کراچی کے عوام کوایم کیوایم سے نجات دلائینگے تحریک طالبان
ان سے رعایت نہیں کرینگے،الطاف حسین کی جانب سے ریفرنڈم کرانے کے اعلان کاجواب.
موجودہ سیکولراورلادین نظام سے بغاوت پاکستانی مسلمانوں پرفرض ہے،ترجمان کا پیغام۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل
تحریک طالبان پاکستان نے ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین کی طرف سے اپنے خلاف ریفرنڈم کرانے کے اعلان کے جواب میں ایم کیو ایم کو مرتد اور ظالم قرار دیتے ہوئے کراچی کے عوام کو ایم کیوایم سے نجات دلانے کے لیے ان سے نمٹنے اورکوئی رعایت نہ کرنے کا جوابی اعلان کردیا۔
تحریک طالبان نے پاکستان میں رائج موجودہ سیکولر اورلادین نظام سے بغاوت کوپاکستانی مسلمانوں پر فرض قراردیتے ہوئے بلوچستان اورسندھ کی قوم پرست جماعتوں ، بلوچ لبریشن آرمی اور سندھ لبریشن آرمی کواپنے حقوق کے لیے اسلامی طریقے سے جدوجہد کرنے کی دعوت دی اورکہاکہ طالبان آئندہ انتخابات کیلیے نئے سرے سے اپنی حکمت عملی بنائیںگے اورموجودہ سیاسی جماعتوں کو 3 درجوں میں تقسیم کیا جائے گا، تحریک طالبان نے چیف جسٹس سمیت تمام ججوں سے کہا ہے کہ وہ موجودہ سیکولر قوانین اورکفری نظام کے بجائے اسلامی نظام کے لیے کام کریں، جمعہ کو تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان احسان اللہ احسان کی طرف سے میڈیا کو بھجوائے گئے پیغام میں کہا گیا ہے کہ اسلامی نظام سے انحراف کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے۔
اسلام میں نظام حکومت اس کے متعین مقاصد کے حصول کا ذریعہ ہے ، اقتدار حکومت بذات خود مقصود نہیں کیونکہ یہ مقاصد بغیرغلبہ واقتدار کے حاصل نہیں ہوسکتے لہٰذا اسلام نے انکے حصول کے لیے غلبہ و اقتدار کو لازم قرار دیا ہے، تحریک طالبان پاکستان اسلامی شریعت کے احکامات کے مطابق ہرطاغوت اور کفر کے خلاف نبردآزما ہے۔ ہم نے ایم کیو ایم سے نمٹنے کا فیصلہ کراچی کے مظلوم عوام کو ان ظالموںکے چنگل سے نجات دلانے کے لیے کیا ہے اور ہم ہرمظلوم کے ساتھ ہیں، ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔
تحریک طالبان نے پاکستان میں رائج موجودہ سیکولر اورلادین نظام سے بغاوت کوپاکستانی مسلمانوں پر فرض قراردیتے ہوئے بلوچستان اورسندھ کی قوم پرست جماعتوں ، بلوچ لبریشن آرمی اور سندھ لبریشن آرمی کواپنے حقوق کے لیے اسلامی طریقے سے جدوجہد کرنے کی دعوت دی اورکہاکہ طالبان آئندہ انتخابات کیلیے نئے سرے سے اپنی حکمت عملی بنائیںگے اورموجودہ سیاسی جماعتوں کو 3 درجوں میں تقسیم کیا جائے گا، تحریک طالبان نے چیف جسٹس سمیت تمام ججوں سے کہا ہے کہ وہ موجودہ سیکولر قوانین اورکفری نظام کے بجائے اسلامی نظام کے لیے کام کریں، جمعہ کو تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان احسان اللہ احسان کی طرف سے میڈیا کو بھجوائے گئے پیغام میں کہا گیا ہے کہ اسلامی نظام سے انحراف کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے۔
اسلام میں نظام حکومت اس کے متعین مقاصد کے حصول کا ذریعہ ہے ، اقتدار حکومت بذات خود مقصود نہیں کیونکہ یہ مقاصد بغیرغلبہ واقتدار کے حاصل نہیں ہوسکتے لہٰذا اسلام نے انکے حصول کے لیے غلبہ و اقتدار کو لازم قرار دیا ہے، تحریک طالبان پاکستان اسلامی شریعت کے احکامات کے مطابق ہرطاغوت اور کفر کے خلاف نبردآزما ہے۔ ہم نے ایم کیو ایم سے نمٹنے کا فیصلہ کراچی کے مظلوم عوام کو ان ظالموںکے چنگل سے نجات دلانے کے لیے کیا ہے اور ہم ہرمظلوم کے ساتھ ہیں، ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔