تیزی آئی ہے۔ بنیادی وجوہات میں عمارتوں کی تعمیر کے لیے عائد قوانین، مزدوروں کے حالات کار سے متعلق قوانین، آگ بجھانے سے متعلق قوانین اور شہری اداروں کے قوانین پر عملدرآمد نہ کرنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ 70 اور 80 کی دہائی میں مزدور تحریک کے فعال ہونے کی بنا پر مزدور قوانین نافذ ہوئے تھے۔

جنرل یحییٰ خان اور ذوالفقار علی بھٹو کو ان قوانین کے نفاذ کے لیے ایک مربوط لائحہ عمل تیار کرنا پڑا تھا مگر 80 کی دہائی کے وسط میں جنرل ضیاء الحق کا اقتدار آنے کے بعد مزدور تحریک کے ارتقا کے راستے بند ہوگئے تھے۔ یحییٰ خان اور ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں مزدوروں کے حالات کار کو بہتر بنانے، کارخانوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے جو قوانین نافذ کیے گئے تھے، جنرل ضیاء الحق کے اقتدار میں آنے کے بعد یہ قوانین بے اثر ہوگئے، پھر بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، فائر بریگیڈ، شہری دفاع کے محکمے بے اثر ہوگئے۔ جدید شہروں میں شہری دفاع کا محکمہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے رضاکاروں کی تربیت کا فریضہ انجام دیتا ہے، یہ محکمہ ہر محلے میں فوری امداد کے لیے جگہ کی نشاندہی کرتا ہے، یہ محکمہ آتشزدگی جیسے واقعات میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے مگر اب اس محکمے کے افسران تنخواہوں کی وصولی کے علاوہ کچھ نہیں کرتے۔ سینئر رپورٹروں کا کہنا ہے کہ کراچی میں فائر بریگیڈ کا عملہ سیاسی بھرتیوں کی بنا پر معطل ہوکر رہ گیا ہے، شہر کی آبادی 2 کروڑ کے قریب پہنچ رہی ہے مگر فائر بریگیڈ اسٹیشن کی تعداد کم ہے۔

بے نظیر حکومت کے دور میں جب کیپٹن فہیم الزمان بلدیہ کراچی کے ایڈمنسٹریٹر بنے تو ان کے دور میں آگ بجھانے والی جدید گاڑیاں خریدی گئی تھیں مگر پھر جدید گاڑیوں کی خریداری پر توجہ نہیں دی گئی، تربیت یافتہ عملے کا بھی فقدان ہے۔ دنیا کے جدید ممالک میں آگ بجھانے، عمارتوں کے گرنے، سیلابی بارشوں وغیرہ میں ہنگامی فرائض انجام دینے کے لیے عملے کو جدید تربیت دی جاتی ہے، آگ بجھانے کے لیے جدید اسپرے، کیمیکل اور دوسرے آلات فراہم کیے جاتے ہیں مگر کراچی میں فائر بریگیڈ کا عملہ اب بھی پانی پر انحصار کرتا ہے۔ علم کیمیا کے ایک سینئر پروفیسر کا کہنا ہے کہ آگ بجھانے والے کیمیکل کی تیاری پر کثیر رقم خرچ ہوتی ہے، آلات کی فراہمی، گاڑیوں کو دن رات متحرک رکھنے کے لیے وافر مقدار میں سرمایہ مہیا کرنا پڑتا ہے مگر سندھ کی حکومت ان اہم معاملات پر رقم خرچ کرنے کو تیار نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گارمنٹس فیکٹری میں لگنے والی آگ کو ایک گھنٹے کے اندر تھرڈ گریڈ فائر قرار دے دیا گیا تھا مگر بلدیہ کراچی کے عملے کے پاس کیمیکل موجود نہیں تھے یوں آگ پر قابو نہیں پایا جاسکا۔ یہی صورتحال گلبائی کی کیمیکل فیکٹری میں ہوئی، جب پی اے ایف مسرور کے عملے کو آگ بجھانے کے لیے بلایا گیا تو اس نے جدید کیمیکل پر مشتمل فوم کو استعمال کرکے آگ کو ختم کیا۔

اس فیکٹری سے کاروبار کرنے والی جرمن فرم اس سانحے کے متاثرین کو کم سے کم 500 ڈالر فی کس ادا کرنے پر تیار ہوگئی ہے۔ مزدوروں کے وکیل شاہد علی ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ ملک کے تمام صنعتی علاقوں میں حفاظتی صورتحال ناگفتہ بہ ہے۔ کراچی کے صنعتی اداروں میں قوانین کو پامال کیا جارہا ہے جس کی بنا پر صنعتی حادثات کی شرح بڑھ گئی ہے۔ کرا چی میں علی گارمنٹس میں جو صورتحال ہوئی اگر اس صورتحال کے تدارک کے لیے اقدامات نہیں ہوئے تو کسی وقت بھی اس سے بڑا سانحہ رونما ہوسکتا ہے۔
Load Next Story