عذیر بلوچ کی گرفتاری

عذیر بلوچ کیا انکشاف کرتا ہے اس کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا آنے والے وقت میں حقائق سامنے آ جائیں گے

کراچی میں قیام امن کے لیے ہر قسم کے گینگسٹر کو قانون کی گرفت میں لانا وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔

لیاری گینگ وار کے مبینہ سرغنہ اور پیپلز امن کمیٹی کے سر براہ عذیر جان بلوچ کو سندھ رینجرز نے گرفتار کر لیا جب کہ کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ملزم کو 90 روز کے لیے رینجرز کی تحویل میں دیتے ہوئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو تفتیش کرنے کی اجازت دیدی ہے۔ اس کے خلاف 55 مقدمات درج ہیں اور اس کے سر کی قیمت 20 لاکھ روپے مقرر تھی۔ کراچی آپریشن شروع ہونے پر وہ بیرون ملک فرار ہو گیا تھا۔


عذیر پر الزام ہے کہ وہ پیپلز پارٹی کے لیے کام کرتا تھا مگر پیپلز پارٹی کی طرف سے اس کے ساتھ مکمل لاتعلقی کا اعلان کیا گیا ہے ۔ عذیر بلوچ کے حوالے سے عرصے سے میڈیا میں مختلف قسم کے انکشاف کیے جاتے رہے ہیں،اب وہ حراست میں ہے اور اس سے تفتیش کی جا رہی ہے، یہ سارا قانونی عمل لہٰذا اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے' عذیر بلوچ کیا انکشاف کرتا ہے، اس کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا' آنے والے وقت میں حقائق سامنے آ جائیں گے۔

بہر حال عذیر کی گرفتاری سے کراچی خصوصاً لیاری میں امن و امان قائم کرنے کے حوالے سے پیش رفت ہو گی اور ایسے طاقتور گینگسٹر کو سبق ملے گا کہ وہ جتنے بھی طاقتور ہو جائیں مگر قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتے۔ ملک کی سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین کو بھی سبق لینا چاہیے کہ وہ خود کو ایسے افراد سے دور رکھیں جن پر جرائم کے الزامات ہوں۔کراچی میں قیام امن کے لیے ہر قسم کے گینگسٹر کو قانون کی گرفت میں لانا وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔
Load Next Story