این ایف سی ایوارڈ میں تاخیر کی شکایت
خیبرپختونخوا نے نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ میں پانچ فیصد اضافی حصہ کا مطالبہ کر دیا ہے
ضرورت بس صوبائی ہم آہنگی، افہام و تفہیم ، قومی اقتصادی پالیسیوں اور ہمہ گیر منصوبوں کے جملہ ثمرات سے عوام کو فیضیاب کرنا ہے۔ فوٹو : فائل
ISLAMABAD:
خیبرپختونخوا نے نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ میں پانچ فیصد اضافی حصہ کا مطالبہ کر دیا ہے۔ خیبرپختونخوا کے صوبائی وزیر خزانہ مظفر سید کا کہنا تھا کہ این ایف سی ایوارڈ میں تاخیر کسی صوبے کے مفاد میں نہیں، پن بجلی کی رائلٹی کی مد میں وفاقی کے ذمے144ارب روپے کے بقایاجات ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ این ایف سی ایوارڈ کا بنیادی مقصد وفاق کی جانب سے صوبوں کو معاشی فوائد مہیا کرتے ہوئے مالیاتی عدم توازن سے بچانا اور قومی وسائل کی مساویانہ اور منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانا ہے۔ یہ پروگرام جب 1951ء میں طے پایا تو نیشنل فنانس کمیشن کی ہدایات کی روشنی میں وفاقی و صوبائی حکومتوں کے لیے لازمی ہوگیا کہ وہ ملک کی وفاقی اکائیوں میں ہر طرح سے اقتصادی و مالیاتی معاملات اور وسائل کی تقسیم پر اتفاق رائے کا ماحول پیدا کریں اور قومی یک جہتی کو مضبوط بنائیں۔
لہٰذا انھی خطوط پر پیر کو این ایف سی ورکنگ گروپ کے اجلاس کے بعد کے پی کے ہاؤس میں وزیر خزانہ پنجاب عائشہ غوث کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مظفر سید نے کہا کہ وفاق این ایف سی ایوارڈ میں تاخیر نہ کرے اور نیشنل ایکشن پلان کے تحت اخراجات مہیا کرے نیز دہشتگردی کے نقصانات اور قربانیوں کا احساس کرتے ہوئے خیبرپختونخوا کو پانچ فیصد اضافی حصہ دیا جائے۔ یہ اگر جائز مطالبہ ہے تو وفاق کو اس پر ہمدردی سے غور کرنا چاہیے۔
عائشہ غوث کا انداز نظر بھی اسی سے ملتا جلتا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ پنجاب دہشتگردی کے حوالے سے خیبرپختونخوا کے درد میں شریک ہے، تمام صوبے اپنی ضروریات اور ترجیحات سے آگاہ کر رہے ہیں جس کے بعد این ایف سی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ وفاق کو این ایف سی ایوارڈ کے سلسلہ میں صوبوں کی حساسیت کو مد نظر رکھنا چاہیے۔ میڈیا میں این ایف سی ایوارڈ کے حوالہ سے سندھ کو بھی کافی تحفظات تھے ۔
جس کا وفاق نے سختی سے نوٹس لیا اور وزیراعلیٰ سندھ نے وزیراعظم سے ملاقاتوں میں اس مسئلہ پر سیر حاصل گفتگو بھی کی،اس وقت معیشت کے استحکام کی ضرورت ہے، ملک حالت جنگ میں ہے اس لیے صوبوں میں مالیاتی امور اور وسائل کی تقسیم پر کسی قسم کا اضطراب قومی مفاد میں نہیں ہے۔
ایوارڈ کے تحت صوبوں کا جو حق بنتا ہے وہ انھیں ملنا چاہیے تاکہ کسی کو شکایت نہ ہو،ایوارڈ کی اس کی روح کے مطابق منصفانہ طریقے پر اور طے شدہ میعاد میں ادائیگی کا شفاف طریقہ کار جتنا مستحکم ہوگا ترقی کا عمل اور عوام کی خوشحالی کی منزل اتنی جلد قریب آجائیگی۔ضرورت بس صوبائی ہم آہنگی، افہام و تفہیم ، قومی اقتصادی پالیسیوں اور ہمہ گیر منصوبوں کے جملہ ثمرات سے عوام کو فیضیاب کرنا ہے۔
خیبرپختونخوا نے نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ میں پانچ فیصد اضافی حصہ کا مطالبہ کر دیا ہے۔ خیبرپختونخوا کے صوبائی وزیر خزانہ مظفر سید کا کہنا تھا کہ این ایف سی ایوارڈ میں تاخیر کسی صوبے کے مفاد میں نہیں، پن بجلی کی رائلٹی کی مد میں وفاقی کے ذمے144ارب روپے کے بقایاجات ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ این ایف سی ایوارڈ کا بنیادی مقصد وفاق کی جانب سے صوبوں کو معاشی فوائد مہیا کرتے ہوئے مالیاتی عدم توازن سے بچانا اور قومی وسائل کی مساویانہ اور منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانا ہے۔ یہ پروگرام جب 1951ء میں طے پایا تو نیشنل فنانس کمیشن کی ہدایات کی روشنی میں وفاقی و صوبائی حکومتوں کے لیے لازمی ہوگیا کہ وہ ملک کی وفاقی اکائیوں میں ہر طرح سے اقتصادی و مالیاتی معاملات اور وسائل کی تقسیم پر اتفاق رائے کا ماحول پیدا کریں اور قومی یک جہتی کو مضبوط بنائیں۔
لہٰذا انھی خطوط پر پیر کو این ایف سی ورکنگ گروپ کے اجلاس کے بعد کے پی کے ہاؤس میں وزیر خزانہ پنجاب عائشہ غوث کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مظفر سید نے کہا کہ وفاق این ایف سی ایوارڈ میں تاخیر نہ کرے اور نیشنل ایکشن پلان کے تحت اخراجات مہیا کرے نیز دہشتگردی کے نقصانات اور قربانیوں کا احساس کرتے ہوئے خیبرپختونخوا کو پانچ فیصد اضافی حصہ دیا جائے۔ یہ اگر جائز مطالبہ ہے تو وفاق کو اس پر ہمدردی سے غور کرنا چاہیے۔
عائشہ غوث کا انداز نظر بھی اسی سے ملتا جلتا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ پنجاب دہشتگردی کے حوالے سے خیبرپختونخوا کے درد میں شریک ہے، تمام صوبے اپنی ضروریات اور ترجیحات سے آگاہ کر رہے ہیں جس کے بعد این ایف سی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ وفاق کو این ایف سی ایوارڈ کے سلسلہ میں صوبوں کی حساسیت کو مد نظر رکھنا چاہیے۔ میڈیا میں این ایف سی ایوارڈ کے حوالہ سے سندھ کو بھی کافی تحفظات تھے ۔
جس کا وفاق نے سختی سے نوٹس لیا اور وزیراعلیٰ سندھ نے وزیراعظم سے ملاقاتوں میں اس مسئلہ پر سیر حاصل گفتگو بھی کی،اس وقت معیشت کے استحکام کی ضرورت ہے، ملک حالت جنگ میں ہے اس لیے صوبوں میں مالیاتی امور اور وسائل کی تقسیم پر کسی قسم کا اضطراب قومی مفاد میں نہیں ہے۔
ایوارڈ کے تحت صوبوں کا جو حق بنتا ہے وہ انھیں ملنا چاہیے تاکہ کسی کو شکایت نہ ہو،ایوارڈ کی اس کی روح کے مطابق منصفانہ طریقے پر اور طے شدہ میعاد میں ادائیگی کا شفاف طریقہ کار جتنا مستحکم ہوگا ترقی کا عمل اور عوام کی خوشحالی کی منزل اتنی جلد قریب آجائیگی۔ضرورت بس صوبائی ہم آہنگی، افہام و تفہیم ، قومی اقتصادی پالیسیوں اور ہمہ گیر منصوبوں کے جملہ ثمرات سے عوام کو فیضیاب کرنا ہے۔