ایمنسٹی اسکیم سے شناختی کارڈبلاک کرناغیرآئینی اقدام ہوگا ماہرین

فیصلے سے قبل لا ڈویژن سے تو ثیق کرائی جائے، تجویز، معاملہ سنگین ہے محتا ط ہونا ہوگا، ایف بی آر

فیصلے سے قبل لا ڈویژن سے تو ثیق کرائی جائے، تجویز، معاملہ سنگین ہے محتا ط ہونا ہوگا، ایف بی آر. فوٹو: فائل

قانونی ماہرین نے سیاستدانوں، بیورو کریٹس، ججز اور جرنیلوں سمیت تمام پاکستانیوں کے ملک اور بیرون ممالک موجودہ فلیٹس، مکانات غیرملکی بینکوں میں رکھی گئی دولت کو قانونی حیثیت دینے کیلیے ایمنسٹی سکیم کے تحت کسی بھی پاکستانی شہری کا قومی شناختی کارڈز بلاک کرنے کے اقدام کوآئین کی خلاف ورزی قراردیا ہے۔


ماہرین نے ایف بی آر ریونیو کو مشورہ دیا ہے کہ اسکیم کے مسودے میں سی این آئی سی بلاک کرنے کی شق شامل کرنے سے پہلے لا ڈویژن سے توثیق کروائی جائے، ماہرین کا کہنا ہے کہ آئین کے مطابق کسی پاکستانی شہری کی شناخت ختم نہیں کی جاسکتی ، یہ آئین اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی۔

چیئرمین ایف بی آر علی ارشد حکیم نے بھی مجوزہ ٹیکس رجسٹریشن اینڈ انویسٹمنٹ اسکیم کے تحت قومی شناختی کارڈز بلاک کرنے کے انتہائی اقدام کو بنیادی حقوق کی خلاف ورزی سے تعبیر کیا ہے اوراس بات کا خدشہ ظاہر کیا ہے کہ شناختی کارڈ بلاک کرنا ایک انتہائی اہم اور سنگین معاملہ ہے۔ایکسپریس کو دستیاب دستاویز کے مطابق علی ارشد حکیم نے ایف بی آر کی بورڈ ان کونسل کے اجلاس میں کہا کہ یہ بہت سنگین اور اہم نوعیت کا ہے اس بارے میں محتاظ ہونا ہو گا۔
Load Next Story