برآمدی کھیپ سے منشیات نکلنے پر سیمنٹ مینو فیکچررز کسٹمز و ریلوے حکام سر جوڑ کر بیٹھ گئے نئے سیکیورٹی اقد
لاہورمیں سیمنٹ بوگیوں کو لادنے کی جگہ ٹی 10ریلوے شیڈز پرروشنی کا خصوصی بندوبست، اضافی عملہ تعینات
غیرمتعلقہ افرادکی آمدورفت روکی جائیگی، کھیپ سے ہیروئن نکلنے پردہلی کیلیے پاکستان سے سیمنٹ ایکسپورٹ میں کمی، دونوں ملک متاثر ہونگے، بھارتی تاجر فوٹو فائل
پاکستانی سیمنٹ کے کنسائنمنٹ میں ہیروئن کی برآمدگی پاکستانی ایکسپورٹرز کے ساتھ بھارتی درآمد کنندگان اور تاجروں کیلیے بھی شدید تشویش کا باعث بن چکی ہے۔
بھارتی پنجاب میں تعمیراتی خام مال مٹی بجری اور اینٹوں کی قیمت میں اضافے کے ساتھ پاکستانی سیمنٹ کے کنسائنمنٹس سے ہیروئن برآمد ہونے کے پہ در پہ واقعات کے باعث بھارت میں پاکستانی سیمنٹ کی بھرپور طلب کے باوجود برآمد میں کمی ہو رہی ہے۔ آل انڈیا سیمنٹ امپورٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ایم پی ایس چھٹہ کے مطابق پاکستان سے سیمنٹ کی درآمد میں 30فیصد تک کمی ہوچکی ہے۔ ایم پی ایس چٹھہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سیمنٹ کی درآمد میں نمایاں کمی سے بھارتی پنجاب میں سیمنٹ کی قیمت میں اضافہ ہوگا جہاں پہلے ہی تعمیراتی خام مال مٹی، بجری اور اینٹوں کی قیمت میں 40سے 50فیصد اضافے کا سامنا ہے اور میٹریل مہنگا ہونے سے تعمیراتی سرگرمیوں میں 25 فیصد تک کمی ہو چکی ہے، بھارتی تاجروں کی اکثریت خام مال مہنگا ہونے اور اب ہیروئن برآمد ہونے کے واقعات کی وجہ سے پاکستانی سیمنٹ کی درآمد کے نئے آرڈرز دینے سے اجتناب کررہے ہیں۔
جس سے آئندہ سہ ماہی میں سیمنٹ کی تجارت میں مزید کمی کا خدشہ ہے۔ ایم پی ایس چٹھہ نے سیمنٹ کے کنسائنمنٹ میں ہیروئن کی برآمدگی کو بھارت اور پاکستان دونوں ملکوں کے تاجروں کیلیے باعث تشویش قرار دیا اور کہا کہ پاکستان سے ریل کے ذریعے سیمنٹ کی درآمد کے آرڈرز روکنے سے پاکستانی ایکسپورٹرز کے ساتھ بھارتی درآمد کنندگان اور ٹریڈرز بھی یکساں متاثر ہوں گے۔ ایم پی ایس چھٹہ کے مطابق پاکستان سے 80فیصد سیمنٹ ریل کے ذریعے درآمد کی جاتی ہے، محدود انفرااسٹرکچر سہولتوں کی وجہ سے یومیہ 40ٹرک ہی سرحد کراس کرسکتے ہیں، اس لیے زیادہ تر سیمنٹ ریل سے درآمد کی جاتی ہے اور بذریعہ ریل ایک دن میں 60 سے 70ٹرکوں کے برابر سیمنٹ درآمد کرلی جاتی ہے۔ ادھر پاکستان سیمنٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے پاکستان کسٹمز اور ریلوے حکام پر زور دیا ہے کہ سیمنٹ لے جانے والے بوگیوں کی حفاظت کیلیے موثر اقدامات کیے جائیں۔
پاکستان سیمنٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے ترجمان کے مطابق چند ماہ کے دوران سیمنٹ کے کنسائنمنٹ میں سے ہیروئن برآمدگی کے چار واقعات رونما ہوچکے ہیں جس سے پاکستان کی ساکھ کے ساتھ برآمدات کو بھی خطرہ لاحق ہوگیا ہے، اس حوالے سے پاکستان سیمنٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن، کسٹم اور ریلوے حکام کے درمیان سیمنٹ کے کنسائنمنٹ کی سیکیورٹی میں رہ جانے والی خامیوں کو دور کرنے کیلیے لائحہ عمل پر اتفاق ہو چکا ہے جس کے تحت لاہور میں T-10ریلوے شیڈز پر روشنی کا خصوصی بندوبست کیا جائے گا، اس جگہ رات کے اوقات میں سیمنٹ کو بوگیوں میں لادا جاتا ہے، ریلوے اور کسٹم حکام نے سیمنٹ کے کنسائنمنٹ کی نگرانی کیلیے اضافی عملہ تعینات کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی ہے اور سیمنٹ کے کنسائنمنٹ کی ایگزامنیشن بھی T-10 شیڈز میں ہی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اس سے قبل ایگزامنیشن کا عمل لاریوں کے T-10 شیڈزسے روانہ ہونے کے بعد کیا جاتا تھا، کسٹم ایگزامنیشن کے بعد ریلوے حکام لاریوں کو سیل کریں گے، اس مقصد کیلیے اعلیٰ معیاری کی سیل استعمال کی جائیں گی جو سیمنٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن فراہم کرے گی، غیرمتعلقہ افراد کی آمدورفت روکنے کیلیے T-10شیڈز میں پولیس کی نفری تعینات کرنے کافیصلہ کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ بھارتی درآمد کنندگان نے سیمنٹ کے کنسائنمنٹ سے ہیروئن برآمدگی کے واقعات کے بعد پاکستان سے ریل کے ذریعے سیمنٹ کی درآمد بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم بھارتی اور پاکستانی حکام کی جانب سے ٹھوس اقدامات کی یقین دہانی کے بعد فیصلہ ملتوی کردیا گیا۔
بھارتی پنجاب میں تعمیراتی خام مال مٹی بجری اور اینٹوں کی قیمت میں اضافے کے ساتھ پاکستانی سیمنٹ کے کنسائنمنٹس سے ہیروئن برآمد ہونے کے پہ در پہ واقعات کے باعث بھارت میں پاکستانی سیمنٹ کی بھرپور طلب کے باوجود برآمد میں کمی ہو رہی ہے۔ آل انڈیا سیمنٹ امپورٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ایم پی ایس چھٹہ کے مطابق پاکستان سے سیمنٹ کی درآمد میں 30فیصد تک کمی ہوچکی ہے۔ ایم پی ایس چٹھہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سیمنٹ کی درآمد میں نمایاں کمی سے بھارتی پنجاب میں سیمنٹ کی قیمت میں اضافہ ہوگا جہاں پہلے ہی تعمیراتی خام مال مٹی، بجری اور اینٹوں کی قیمت میں 40سے 50فیصد اضافے کا سامنا ہے اور میٹریل مہنگا ہونے سے تعمیراتی سرگرمیوں میں 25 فیصد تک کمی ہو چکی ہے، بھارتی تاجروں کی اکثریت خام مال مہنگا ہونے اور اب ہیروئن برآمد ہونے کے واقعات کی وجہ سے پاکستانی سیمنٹ کی درآمد کے نئے آرڈرز دینے سے اجتناب کررہے ہیں۔
جس سے آئندہ سہ ماہی میں سیمنٹ کی تجارت میں مزید کمی کا خدشہ ہے۔ ایم پی ایس چٹھہ نے سیمنٹ کے کنسائنمنٹ میں ہیروئن کی برآمدگی کو بھارت اور پاکستان دونوں ملکوں کے تاجروں کیلیے باعث تشویش قرار دیا اور کہا کہ پاکستان سے ریل کے ذریعے سیمنٹ کی درآمد کے آرڈرز روکنے سے پاکستانی ایکسپورٹرز کے ساتھ بھارتی درآمد کنندگان اور ٹریڈرز بھی یکساں متاثر ہوں گے۔ ایم پی ایس چھٹہ کے مطابق پاکستان سے 80فیصد سیمنٹ ریل کے ذریعے درآمد کی جاتی ہے، محدود انفرااسٹرکچر سہولتوں کی وجہ سے یومیہ 40ٹرک ہی سرحد کراس کرسکتے ہیں، اس لیے زیادہ تر سیمنٹ ریل سے درآمد کی جاتی ہے اور بذریعہ ریل ایک دن میں 60 سے 70ٹرکوں کے برابر سیمنٹ درآمد کرلی جاتی ہے۔ ادھر پاکستان سیمنٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے پاکستان کسٹمز اور ریلوے حکام پر زور دیا ہے کہ سیمنٹ لے جانے والے بوگیوں کی حفاظت کیلیے موثر اقدامات کیے جائیں۔
پاکستان سیمنٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے ترجمان کے مطابق چند ماہ کے دوران سیمنٹ کے کنسائنمنٹ میں سے ہیروئن برآمدگی کے چار واقعات رونما ہوچکے ہیں جس سے پاکستان کی ساکھ کے ساتھ برآمدات کو بھی خطرہ لاحق ہوگیا ہے، اس حوالے سے پاکستان سیمنٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن، کسٹم اور ریلوے حکام کے درمیان سیمنٹ کے کنسائنمنٹ کی سیکیورٹی میں رہ جانے والی خامیوں کو دور کرنے کیلیے لائحہ عمل پر اتفاق ہو چکا ہے جس کے تحت لاہور میں T-10ریلوے شیڈز پر روشنی کا خصوصی بندوبست کیا جائے گا، اس جگہ رات کے اوقات میں سیمنٹ کو بوگیوں میں لادا جاتا ہے، ریلوے اور کسٹم حکام نے سیمنٹ کے کنسائنمنٹ کی نگرانی کیلیے اضافی عملہ تعینات کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی ہے اور سیمنٹ کے کنسائنمنٹ کی ایگزامنیشن بھی T-10 شیڈز میں ہی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اس سے قبل ایگزامنیشن کا عمل لاریوں کے T-10 شیڈزسے روانہ ہونے کے بعد کیا جاتا تھا، کسٹم ایگزامنیشن کے بعد ریلوے حکام لاریوں کو سیل کریں گے، اس مقصد کیلیے اعلیٰ معیاری کی سیل استعمال کی جائیں گی جو سیمنٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن فراہم کرے گی، غیرمتعلقہ افراد کی آمدورفت روکنے کیلیے T-10شیڈز میں پولیس کی نفری تعینات کرنے کافیصلہ کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ بھارتی درآمد کنندگان نے سیمنٹ کے کنسائنمنٹ سے ہیروئن برآمدگی کے واقعات کے بعد پاکستان سے ریل کے ذریعے سیمنٹ کی درآمد بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم بھارتی اور پاکستانی حکام کی جانب سے ٹھوس اقدامات کی یقین دہانی کے بعد فیصلہ ملتوی کردیا گیا۔