شکستوں کے آتشدان سے اختلافات کی چنگاریاں بھڑکنے لگیں
عدم تعاون سے دلبرداشتہ وقار یونس نے عہدہ چھوڑنے کی پیشکش کردی
چند پلیئر ملک نہیں صرف ٹیم میں اپنی جگہ برقرار رکھنے کیلیے کھیل رہے ہیں، ہیڈ کوچ۔ فوٹو: فائل
قومی کرکٹ ٹیم کی شکستوں کے آتشدان سے اختلافات کی چنگاریاں بھڑکنے لگیں، کھلاڑیوں کے عدم تعاون سے دلبرداشتہ وقار یونس نے عہدہ چھوڑنے کی پیشکش کردی۔
تفصیلات کے مطابق وقار یونس کی رہنمائی میں پاکستان کی ٹیسٹ میں کارکردگی تو قابل رشک رہی لیکن محدود اوورز میں زوال کی جانب ایسا سفر شروع ہوا جو آج تک تھم نہیں سکا، ٹی ٹوئنٹی میں گرین شرٹس دوسری پوزیشن پر تھے، انگلینڈ اور نیوزی لینڈ نے شکستوں سے دوچار کرتے ہوئے ساتویں نمبر پر دھکیل دیا، ون ڈے میں بھی ٹیم بڑی مشکل سے چیمپئنز ٹرافی میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئی، دورہ بنگلہ دیش میں کلین سوئپ کی خفت برداشت کرنا پڑی، ورلڈکپ میں ناقص کارکردگی نے شائقین کو مایوس کیا۔
صرف زمبابوے جیسی کمزور ٹیم اور سری لنکا کیخلاف سیریز میں کامیابیاں حاصل ہوئیں، یواے ای کی سازگار کنڈیشنز میں انگلینڈ نے دھرلیا، اب دورہ نیوزی لینڈ کے پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ میں فتح کے بعد پاکستان نے دونوں مقابلوں میں بغیر لڑے ہتھیار ڈال دیئے، پہلے ون ڈے میں کیویز کی 6وکٹیں صرف 99رنز پر گرانے کے بعد بولرز ٹیل اینڈرز کو نہ سنبھال سکے، اس صورتحال میں ٹیم مینجمنٹ پر دباؤ بڑھنے لگا اور کھلاڑیوں سے اختلافات کی چنگاریوں کو بھی ہوا ملنے لگی ہے۔
''ایکسپریس ٹریبیون'' کی رپورٹ کے مطابق وقار یونس اور معاون اسٹاف میں شامل مشتاق احمد اورگرانٹ فلاوربیٹنگ و بولنگ میں پلان کا میدان میں عملی اظہار نہ کرنے پر پلیئرز سے خوش نہیں ہیں، ہیڈ کوچ نے ٹیم میٹنگ میں یہاں تک کہہ دیاکہ اگر کھلاڑی موجودہ مینجمنٹ کے ساتھ کام نہیں کرنا چاہتے تو ہم اپنے عہدے چھوڑنے کیلیے تیار ہیں، گرین شرٹس کے ساتھ موجود ایک آفیشل کا کہنا ہے کہ وقار یونس اور ان کے معاونین نے 2014 میں ذمہ داریاں سنبھالنے سے اب تک تیسری بار عہدے چھوڑنے کی دھمکی دی، ٹیم کی شکستوں کے بعد اب وہ خود نوشتہ دیوار پڑھ رہے ہیں۔
حالیہ ناکامیوں کے بعد ٹیم میٹنگ میں ہیڈ کوچ کے جملوں نے ڈریسنگ روم کا ماحول تناؤ کا شکار کردیا، کھلاڑیوں اور مینجمنٹ میں اعتماد کی فضا کا فقدان نظر آتا ہے، اگر صورتحال یہی رہی تو ایشیاکپ اور ورلڈ ٹی ٹوئنٹی سے قبل ڈریسنگ روم کا ماحول خوشگوار بنانا مشکل ہوجائے گا، اس کے منفی اثرات سے پاکستان ٹیم کی مشکلات مزید بڑھ جائیں گی،آفیشل نے بتایا کہ وقار یونس کو شدت سے احساس ہوتا ہے کہ کرکٹرز ملک کے بجائے صرف اسکواڈ میں اپنی جگہ پکی کرنے کیلیے کھیل رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق کھلاڑیوں نے بھی تصدیق کی کہ پاکستانی کیمپ میں خوشگوار فضا موجود نہیں،ایک کرکٹر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کی شکست نے پلیئرز اور مینجمنٹ دونوںکو دلبرداشتہ کیا، ایک اچھا آغاز ملنے کے بعد ٹیم کارکردگی کا تسلسل برقرار نہیں رکھ پائی، وقار یونس اور ان کے معاون اسٹاف کا خیال ہے کہ بولرز نے پلان کے مطابق گیندیں نہیں کیں جبکہ کئی بیٹسمین صرف اپنے لیے پرفارم کرتے نظر آئے۔
اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سابق کپتان راشد لطیف نے کہاکہ کھلاڑی اور مینجمنٹ دونوں توقعات کا بوجھ نہیں سہہ پائے، پی سی بی وقار یونس سے مثبت نتائج کا تقاضا کررہا ہوگا جس پر انھوں نے اپنی بھڑاس پلیئرز پر نکال دی،موثر اقدامات سے سب کو لے کر چلنا اہم ہوتا ہے، ہیڈکوچ اس معاملے میں پیچھے رہ گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق وقار یونس کی رہنمائی میں پاکستان کی ٹیسٹ میں کارکردگی تو قابل رشک رہی لیکن محدود اوورز میں زوال کی جانب ایسا سفر شروع ہوا جو آج تک تھم نہیں سکا، ٹی ٹوئنٹی میں گرین شرٹس دوسری پوزیشن پر تھے، انگلینڈ اور نیوزی لینڈ نے شکستوں سے دوچار کرتے ہوئے ساتویں نمبر پر دھکیل دیا، ون ڈے میں بھی ٹیم بڑی مشکل سے چیمپئنز ٹرافی میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئی، دورہ بنگلہ دیش میں کلین سوئپ کی خفت برداشت کرنا پڑی، ورلڈکپ میں ناقص کارکردگی نے شائقین کو مایوس کیا۔
صرف زمبابوے جیسی کمزور ٹیم اور سری لنکا کیخلاف سیریز میں کامیابیاں حاصل ہوئیں، یواے ای کی سازگار کنڈیشنز میں انگلینڈ نے دھرلیا، اب دورہ نیوزی لینڈ کے پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ میں فتح کے بعد پاکستان نے دونوں مقابلوں میں بغیر لڑے ہتھیار ڈال دیئے، پہلے ون ڈے میں کیویز کی 6وکٹیں صرف 99رنز پر گرانے کے بعد بولرز ٹیل اینڈرز کو نہ سنبھال سکے، اس صورتحال میں ٹیم مینجمنٹ پر دباؤ بڑھنے لگا اور کھلاڑیوں سے اختلافات کی چنگاریوں کو بھی ہوا ملنے لگی ہے۔
''ایکسپریس ٹریبیون'' کی رپورٹ کے مطابق وقار یونس اور معاون اسٹاف میں شامل مشتاق احمد اورگرانٹ فلاوربیٹنگ و بولنگ میں پلان کا میدان میں عملی اظہار نہ کرنے پر پلیئرز سے خوش نہیں ہیں، ہیڈ کوچ نے ٹیم میٹنگ میں یہاں تک کہہ دیاکہ اگر کھلاڑی موجودہ مینجمنٹ کے ساتھ کام نہیں کرنا چاہتے تو ہم اپنے عہدے چھوڑنے کیلیے تیار ہیں، گرین شرٹس کے ساتھ موجود ایک آفیشل کا کہنا ہے کہ وقار یونس اور ان کے معاونین نے 2014 میں ذمہ داریاں سنبھالنے سے اب تک تیسری بار عہدے چھوڑنے کی دھمکی دی، ٹیم کی شکستوں کے بعد اب وہ خود نوشتہ دیوار پڑھ رہے ہیں۔
حالیہ ناکامیوں کے بعد ٹیم میٹنگ میں ہیڈ کوچ کے جملوں نے ڈریسنگ روم کا ماحول تناؤ کا شکار کردیا، کھلاڑیوں اور مینجمنٹ میں اعتماد کی فضا کا فقدان نظر آتا ہے، اگر صورتحال یہی رہی تو ایشیاکپ اور ورلڈ ٹی ٹوئنٹی سے قبل ڈریسنگ روم کا ماحول خوشگوار بنانا مشکل ہوجائے گا، اس کے منفی اثرات سے پاکستان ٹیم کی مشکلات مزید بڑھ جائیں گی،آفیشل نے بتایا کہ وقار یونس کو شدت سے احساس ہوتا ہے کہ کرکٹرز ملک کے بجائے صرف اسکواڈ میں اپنی جگہ پکی کرنے کیلیے کھیل رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق کھلاڑیوں نے بھی تصدیق کی کہ پاکستانی کیمپ میں خوشگوار فضا موجود نہیں،ایک کرکٹر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کی شکست نے پلیئرز اور مینجمنٹ دونوںکو دلبرداشتہ کیا، ایک اچھا آغاز ملنے کے بعد ٹیم کارکردگی کا تسلسل برقرار نہیں رکھ پائی، وقار یونس اور ان کے معاون اسٹاف کا خیال ہے کہ بولرز نے پلان کے مطابق گیندیں نہیں کیں جبکہ کئی بیٹسمین صرف اپنے لیے پرفارم کرتے نظر آئے۔
اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سابق کپتان راشد لطیف نے کہاکہ کھلاڑی اور مینجمنٹ دونوں توقعات کا بوجھ نہیں سہہ پائے، پی سی بی وقار یونس سے مثبت نتائج کا تقاضا کررہا ہوگا جس پر انھوں نے اپنی بھڑاس پلیئرز پر نکال دی،موثر اقدامات سے سب کو لے کر چلنا اہم ہوتا ہے، ہیڈکوچ اس معاملے میں پیچھے رہ گئے ہیں۔