چینی نجی سرمایہ کاری میں کمیونی کیشن گیپ حائل ہونے کاخطرہ
حالیہ دورے میں چینی وفدکی اکثریت انگریزی پریزنٹیشنزکے دوران اسمارٹ فونزمیں مصروف رہی
وفدکے سربراہ نے مسئلہ بتایا،سرمایہ کاروںکامترجم کی خدمات لینے،چینی اور اردوکے فروغ پرزور فوٹو: فائل
ہمالیہ سے بلند اور سمندر سے گہری پاک چین دوستی کو اقتصادی شراکت خصوصاً چین کی نجی سرمایہ کاری کے فروغ کی راہ میں ''زبان سے نا آشنائی'' چیلنج بن کر سامنے آگئی ہے۔
حال ہی میں پاکستان کا دورہ کرنے والے چینی سرمایہ کاروں کے وفد کی کراچی آمد کے موقع پر سندھ حکومت اور دیگر متعلقہ اداروں کی جانب سے تمام پریزنٹیشنز انگریزی زبان میں دی گئیں اور مترجم دستیاب ہونے کے باوجود اس کا استعمال نہیں کیا گیا۔
100 رکنی چینی تجارتی وفد کے پاکستان میں آخری پڑاؤ کے دوران کراچی میں کاروباری ملاقاتوں سے قبل وزیر خزانہ، چیف سیکریٹری اور دیگر اہم عہدے داروں نے انگریزی زبان میں اظہار خیال کیا جبکہ سندھ میں سرمایہ کاری کے امکانات، انفرااسٹرکچر سہولتوں، خصوصی اکنامک زونز، سرمایہ کاری پالیسی اور حکومتی ترغیبات سمیت تمام معلومات انگریزی میں بیان کی گئیں۔
صورتحال اس وقت دلچسپ ہوگئی جب پریزنٹیشن کے اختتام پر وفد کے سربراہ ایمبسڈر شا ژوکانگ نے انکشاف کیا کہ وفد میں شامل نجی سرمایہ کار انگریزی سے نابلد ہیں، اسی لیے ان میں سے اکثر پریزنٹیشن کے دوران اپنے اسمارٹ فونز میں مصروف رہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے دی جانے والی پریزنٹیشنز اور معلومات انتہائی اہم ہیں اور سرمایہ کاری کے لیے ان ہی معلومات کی ضرورت ہے لیکن پریزنٹیشنز کو انگریزی کے ساتھ چینی زبان میں ترجمہ کرکے یا پریزنٹیشنز کے دوران مترجم کی مدد لیے جانے سے زیادہ موثر ابلاغ کیا جاسکتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے مابین دیرینہ تعلقات کے باوجود زبان کا فاصلہ چیلنج ہے جسے حل کرنا بہت ضروری ہے، سندھ حکومت کی تمام معلومات اور پریزنٹیشن اب چینی حکومت اپنے وسائل سے چینی میں ترجمہ کراکے چینی سرمایہ کاروں کو فراہم کرے گی تاکہ سندھ میں سرمایہ کاری سے متعلق فیصلہ ٹھوس معلومات کی بنیاد پر کیا جاسکے۔
اس موقع پر ''ایکسپریس'' سے بات کرتے ہوئے پاکستانی سرمایہ کاروں نے کہا کہ چین کے ساتھ اقتصادی فوائد کے امکانات کا بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے چین میں اردو اور پاکستان میں چینی زبان کی ترویج بہت ضروری ہے، اس مقصد کے لیے مربوط اور جامع منصوبے کی ضرورت ہے جسے چین پاکستان اقتصادی راہداری کا حصہ بنایا جائے، چین کے ساتھ طلبہ کے وفود کے تبادلوں، جامعات اور درس گاہوں میں اسکالرز شپ کے علاوہ عوامی رابطوں میں اضافے کی ضرورت ہے۔
اس کے ساتھ چینی، انگریزی اردو سمیت پاکستان کی علاقائی زبانوں کے درمیان ترجمے کی سہولت فراہم کرنے کے لیے جدید سہولتوں سے آراستہ کال سینٹرز کے قیام، ترجمے کی موبائل ایپلی کیشنز، وائس سروسز کے شعبے میں بھی سرمایہ کاری ضروری ہے۔
حال ہی میں پاکستان کا دورہ کرنے والے چینی سرمایہ کاروں کے وفد کی کراچی آمد کے موقع پر سندھ حکومت اور دیگر متعلقہ اداروں کی جانب سے تمام پریزنٹیشنز انگریزی زبان میں دی گئیں اور مترجم دستیاب ہونے کے باوجود اس کا استعمال نہیں کیا گیا۔
100 رکنی چینی تجارتی وفد کے پاکستان میں آخری پڑاؤ کے دوران کراچی میں کاروباری ملاقاتوں سے قبل وزیر خزانہ، چیف سیکریٹری اور دیگر اہم عہدے داروں نے انگریزی زبان میں اظہار خیال کیا جبکہ سندھ میں سرمایہ کاری کے امکانات، انفرااسٹرکچر سہولتوں، خصوصی اکنامک زونز، سرمایہ کاری پالیسی اور حکومتی ترغیبات سمیت تمام معلومات انگریزی میں بیان کی گئیں۔
صورتحال اس وقت دلچسپ ہوگئی جب پریزنٹیشن کے اختتام پر وفد کے سربراہ ایمبسڈر شا ژوکانگ نے انکشاف کیا کہ وفد میں شامل نجی سرمایہ کار انگریزی سے نابلد ہیں، اسی لیے ان میں سے اکثر پریزنٹیشن کے دوران اپنے اسمارٹ فونز میں مصروف رہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے دی جانے والی پریزنٹیشنز اور معلومات انتہائی اہم ہیں اور سرمایہ کاری کے لیے ان ہی معلومات کی ضرورت ہے لیکن پریزنٹیشنز کو انگریزی کے ساتھ چینی زبان میں ترجمہ کرکے یا پریزنٹیشنز کے دوران مترجم کی مدد لیے جانے سے زیادہ موثر ابلاغ کیا جاسکتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے مابین دیرینہ تعلقات کے باوجود زبان کا فاصلہ چیلنج ہے جسے حل کرنا بہت ضروری ہے، سندھ حکومت کی تمام معلومات اور پریزنٹیشن اب چینی حکومت اپنے وسائل سے چینی میں ترجمہ کراکے چینی سرمایہ کاروں کو فراہم کرے گی تاکہ سندھ میں سرمایہ کاری سے متعلق فیصلہ ٹھوس معلومات کی بنیاد پر کیا جاسکے۔
اس موقع پر ''ایکسپریس'' سے بات کرتے ہوئے پاکستانی سرمایہ کاروں نے کہا کہ چین کے ساتھ اقتصادی فوائد کے امکانات کا بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے چین میں اردو اور پاکستان میں چینی زبان کی ترویج بہت ضروری ہے، اس مقصد کے لیے مربوط اور جامع منصوبے کی ضرورت ہے جسے چین پاکستان اقتصادی راہداری کا حصہ بنایا جائے، چین کے ساتھ طلبہ کے وفود کے تبادلوں، جامعات اور درس گاہوں میں اسکالرز شپ کے علاوہ عوامی رابطوں میں اضافے کی ضرورت ہے۔
اس کے ساتھ چینی، انگریزی اردو سمیت پاکستان کی علاقائی زبانوں کے درمیان ترجمے کی سہولت فراہم کرنے کے لیے جدید سہولتوں سے آراستہ کال سینٹرز کے قیام، ترجمے کی موبائل ایپلی کیشنز، وائس سروسز کے شعبے میں بھی سرمایہ کاری ضروری ہے۔