پولیسسیاسی جماعتیں تاجروں سے باقاعدہ حصہ لیتی ہیںنبیل گبول

کراچی کا مینڈیٹ ہمارے پاس لیکن اختیارات ہمارے پاس نہیں، عبدالرشید گوڈیل.

بھتہ خور ایسے آتے ہیں جیسے کاروبار میں حصہ دار ہوتے ہیں،شرجیل گوپلانی کی تکرار میں گفتگو۔ فوٹو: فائل

پیپلزپارٹی کے رہنما نبیل گبول نے کہا ہے کہ کراچی میں بھتہ خوری باقاعدہ ایک بزنس بن چکی ہے۔

پولیس اور سیاسی جماعتیں تاجروں سے باقاعدہ حصہ لیتے ہیں، پولیس کے اندر بھی کالی بھیڑیں ہیں جو کسی کارروائی کے بارے میں پہلے ہی بتا دیتے ہیں۔ ایکسپریس نیوز کے پروگرام تکرار میں اینکر پرسن عمران خان سے گفتگو میں انھوںنے کہاکہ سپریم کورٹ کا فیصلہ واضح نہیں، میں اس بات کو مانتا ہوں کہ کراچی کے حالات ٹھیک نہیں لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ حکومت کچھ نہیں کررہی، روزانہ گرفتاریاں ہورہی ہیں لیکن کوئی شہادت نہ ہونے کے باعث عدالت ان کو چھوڑدیتی ہے۔


شہادت نہ ہونے پر 10,10 قتل میں ملوث جرائم پیشہ لوگ ایک ہفتے میں چھوٹ رہے ہیں، سارے کام حکومت پر نہیں ڈالنے چاہئیں عوام کو بھی ہمت کرنی چاہیے اور دلیری دکھانی چاہیے، آج ہم سارے کہتے ہیں کہ سیاسی جماعتوں میں ملی ٹنٹ ونگز کا ہم سے کوئی تعلق نہیں لیکن یہ ملی ٹنٹ ونگ سیاسی جماعتوں کا حصہ تھے اور جب ان کو جماعتوں سے نکال دیا گیا تو انھوں نے منصوبہ بندی کرکے اپنے گروہ بنا لیے، پیرول پر رہا ہونیوالوں کے بارے میں تاحال کچھ نہیں جانتا اگر پچھلے دور میںجو لوگ پیرول پر رہا ہوئے تھے اب تک ان کی رہائی واقعی تشویشناک ہے ۔

ایم کیوایم کے رہنما عبدالرشید گوڈیل نے کہا کہ کراچی کے حالات ٹھیک نہیں، ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ کراچی کا مینڈیٹ تو ہمارے پاس ہے لیکن اختیارات ہمارے پاس نہیں اور جن کے پاس اختیارات ہیں ان کے پاس مینڈیٹ نہیں، حالات ٹھیک کرنے کے لیے ایک ٹیم بن کر چلنا ہوگا۔ انھوں نے کہاکہ جب ہم یہ کہہ رہے تھے کہ کراچی میں طالبانائزیشن ہورہی ہے تو میڈیا سمیت سب نے ہمارا مذاق اڑایا تھا لیکن اب آئی جی بھی کہتا ہے 7 ہزار طالبان موجود ہیں، ایم کیو ایم کا کوئی بھی کارکن پیرول پر رہا نہیں ہوا اس بارے میں جھوٹ بولا جارہا ہے ہماری پارٹی ایسی منظم پارٹی ہے کہ جو بھی پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرتاہے اس کو پارٹی سے نکال دیا جاتا ہے۔

جنرل سیکریٹری تاجر اتحاد شرجیل گوپلانی نے کہاکہ کراچی میں بھتہ خوری پہلے سے بہت بڑھ چکی ہے پہلے چھوٹے دکاندار پر مڈل کلاس بزنس مین نشانہ بنتے تھے لیکن اب تو بڑے بڑے بزنس مین بھی بھتہ دینے پر مجبور ہورہے ہیں، بھتہ خور ایسے بھتہ لینے کے لیے آتے ہیں جیسے وہ ہمارے کاروبار میں ہمارے حصہ دار ہوتے ہیں، پاکستان کی معیشت کوتباہ کرنے کی سازش کی جارہی ہے اور اس وجہ سے کراچی کو نشانہ بنایاجارہا ہے، کریمنلزکو پکڑنے کے لیے قانون سازی کی اشد ضرورت ہے اور قانون سازی حکومت نے کرنی ہے کسی اور نے نہیں۔
Load Next Story