ٹی ایم اے سٹی حکومتی ہدایت کے باوجود بد عنوان افسروں کیخلاف مقدمات سے گریز

جعلی بھرتیوں میں ملوث افسروں پرایف آئی آر درج نہ کرانے کا فیصلہ ایک ہوٹل میں منعقدہ مخصوص افسران کے اجلاس میں کیا گیا

سیاسی اثرو رسوخ کے باعث بدعنوان سیٹوں پر موجود، صفائی کے نام پر ایک ہی ٹھیکیدار کی کوٹیشنز کے90 بل منظور کرانے کی کوشش

حکومت سندھ اور حق پرست ایم این اے کی ہدایت کے باوجودٹائون میونسپل ایڈمنسٹریشن سٹی حیدرآباد میں جعلی بھرتیوں میں ملوث مخصوص افسران کے خلاف انتظامیہ نے ایف آئی آر درج نہ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اینٹی کرپشن کے چھاپے اور ریکارڈ تحویل میں لینے کے بعد مخصوص افسران نے ٹی ایم اے کی عمارت سے دور ایک ہوٹل میں اجلاس کیا جس میں فیصلہ کیا گیاکہ اب ایف آئی آر، ریکارڈ اینٹی کرپشن پولیس کے لے جانے کے باعث درج نہیں کرائی جائے اور جعلی لیٹر لانیوالوں سے کہا جائے کہ وہ کراچی سے اصل کاغذات لائیں۔ دوسری جانب ایک بار پھر بلدیاتی افسران و مخصوص ٹھیکیداروں کی دوستیاں رنگ لا رہی ہیں اور عید الفطر کے دنوں میں کام کرانے کے نام پر ایک ہی ٹھیکیدار کی کوٹیشنز کے90 بلز بنا کر ایڈمنسٹریٹر کے سامنے رکھ دیے گئے ہیں۔


جس پر ایڈمنسٹریٹر عابد محمود قریشی نے اعتراض کیا ہے کہ ٹیشینز پر اجازت دینے والی اتھارٹی کے دستخط نہیں لیکن 90 میں سے22کوٹیشنز پر آفیسر خدمات اور فنانس آفیسر کے دستخط موجود ہیں جبکہ مذکورہ ٹھیکیدار، عید الفطر کے موقع پر صفائی کے نام پر 13 لاکھ روپے کے بل پہلے ہی وصول کر چکا ہے ۔ حیدرآباد کے شہری جانتے ہیں کہ انھوں نے رمضان صحت و صفائی کے کن حالات میں گزارا، عید الفطر کے دن بھی شہر کی سڑکوں پر گندگی تھی اور لیاقت کالونی، خورشید ٹاون، بھٹی گوٹھ، اسٹیشن روڈ پر گندا پانی بہہ رہاتھا جس کی نشاندہی ایکسپریس اخبار خبروں اور تصاویر کے ذریعے کرتا رہا۔

جبکہ متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے اراکین نے بھی عید سے پہلے اور عید کے بعد شہر کی صورتحال کا خود دورہ کر کے صورتحال کو افسوسناک قرار دے کر جن بلدیاتی افسران کے خلاف شکایات تھیں انھیں تبدیل کرنے کو کہا لیکن اس کے باوجود بلدیاتی افسران، سیاسی اثر و رسوخ کے باعث تاحال اپنی سیٹوں پر موجود ہیں اور انہی کے نام جعلی ٹرانسفر لیٹرز کے معاملے میں لیے جا رہے ہیں۔ تاہم موجودہ ایڈمنسٹریٹر کا کہنا ہے کہ جب تک بلز پر کام کی اجازت دینے والی اتھارٹی اور کام مکمل ہونے پر جاری سرٹیفکٹ نہیں ہوں گے وہ کسی بل پر دستخط نہیں کریں گے۔

دوسری جانب پابندی کے باوجود تاحال ٹی ایم اے سٹی میں کوٹیشنز پر بل بنا کر چیک جاری کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ روز بھی ٹی ایم اے شعبہ فنانس کے افسران نے ورکشاپ کے 3 لاکھ روپے سے زاید کے کوٹیشنز کے بل پر دستخط کرا کر ٹھیکیدار کو دے دیے۔ بل کے مطابق ٹھیکیدار نے لوڈر نمبر 38 میں ہائیڈرولک سسٹم کا 3 لاکھ روپے کا کام کرایا ہے جو قاضی عبدالقیوم روڈ کے ایک مسترینے22 ہزار روپے میں کیا تھا۔
Load Next Story