دہشت گردی…بھارت اور افغانستان کا کردار
افغانستان کی حکومت کو باہمی معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے
بھارت اور افغانستان کی پالیسیاں بھی اس خطے میں دہشت گرد گروہوں کو مضبوط اور محفوظ کرنے کا باعث بن رہی ہیں۔ فوٹو: فائل
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے جینوا سے لندن پہنچنے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان معاہدہ ہے کہ ہم اپنی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف کسی دہشت گرد کو استعمال نہیں کرنے دیں گے، پاکستان اس معاہدہ پر سختی سے کاربند ہے اور افغانستان بھی اس کی خلاف ورزی نہیں کر رہا ہے ۔
تاہم وزیراعظم نے کہا کہ بہت سے دہشت گرد عناصر افغانستان میں ہیں جو پاکستان میں حملوں میں ملوث ہیں جن میں آرمی پبلک اسکول پشاور اور حال ہی میں چارسدہ یونیورسٹی پر ہونے والا حملہ شامل ہے۔ انھوں نے واضح کیا کہ افغانستان کی ایک منتخب حکومت، مسلح افواج اور انٹیلی جنس ادارے ہیں اور یہ ان کی ذمے داری ہے کہ وہ کارروائی کریں۔ انھوں نے کہا کہ اس بات کی ضرورت ہے کہ اب اس کی روک تھام اور تدارک ہونا چاہیے۔
وزیراعظم کی باتیں درست ہیں' اصولاً افغانستان کی حکومت کو باہمی معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے لیکن عملاً ایسا نہیں ہو رہا۔ وزیراعظم پاکستان نے سفارتی آداب کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے یہ تو کہا ہے کہ افغانستان بھی معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کر رہا لیکن بین السطور پیغام واضح ہے کہ افغانستان کی حکومت دہشتگردوں کے خلاف کارروائی نہیں کر رہی ہے' حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی کی وارداتوں میں ملوث مولوی فضل اللہ اور اس کے ساتھی افغانستان کی سرزمین پر موجود ہیں' وہ افغانستان سے پاکستان میں آ کر کارروائیاں بھی کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود افغانستان کی فورسز ان کے خلاف کارروائی نہیں کر رہیں۔
افغانستان میں نیٹو اور امریکا کی فوجیں بھی موجود ہیں لیکن انھوں نے بھی پاکستان سے ملحقہ افغان علاقوں میں آپریشنز نہیں کیے اور نہ ہی پاک افغان سرحد کو سیل کرنے کے معاملے پر کوئی پیشرفت کی ہے۔ امریکا نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں متعدد ڈرون حملے کیے ہیں' ان حملوں میں بہت سے دہشتگرد مارے گئے ہیں لیکن افغانستان میں موجود پاکستان کو مطلوب دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر کبھی ڈرون حملے نہیں کیے۔ البتہ امریکا پاکستان سے ہمیشہ ڈومور کا مطالبہ کرتا چلا آ رہا ہے۔
ابھی گزشتہ روز بھی امریکی صدر نے بھارتی خبررساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے ایک بار پھر ڈومور کا روایتی مطالبہ دہرایا۔ انھوں نے کہا کہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی پالیسی درست ہے تاہم پاکستان کو مزید موثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے دہشتگردی کے خلاف پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی حالیہ کارروائیوں کی تعریف کی تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ شدت پسند مذہبی گروہوں کے خاتمے کے لیے مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔
صدر اوباما نے مزید فرمایا کہ پشاور حملے کے بعد پاکستان نے متعدد شدت پسند گروپوں کے خلاف کارروائی کی تاہم اس کے باوجود پاکستان میں اب بھی دہشت گرد حملے ہو رہے ہیں جس کی تازہ مثال چارسدہ یونیورسٹی پر حملہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین پر موجود دہشت گرد گروہوں کے خلاف زیادہ موثر کارروائی کر سکتا ہے اور اسے یہ ضرورکرنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس یہ ثابت کرنے کا موقع ہے کہ وہ دہشت گرد گروہوں کو ختم کرنے، انھیں توڑنے اور ان کی بیخ کنی کرنے میں سنجیدہ ہے۔ اوباما نے کہا کہ پٹھانکوٹ میں بھارتی ائیربیس پر حملہ اسی دہشت گردی کا تسلسل ہے۔
جس کا بھارت کو طویل عرصے سے سامنا ہے۔ ڈومور کا مطالبہ کرنے والے تنہا صدر اوباما ہی نہیں بلکہ بھارت کے دورے پر آئے ہوئے فرانسیسی صدر اولاندے نے بھی ان سے ملتی جلتی بات کی۔ وہ بھارت کے تین روزہ دورے پر ہیں۔ چندی گڑھ میں انھوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ انڈیا، فرانس بزنس سمٹ میں شرکت کی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق فرانسیسی صدر فرانسو اولاند کا کہنا ہے کہ بھارت پاکستان سے پٹھانکوٹ حملہ آوروں کے خلاف اقدامات کرنے کے مطالبے میں حق بجانب ہے۔
امریکا ہو' فرانس ہو یا برطانیہ ان سب ملکوں کا جھکاؤ بھارت کی طرف ہے۔ فرانسیسی صدر اور بھارتی وزیراعظم کی موجودگی میں بھارتی اور فرانسیسی کمپنیوں کے درمیان 16 معاہدوں پر دستخط ہوئے' فرانس اور بھارت کے درمیان جدید جنگی لڑاکا طیاروں کی خریداری کے معاہدے پر بھی بات چیت متوقع ہے' اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ فرانس کے بھارت کے ساتھ کتنے گہرے معاشی مفادات وابستہ ہیں۔
امریکا کے بھی بھارت میںوسیع مفادات ہیں' اس لیے ہی صدر اوبامہ اور صدر اولاند نے پٹھانکوٹ واقعے کے حوالے سے بھارت کی طرفداری کی حالانکہ پٹھانکوٹ حملے کے معاملے میں پاکستان کا کردار واضح ہے۔ پاکستان بھارت کے ساتھ بھرپور تعاون کر رہا ہے۔ امریکا' فرانس اور دیگر مغربی ممالک کی قیادت اس خطے کے حوالے سے یکطرفہ پالیسی اختیار کرنے کے بجائے افغانستان کی حکومت اور بھارتی حکومت کی پالیسیوں پر بھی غور کرے۔
بھارت اور افغانستان کی پالیسیاں بھی اس خطے میں دہشت گرد گروہوں کو مضبوط اور محفوظ کرنے کا باعث بن رہی ہیں۔ پاکستان نے اپنی سرزمین پر موجود دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کی ہے' اگر افغانستان کی حکومت بھی سنجیدگی سے اپنی سرزمین پر موجود دہشتگرد گروہوں کے خلاف کارروائی کرے اور بھارت بھی اس معاملے میں معاون بنے تو اس سارے خطے سے دہشتگردی کا خاتمہ ممکن ہو جائے گا۔ امریکا اور مغربی ممالک کو اس پہلو پر بھی لازماً غور کرنا چاہیے۔
تاہم وزیراعظم نے کہا کہ بہت سے دہشت گرد عناصر افغانستان میں ہیں جو پاکستان میں حملوں میں ملوث ہیں جن میں آرمی پبلک اسکول پشاور اور حال ہی میں چارسدہ یونیورسٹی پر ہونے والا حملہ شامل ہے۔ انھوں نے واضح کیا کہ افغانستان کی ایک منتخب حکومت، مسلح افواج اور انٹیلی جنس ادارے ہیں اور یہ ان کی ذمے داری ہے کہ وہ کارروائی کریں۔ انھوں نے کہا کہ اس بات کی ضرورت ہے کہ اب اس کی روک تھام اور تدارک ہونا چاہیے۔
وزیراعظم کی باتیں درست ہیں' اصولاً افغانستان کی حکومت کو باہمی معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے لیکن عملاً ایسا نہیں ہو رہا۔ وزیراعظم پاکستان نے سفارتی آداب کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے یہ تو کہا ہے کہ افغانستان بھی معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کر رہا لیکن بین السطور پیغام واضح ہے کہ افغانستان کی حکومت دہشتگردوں کے خلاف کارروائی نہیں کر رہی ہے' حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی کی وارداتوں میں ملوث مولوی فضل اللہ اور اس کے ساتھی افغانستان کی سرزمین پر موجود ہیں' وہ افغانستان سے پاکستان میں آ کر کارروائیاں بھی کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود افغانستان کی فورسز ان کے خلاف کارروائی نہیں کر رہیں۔
افغانستان میں نیٹو اور امریکا کی فوجیں بھی موجود ہیں لیکن انھوں نے بھی پاکستان سے ملحقہ افغان علاقوں میں آپریشنز نہیں کیے اور نہ ہی پاک افغان سرحد کو سیل کرنے کے معاملے پر کوئی پیشرفت کی ہے۔ امریکا نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں متعدد ڈرون حملے کیے ہیں' ان حملوں میں بہت سے دہشتگرد مارے گئے ہیں لیکن افغانستان میں موجود پاکستان کو مطلوب دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر کبھی ڈرون حملے نہیں کیے۔ البتہ امریکا پاکستان سے ہمیشہ ڈومور کا مطالبہ کرتا چلا آ رہا ہے۔
ابھی گزشتہ روز بھی امریکی صدر نے بھارتی خبررساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے ایک بار پھر ڈومور کا روایتی مطالبہ دہرایا۔ انھوں نے کہا کہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی پالیسی درست ہے تاہم پاکستان کو مزید موثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے دہشتگردی کے خلاف پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی حالیہ کارروائیوں کی تعریف کی تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ شدت پسند مذہبی گروہوں کے خاتمے کے لیے مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔
صدر اوباما نے مزید فرمایا کہ پشاور حملے کے بعد پاکستان نے متعدد شدت پسند گروپوں کے خلاف کارروائی کی تاہم اس کے باوجود پاکستان میں اب بھی دہشت گرد حملے ہو رہے ہیں جس کی تازہ مثال چارسدہ یونیورسٹی پر حملہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین پر موجود دہشت گرد گروہوں کے خلاف زیادہ موثر کارروائی کر سکتا ہے اور اسے یہ ضرورکرنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس یہ ثابت کرنے کا موقع ہے کہ وہ دہشت گرد گروہوں کو ختم کرنے، انھیں توڑنے اور ان کی بیخ کنی کرنے میں سنجیدہ ہے۔ اوباما نے کہا کہ پٹھانکوٹ میں بھارتی ائیربیس پر حملہ اسی دہشت گردی کا تسلسل ہے۔
جس کا بھارت کو طویل عرصے سے سامنا ہے۔ ڈومور کا مطالبہ کرنے والے تنہا صدر اوباما ہی نہیں بلکہ بھارت کے دورے پر آئے ہوئے فرانسیسی صدر اولاندے نے بھی ان سے ملتی جلتی بات کی۔ وہ بھارت کے تین روزہ دورے پر ہیں۔ چندی گڑھ میں انھوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ انڈیا، فرانس بزنس سمٹ میں شرکت کی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق فرانسیسی صدر فرانسو اولاند کا کہنا ہے کہ بھارت پاکستان سے پٹھانکوٹ حملہ آوروں کے خلاف اقدامات کرنے کے مطالبے میں حق بجانب ہے۔
امریکا ہو' فرانس ہو یا برطانیہ ان سب ملکوں کا جھکاؤ بھارت کی طرف ہے۔ فرانسیسی صدر اور بھارتی وزیراعظم کی موجودگی میں بھارتی اور فرانسیسی کمپنیوں کے درمیان 16 معاہدوں پر دستخط ہوئے' فرانس اور بھارت کے درمیان جدید جنگی لڑاکا طیاروں کی خریداری کے معاہدے پر بھی بات چیت متوقع ہے' اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ فرانس کے بھارت کے ساتھ کتنے گہرے معاشی مفادات وابستہ ہیں۔
امریکا کے بھی بھارت میںوسیع مفادات ہیں' اس لیے ہی صدر اوبامہ اور صدر اولاند نے پٹھانکوٹ واقعے کے حوالے سے بھارت کی طرفداری کی حالانکہ پٹھانکوٹ حملے کے معاملے میں پاکستان کا کردار واضح ہے۔ پاکستان بھارت کے ساتھ بھرپور تعاون کر رہا ہے۔ امریکا' فرانس اور دیگر مغربی ممالک کی قیادت اس خطے کے حوالے سے یکطرفہ پالیسی اختیار کرنے کے بجائے افغانستان کی حکومت اور بھارتی حکومت کی پالیسیوں پر بھی غور کرے۔
بھارت اور افغانستان کی پالیسیاں بھی اس خطے میں دہشت گرد گروہوں کو مضبوط اور محفوظ کرنے کا باعث بن رہی ہیں۔ پاکستان نے اپنی سرزمین پر موجود دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کی ہے' اگر افغانستان کی حکومت بھی سنجیدگی سے اپنی سرزمین پر موجود دہشتگرد گروہوں کے خلاف کارروائی کرے اور بھارت بھی اس معاملے میں معاون بنے تو اس سارے خطے سے دہشتگردی کا خاتمہ ممکن ہو جائے گا۔ امریکا اور مغربی ممالک کو اس پہلو پر بھی لازماً غور کرنا چاہیے۔