روس میں پولیس افسر نے سڑک ’چُرالی ‘

محکمہ جیل کے ڈپٹی چیف نے پچھلے ایک سال کے دوران شاہراہ پر جمی ہوئی کنکریٹ کی تمام سلیں اکھاڑ کر بیچ ڈالیں

الیگزینڈر نے کئی تمغے حاصل کررکھے ہیں فوٹو : فائل

دنیا بھر میں چوری کے واقعات تو ہوتے ہی رہتے ہیں۔ نقدی اور قیمتی اشیاء چوروں کا ہدف ہوتی ہیں مگرکبھی آپ نے سنا ہے کہ سڑک چُرالی گئی ہو! گذشتہ دنوں روس میں ایک اعلیٰ سرکاری اہل کار سڑک ' چُرانے' کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا۔ الیگزینڈر پروتوپوف محکمہ جیل خانہ جات کا قائم مقام ڈپٹی چیف ہے۔ اسے کومی کے علاقے میں واقع 50 کلومیٹر طویل سڑک کو ' چُرانے' کے الزام پر حراست میں لیا گیا ہے۔

کومی، روس کے شمال میں ایک دوراُفتادہ علاقہ ہے۔ اس کی آبادی نو لاکھ مگر رقبہ چار لاکھ مربع کلومیٹر سے زائد ہے۔ پاکستان کے نصف رقبے سے زیادہ بڑا یہ علاقہ قدرتی وسائل جیسے تیل، گیس اور جنگلات سے مالا مال ہے۔ کومی میں شاہراہوں کا جال بچھا ہوا ہے۔ ان میں سے کئی سڑکیں ایسی ہیں جن پر سے ٹریفک شاذ ہی گزرتا ہے۔ یہ بھی ایک ایسی ہی شاہراہ تھی جو الیگزینڈر کی ہوس زر کی نذر ہوگئی۔

پولیس کے مطابق محکمہ جیل کے ڈپٹی چیف نے پچھلے ایک سال کے دوران شاہراہ پر جمی ہوئی کنکریٹ کی تمام سلیں اکھاڑ کر بیچ ڈالیں۔ 50 کلومیٹر لمبی سڑک پر 7000 سِلیں دو سال پہلے ہی بچھائی گئی تھیں۔ ان کی خریداری اور تنصیب پر قومی خزانے سے 60لاکھ روبل سے زائد رقم خرچ ہوئی تھی۔


2010ء سے 2015ء کے درمیان الیگزینڈر پروتوپوف کی پوسٹنگ کومی میں تھی۔ اس نے یہ ' کارنامہ' اسی دوران انجام دیا تھا۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ الیگزینڈر نے کئی تمغے حاصل کررکھے ہیں۔ ان میں پیشہ ورانہ خدمات کے علاوہ قیدیوں میں مذہبی رواداری اور ' روحانی یگانگت' کے فروغ پر ملنے والا تمغہ بھی شامل ہے۔

شاہراہ کی ' چوری' کا کارنامہ الیگزینڈر کی کومی میں تعیناتی کے دوران ہی سامنے آچکا تھا۔ مگر اپنے اثرورسوخ کی وجہ سے وہ تحقیقات کے آغاز میں رکاوٹ بن گیا تھا۔ چند ماہ پہلے کومی سے الیگزینڈر کا ٹرانسفر ہوجانے کے بعد محکمہ شاہرات نے تحقیقات شروع کیں۔ پھر یہ معاملہ پولیس کے حوالے کردیا گیا۔

پولیس کی تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ سڑک کی ' چوری' میں الیگزینڈر پروتوپوف کے علاوہ محکمہ جیل کا ایک اورافسر اور ایک تاجر ملوث ہے جسے کنکریٹ کی سلیں فروخت کی گئی تھیں۔ ان دونوں افرادکو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے۔ (ع۔ر ) n

 
Load Next Story