بلوچستان کی گمبھیر صورت حال

خضدار کا واقعہ لاقانونیت کا ایک اور شاہکار ہے۔

مستقبل میں اس صوبے کے بل بوتے پر ہی پاکستان نے اقتصادی ترقی کی منزل تک پہنچنا ہے. فوٹو: فائل

بلوچستان میں جمعے کو خضدار قومی شاہراہ کے قریب نیو بس اڈا پر نامعلوم موٹرسائیکل سواروں کی فائرنگ سے منی پٹرول پمپ اور قریب کھڑی مسافر وین میں آگ لگنے کے باعث 8 خواتین اور 3 بچوں سمیت 18 افراد زندہ جل گئے۔

میڈیا میں پولیس کے حوالے سے جو حقیقت سامنے آئی ہے، اس کے مطابق جمعہ کو تقریباً 2 بجے کے قریب خضدار سے لاکھوریان جانے والی مسافروں سے بھری ایک وین قومی شاہراہ کے قریب نیو بس اڈا پر پٹرول ڈلوانے کے لیے ایک پٹرول پمپ پر رکی۔ اس دوران ایک شخص جو موٹرسائیکل پر سوار تھا' منی پٹرول پمپ کی دکانوں کے قریب آیا اور موٹرسائیکل سے اتر کر ایک دکان کی جانب بھاگا۔ ایک اور موٹرسائیکل پر دو نامعلوم افراد جو اس شخص کا تعاقب کر رہے تھے' وہاں آئے اور اس شخص پر فائرنگ شروع کردی۔ کچھ گولیاں باہر رکھے پٹرول کے ڈرموں میں لگنے سے آگ بھڑک اٹھی' وین جو وہاں پٹرول ڈلوانے کے لیے کھڑی تھی' وہ بھی آگ کی لپیٹ میں آ گئی۔آگ اس قدر تیزی سے لگی کہ وین میں کوئی مسافر باہر نہیں نکل سکا۔

یہ المناک سانحہ بلوچستان میں کھلی لاقانونیت کی ایک اور مثال ہے۔ بظاہر یہ دہشت گردی یا فرقہ واریت کی کارروائی نہیں لگتی لیکن اس واقعے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بلوچستان میں قانون شکن اور جرائم پیشہ افراد بلا روک ٹوک وارداتیں کر رہے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کے سامنے بے بس ہیں۔ پٹرول پمپ پر یقیناً سیکیورٹی گارڈ بھی ہوں گے لیکن انھوں نے بھی حملہ آور موٹرسائیکل سواروں کو نشانہ نہیں بنایا۔ یوں دو قاتل کئی بے گناہ انسانوں کو موت کی نیند سلا کر بآسانی فرار ہو گئے۔ بلوچستان میں دہشت گردی اور فرقہ واریت بھی عروج پر ہے۔ نوجوانوں کا لاپتہ ہونا بھی معمول بن گیا ہے۔

قومی تنصیبات پر حملے بھی ہوتے رہتے ہیں۔ اب خضدار کا واقعہ لاقانونیت کا ایک اور شاہکار ہے۔ یہ واقعہ اس موقع پر پیش آیا جب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ آف پاکستان میںبلوچستان کا مسئلہ ہی زیر سماعت تھا۔جمعے کو چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں جسٹس جواد ایس خواجہ پر مشتمل دو کنی بینچ نے بلوچستان بار کونسل کی درخواست پر بلوچستان میں امن و امان کی صورت حال کے معاملے کی سماعت کی۔ اخباری اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ نے بلوچستان میں حکومت کی ناکامی کے بارے میں جاری کیا گیا اپنا عبوری حکم واپس لینے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔


عدالت نے قرار دیا ہے کہ عدالت کو یہ تحریری جواب نہیں دیا گیا کہ بلوچستان حکومت کس اتھارٹی کے تحت کام کر رہی ہے' وفاق اندرونی خلفشار روکنے کے لیے آئینی اقدامات کرنے کا پابند ہے' وفاقی حکومت نے ایف سی بھجوانے کے سوا صوبے سے کوئی تعاون نہیں کیا، حکومت لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے اقدامات کرے جب کہ چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ بلوچستان حکومت اپنی آئینی حیثیت کھو چکی ہے' اب کیا ہمیں ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے کہا جا رہا ہے، یہ اختیار صرف صدر مملکت کا ہے' ملک میں جمہوری نظام کو مستحکم عدالت نے کیا ہوا ہے، بلوچستان کے مسائل کی تپش کا اندازہ اسلام آباد میں بیٹھ کر نہیں لگایا جا سکتا، بلوچستان میں پولیس کی وجہ سے کچھ بہتری آئی ہے، بلوچستان کابینہ کے وزرا پر اغوا برائے تاوان میں ملوث ہونے کا الزام ہے ،صوبے کے حالات کی ذمے دار بلوچستان حکومت ہے ، بلوچستان پر عبوری حکم نافذ العمل رہے گا۔

اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان سردار اسلم رئیسانی ، پندرہ ارکان صوبائی اسمبلی اور آئی جی پولیس بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک بھی عدالت میں پہنچے تھے۔ اٹارنی جنرل عرفان قادر نے بلوچستان کی صورتحال پر وزارتِ داخلہ کی رپورٹ پیش کی جس میں کہا گیا کہ بلوچستان میں تمام ادارے اپنا کام کر رہے ہیں اور پولیس کے محکمے میں نئی تعیناتیوں کی وجہ سے ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں کمی آئی ہے، بلوچستان کی صورتحال اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد خراب ہوئی، یہ نہیں کہا جا سکتا کہ صوبائی حکومت ناکام ہو چکی ہے اور عدالتی حکم پر انھیں تحفظات ہیں، عدالت کے عبوری حکم کے بعد تمام آئینی عہدیدار کام کر رہے ہیں، جمہوری حکومت چند ماہ میں اپنی مدت پوری کر رہی ہے، اس لیے وفاق نہیں چاہتا کہ صوبائی حکومت کو محدود یا قوم پرستوں کے نقطہ نظر کو دیکھتے ہوئے گھر بھیج دے۔

عدالت عظمیٰ کے بلوچستان کے بارے میں عبوری حکمنامے اور اس سے پیدا ہونے والی دیگر آئینی و قانونی پیچیدگیوں سے صرف نظر کر کے اگر بلوچستان میں جاری گڑبڑ اور لاقانونیت پر غور کیا جائے تو یہ تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں ہے کہ معاملات اندازے سے کہیں زیادہ بگڑے ہوئے ہیں۔ بلوچستان میں لاقانونیت' تخریب کاری' فرقہ واریت اور دہشت گردی کی ایک نہیں کئی وجوہات ہیں۔ اٹارنی جنرل نے وزارت داخلہ کی جو رپورٹ عدالت عظمیٰ کے رو برو پیش کی ہے، وہ اپنی جگہ درست ہو سکتی ہے۔ بظاہر بلوچستان میں منتخب اسمبلی اور حکومت موجود ہے' پولیس اور ایف سی بھی موجود ہے لیکن یہ بھی ماننا پڑے گا کہ انتظامی سطح پر کہیں نہ کہیں خرابی موجود ہے۔

اس معاملے میں بعض آئینی و قانونی رکاوٹیں بھی ہوں گی اور نا اہلی اور غفلت کے عنصر کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بھی درست ہے کہ نواب اکبر بگٹی کے قتل کے بعد صورت حال میں زیادہ خرابی پیدا ہوئی مگر سوال یہ ہے کہ اس سارے معاملے کا حل کیا ہے؟ وفاقی حکومت ہو یا صوبائی اس کا اولین مقصد عوام کے جان و مال کا تحفظ ہوتا ہے۔ یہ حقیقت سب پر عیاں ہے کہ بلوچستان میں اس حوالے سے سول حکومت کی کارکردگی کو تسلی بخش قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس بارے میں عدالت عظمیٰ کا عبوری حکم بھی سب کے سامنے ہے۔

ہم عدالتی فیصلے اور محترم ججز کے ریمارکس کے حوالے سے کوئی بات کیے بغیر صرف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ بلوچستان پاکستان کی تعمیر و ترقی کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ مستقبل میں اس صوبے کے بل بوتے پر ہی پاکستان نے اقتصادی ترقی کی منزل تک پہنچنا ہے لہٰذا اس صوبے میں امن و امان کا قیام اور دیگر معاملات کو سلجھانا صرف ایک فریق کا کام نہیں ہے' اس صوبے میں حالات کو معمول پر لانے کے لیے پاکستان بھر کے سیاستدانوں' دانشوروں اور سول سوسائٹی کو کردار ادا کرنا چاہیے۔ بلوچستان کی قیادت کو بھی اب گومگو اور مصلحت اندیشی سے نکل کر جرأتمندانہ طرز عمل اختیار کرتے ہوئے قانون شکنوں کو للکارنا چاہیے۔
Load Next Story