سپریم کورٹ کا انسداد دہشتگردی عدالتوں کی کارکردگی پرعدم اطمینان

فیصلوں میں تاخیرباعث تشویش ہے،مقدمات 7اوراپیلیں30دن میں نمٹائی جائیں،سپریم کورٹ

فیصلوں میں تاخیرباعث تشویش ہے،مقدمات 7اوراپیلیں30دن میں نمٹائی جائیں،سپریم کورٹ

انسداددہشت گردی کی خصوصی عدالتوں کے نگراں جج جسٹس خلجی عارف حسین نے صوبہ سندھ کی انسداددہشت گردی کی خصوصی عدالتوںکی کارکردگی پر عدم اطمینان اور فیصلوں میں تاخیرپرانتہائی تشویش کااظہارکیاہے اورہدایت کی ہے کہ قانون کے مطابق مقدمات کے فیصلے7دن میں اوراپیلیں 30دن میں نمٹائی جائیں۔

فاضل جسٹس نے آبزروکیاکہ اسٹیک ہولڈرزکے درمیان تعاون کی وجہ سے مقدمات نمٹانے میں تاخیرہوتی ہے،صوبہ سندھ میں انسداددہشت گردی کی خصوصی عدالتوںکی کارکردگی کاجائزہ لینے کیلیے جسٹس خلجی عارف حسین کی سربراہی میں سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں ہفتے کواجلاس ہوا،فاضل عدالت کے طلب کرنے پر پراسیکیوٹرجنرل شہادت اعوان پیش ہوئے اور انسداددہشت گردی کی خصوصی عدالتوں میں مقدمات کی صورتحال کے بارے میں بریفنگ دی ،شہادت اعوان نے بتایا کہ سندھ کی انسداددہشت گردی کی11 خصوصی عدالتوں میں 1329مقدمات زیرسماعت ہیں،جن میں 1999 سے2006کے دوران داخل ہونے والے43مقدمات بھی شامل ہیں۔


نگراں جج نے سانحہ نشترپارک2006 اور عاشورہ بم دھماکے کے مقدمے سے متعلق استفسارکیا،پراسیکیوٹرجنرل نے بتایا کہ سانحہ نشترپارک کامقدمہ کراچی کی انسداددہشت گردی کی خصوصی عدالت ایک میں زیر سماعت ہے،مقدمے میں مظہرقیوم کو اسپیشل پبلک پراسیکیوٹرتعینات کیا گیا تھا،مقدمے کے5گواہوں کو عدالت میں پیش کیاجاچکا ہے ،مظہرقیوم کی علالت کے باعث مقدمے میں پیش رفت نہیں ہوسکی۔

اس لیے اب اس مقدمے کی پیروی اس عدالت میں تعینات پراسیکیوٹرکوسونپ دی گئی ہے اورتوقع ہے کہ پیش رفت ہوگی ،عاشورہ بم دھماکے کے4ملزمان گرفتار ہوئے تھے تاہم عدالتوں میں پیشی کے دوران ملزمان فرارہونے میں کامیاب ہوگئے،جسٹس خلجی عارف حسین نے1999کے مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر پرحیرت اورتشویش کا اظہار کیا، انھوں نے ہدایت کی کہ عدالتیں،پراسیکیوشن اور متعلقہ فریقین آپس میں تعاون کریں تاکہ مقدمات کو تیزی سے نمٹایاجاسکے۔پراسیکیوٹرجنرل نے بتایا کہ تفتیشی افسران کی جانب سے گواہوںکو عدالتوں میں پیش کرنے میں تاخیر کی وجہ سے مقدمات کے فیصلوں میں تاخیرہوتی ہے۔
Load Next Story