کراچی آپریشن ایک مشن

یہ تاثر درست نہیں ہے کہ کراچی میں جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گردی کے عزائم رکھنے والوں کے خلاف آپریشن سست ہوگیا ہے

سندھ میں غربت اور بیروزگاری کا خاتمہ دہشتگردی اور جرائم کا راستہ روکنے میں اہم فیکٹر بن سکتا ہے، فوٹو؛ فائل

لاہور:
یہ خوش آیند اطلاع ہے کہ کراچی آپریشن بلا روک ٹوک جاری رہنے کا عندیہ مل گیا ۔ میڈیا کی اطلاع کے مطابق سندھ رینجرز کے اختیارات میں نوے روز کی توسیع کر دی گئی ہے، وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے رینجرز کے اختیارات کی خصوصی سمری پر دستخط کر دیے ۔

قبل ازیں صورتحال قطعی واضح نہ تھی ، وفاقی حکومت کی طرف سے رینجرز کے خصوصی اختیارات میں توسیع کی سمری ارسال کرنے سے متعلق خط لکھنے کے باوجود سندھ حکومت نے کوئی جواب نہیں دیا جب کہ رینجرز کو دیے گئے خصوصی اختیارات کی مدت تین فروری کو ختم ہو جانی تھی ۔بہر حال کراچی آپریشن اور رینجرز اختیارات کے حوالے پیدا شدہ تشویش کا باب بند ہوا ورنہ وزارت داخلہ نے بوجوہ فیصلہ کیا تھا کہ اگر سندھ حکومت نے رینجرز اختیارات میں توسیع کی سمری ارسال نہ کی تو وہ وزیراعظم کی منظوری سے ازخود توسیع کا نوٹیفکیشن جاری کر دے گی۔

ادھر کراچی آپریشن کی رفتار اور اس کے اہداف اور مشن کے حوالے سے افواہوں اور تجزیوں کا تاثر بھی ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال اکبر کے اس بیان سے غیر موثر ہوگیا ہے کہ کراچی آپریشن سست نہیں ہوا، رینجرز کی سیٹنگ صرف اپنے مشن کے ساتھ ہے، گینگسٹرز اور دہشتگرد تنظیموں کے خلاف حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں،کریمنل ایکٹرز کو پکڑ کر کراچی کا امن بحال کرتے ہوئے حالات کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں، حب کار ریلی کے اختتام پر تقریب تقسیم انعامات سے خطاب میں انھوں نے صراحت کے ساتھ کہا کہ ہمارا مقصد اپنے ملک کے مستقبل کا تحفظ بھی ہے۔

یہ تاثر درست نہیں ہے کہ کراچی میں جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گردی کے عزائم رکھنے والوں کے خلاف آپریشن سست ہوگیا ہے، ہم مجرمانہ اور ملک دشمن ذہنیت رکھنے والے گروہوں کو دیکھتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں، دشمن زیادہ ہوں گے تو کارروائیاں بھی زیادہ ہوں گی، ہمارا مقصد سندھ بالخصوص کراچی کے حالات میں بہتری لانا اور امن کی بحالی ہے، ان عناصر کی بھی سرکوبی کے لیے کوشاں ہیں جنہوں نے ماضی میں اپنے مذموم مقاصد کے لیے خوف و ہراس کی فضا قائم کر رکھی تھی، کریمنل ایکٹرز کو پکڑ رہے ہیں اور اپنے اقدامات سے حالات میں مسلسل بہتری لا رہے ہیں، تاہم کراچی کو پرامن شہر بنا کر رہیں گے۔


وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے ایک گینگسٹر کی گرفتاری پر کہا کہ ان کی گرفتاری سے پیپلز پارٹی میں کوئی اختلاف نہیں اور اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔ ملتان روانگی سے قبل کراچی ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کئی اہم باتیں کیں ، ان کا کہنا تھا کہ جرائم پیشہ افراد پکڑے جانے چاہئیں۔ سندھ میں قانون نافذ کرنے والے تمام اداروں کے اہلکار اپنے فرائض بہتر طور پر ادا کررہے ہیں۔

یہ درست ہے مگر کراچی میں آپریشن نے جو نیا رخ اختیار کیا ہے اور گینگ وار کے حوالے سے جو ہولناک حقائق منظر عام پر آنا شروع ہوگئے ہیں ایک انگریزی معاصر روزنامہ کی رپورٹ کے مطابق اس کے مضمرات اور پی پی و مسلم لیگ ن کی دیرینہ مفاہمت جس کی خاموش اساس میثاق جمہوریت پر قائم ہے اسے شدید دھچکا لگ سکتا ہے، اس لیے لازم ہے کہ آپریشن کے بارے میں اس ہمہ گیر عوامی تاثر کی شفافیت کو کسی طور نقصان نہ پہنچے کہ آپریشن بلا امتیاز اور ان عناصر کے خلاف جاری ہے جو کرمنل سرگرمیوں اور بڑے پیمانے پرکرپشن میں ملوث ہیں۔

سیاسی حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں بھی ہورہی ہیں کہ وفاقی حکومت اور پیپلز پارٹی کے مابین شعلہ بیانی اور الزام تراشی کا جوسلسلہ جاری ہے اسے اسٹبلشمنٹ کراچی آپریشن میں گرفتاریوں کے وسیع تر تناظر میں دیکھ رہی ہے، اور کوشش کی جائے گی کہ سیاسی کشیدگی سے جمہوری عمل اور مفاہمت کی فضا تباہ نہ ہو جب کہ رینجرز کی شفاف کارروائی پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے۔پھر بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مائنس پولیس کا منفی تاثر بھی درمیان میں نہیں آنا چاہیے۔

سندھ کی سیاست اور کراچی کی صورتحال میں خوف کے جس عنصر کی ڈی جی رینجرز نے نشاندہی کی ہے وہ خوف و ہراس مافیاؤں کا پیدا کردہ ہے ، اس لیے شہریوں کی روزمرہ زندگی کے معمولات کے علاوہ سماج کی روح سے بھی اس دہشت و وحشت کو کھرچ کر نکال باہر کرنے کا وقت آپہنچا ہے جس کے لیے آپریشن سے ماورا ٹھوس سماجی، نفسیاتی اور معاشی اقدامات بھی ضروری ہیں، جیسا کہ رینجرز نے اسپورٹس کی سہولتوں اوربے روزگار نوجوانوں کو تعمیری سرگرمیوں میں مشغول رکھنے کے لیے امدادی کاموں کی طرف بھی توجہ مرکوز کی ہے،اس کام کا دائرہ وسیع کرنا چاہیے۔

سندھ میں غربت اور بیروزگاری کا خاتمہ دہشتگردی اور جرائم کا راستہ روکنے میں اہم فیکٹر بن سکتا ہے ، جس کے لیے انصاف اور مساوات پر مبنی معاشرہ کی جستجو شرط اول ہے۔ روسی منحرف ادیب سولزے نتسن کا قول ہے کہ '' انصاف ضمیر ہے۔انفرادی نہیں نسل انسانی کا اجتماعی ضمیر ، جو اپنے ضمیر کی آواز صاف سنتا ہے اور اسے عموماً انصاف کی صدا بھی سنائی دیتی ہے۔'' کراچی آپریشن تیشہ فرہاد ہے ابھی اس سے تہلکہ خیز اور ہولناک حقائق ایک ایک کرکے سامنے آئیں گے، لہٰذا جرائم اور کرپشن کے خلاف آپریشن سنگ میل بننا چاہیے۔
Load Next Story