متنازع بیانکشمیرکمیٹی کااجلاس بلانے کا اعلان
سیکریٹری داخلہ کابیان مسئلہ کشمیر پرطے شدہ قومی موقف سے مطابقت نہیں رکھتا، فضل الرحمن
سیکریٹری داخلہ کابیان مسئلہ کشمیر پرطے شدہ قومی موقف سے مطابقت نہیں رکھتا، فضل الرحمن فوٹو: پی پی آئی
چیئرمین پارلیمانی خصوصی کشمیرکمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمن نے وفاقی حکومت کی جانب سے بلوچستان امن وامان کیس میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کو جوازکے طورپر پیش کرنے سے متعلق سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے متنازع بیان کے نتیجے میں پیدا شدہ صورت حال پرغور کے لیے کشمیر کمیٹی کا اجلاس بلانے کااعلان کردیا۔
چیئرمین کشمیر کمیٹی نے کہا ہے کہ کسی بیوروکریٹ کو یہ اختیار اور حق حاصل نہیں ہے کہ متفقہ قومی موقف سے رو گردانی کرے ۔ہفتے کو مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ وفاقی سیکریٹری داخلہ کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرایا گیا بیان مسئلہ کشمیر پرطے شدہ قومی موقف سے مطابقت نہیں رکھتا ۔حکومت پاکستان نے مسئلہ کشمیر پرکوئی بریک تھرولینا ہے تو پارلیمنٹ کی مشارت کے بغیرکسی کو بھی پاکستان کے قومی موقف میں تبدیلی لانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ پوری قوم کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی حمایت کرتی ہے۔انکے حق خودارادیت کے جائز مطالبے پرپوری قوم متفق ہے۔
دریں اثنان لیگ نے وفاقی حکومت کی جانب سے بلوچستان امن وامان کیس پر مقبوضہ کشمیر کی صورتحال دلیل کے طورپر سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے جواب کا حصہ بنانے پرتشویش کااظہارکرتے ہوئے اس کومستردکردیا اورکہاکہ حکومت اس پرقوم سے معافی مانگے اور متنازع پیروں کوفوری حذف کرے ۔
ایک تحریری بیان میں پارٹی کے سیکریٹر ی اطلاعات مشاہداللہ خان نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ میں حکومتی بیان نہایت ہی غیرسنجیدہ، شرمناک اورقابل مذمت ہے۔علاوہ ازیں انصارالامہ پاکستان کے امیرودفاع پاکستان کونسل کے رہنما مولانافضل الرحمن خلیل نے حکومتی رپورٹ کی مذمت کرتے ہوئے اسے پاکستان سے غداری اورمسئلہ کشمیر کے خلاف سازش قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ سپریم کورٹ کو وزارت داخلہ کی اس رپورٹ پرازخود نوٹس لیتے ہوئے ذمے داران کے خلاف سخت کاروائی کرنی چاہیے ۔
چیئرمین کشمیر کمیٹی نے کہا ہے کہ کسی بیوروکریٹ کو یہ اختیار اور حق حاصل نہیں ہے کہ متفقہ قومی موقف سے رو گردانی کرے ۔ہفتے کو مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ وفاقی سیکریٹری داخلہ کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرایا گیا بیان مسئلہ کشمیر پرطے شدہ قومی موقف سے مطابقت نہیں رکھتا ۔حکومت پاکستان نے مسئلہ کشمیر پرکوئی بریک تھرولینا ہے تو پارلیمنٹ کی مشارت کے بغیرکسی کو بھی پاکستان کے قومی موقف میں تبدیلی لانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ پوری قوم کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی حمایت کرتی ہے۔انکے حق خودارادیت کے جائز مطالبے پرپوری قوم متفق ہے۔
دریں اثنان لیگ نے وفاقی حکومت کی جانب سے بلوچستان امن وامان کیس پر مقبوضہ کشمیر کی صورتحال دلیل کے طورپر سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے جواب کا حصہ بنانے پرتشویش کااظہارکرتے ہوئے اس کومستردکردیا اورکہاکہ حکومت اس پرقوم سے معافی مانگے اور متنازع پیروں کوفوری حذف کرے ۔
ایک تحریری بیان میں پارٹی کے سیکریٹر ی اطلاعات مشاہداللہ خان نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ میں حکومتی بیان نہایت ہی غیرسنجیدہ، شرمناک اورقابل مذمت ہے۔علاوہ ازیں انصارالامہ پاکستان کے امیرودفاع پاکستان کونسل کے رہنما مولانافضل الرحمن خلیل نے حکومتی رپورٹ کی مذمت کرتے ہوئے اسے پاکستان سے غداری اورمسئلہ کشمیر کے خلاف سازش قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ سپریم کورٹ کو وزارت داخلہ کی اس رپورٹ پرازخود نوٹس لیتے ہوئے ذمے داران کے خلاف سخت کاروائی کرنی چاہیے ۔