سب سے بڑی جنگ پہلا حصہ
پاکستان بھرکے صحافیوں، طلبہ، مزدور،کسانوں، خواتین نے گرفتاریاں دیں، صحافیوں کوکوڑے مارے گئے
tauceeph@gmail.com
KARACHI:
آزادی صحافت عوام کا حق ہے، اس حق کو تسلیم کرانے کے لیے سیاسی جماعتوں کو جدوجہد کرنی تھی مگر سیاسی جماعتیں اپنا فریضہ ادا نہیں کر پائیں' صحافیوں کی تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ 50کے عشرے میں قائم ہوئی' پی ایف یو جے کے اکابرین نے صحافیوں کے حالات کارکو بہتر بنانے کی جدوجہد کے ساتھ آزادی صحافت کے لیے جدوجہد کو اپنا شعار بنا لیا'عوام کے اس حق کو تسلیم کرانے کے لیے پی ایف یوجے کے رہنماؤں نے اپنی ملازمتوں کو داؤ پر لگایا اور قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کیں' منہاج برنا نے اپنی زندگی پی ایف یو جے اور صحافیوں اور غیر صحافتی عملے کی انجمن ایپنک کو منظم کرنے میں گزاری۔
منہاج برنا 1950 سے 1980تک قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرتے رہے اور اپنی ملازمت کی قربانی دیتے رہے' جب 1977میں فوج نے ذوالفقار علی بھٹو کی منتخب حکومت کا تختہ الٹا اور جنرل ضیاء الحق کی فوجی حکومت نے جب آزادی صحافت پر حملہ کیا' پی ایف یو جے کے صدر منہاج برنا کو ہفت روزہ الفتح میں آرٹیکل تحریر کرنے پر روزنامہ پاکستان ٹائمز کی ملازمت سے برطرف کردیا، روزنامہ مساوات پر پابندی عائد کردی' روزنامہ مساوات کے مدیروں میر جمیل الرحمن، بدرالدین اور ظہیرکاشمیری کو گرفتار کیا' روزنامہ مساوات کراچی ایڈیشن پر پابندی لگادی' سیکڑوں صحافی اور صحافتی عملہ بیروزگار ہوا اور باقی اخبارات کوآزادی صحافت کا حق استعمال کرنے کی سزا کا ماڈل دکھا دیا ' پی ایف یو جے اور ایپنک نے روزنامہ مساوات کی بحالی کے لیے تحریک چلائی اس تحریک میں جو چھ ماہ سے زیادہ عرصے جاری رہی، پاکستان بھرکے صحافیوں' طلبہ' مزدور'کسانوں' خواتین نے گرفتاریاں دیں' صحافیوں کوکوڑے مارے گئے۔
اس تحریک کو منظم کرنے میں سینئرصحافی احفاظ الرحمٰن نے بنیادی کردارادا کیا' احفاظ الرحمٰن نے صحافیوں کی اس تحریک کی کہانی آزادی صحافت کی ''سب سے بڑی جنگ '' کے عنوان سے کتاب کی شکل میں کاغذ پر منتقل کردی' پاکستان میں آزادی صحافت کی سب سے بڑی جدوجہد دستاویز کی صورت میں سامنے آئی' یہ کتاب 10ابواب اور 500 صفحات پر مشتمل ہے' اس کتاب میں احفاظ الرحمٰن نے تحریک کے تمام واقعات کو تفصیلی طور پر بیان کیا ہے' اس کتاب میں تحریک میں حصہ لینے والے کارکنوں کی تصاویر اور تحریک میں حصہ لینے والے اکابرین کے خطوط شامل کیے گئے ہیں۔
احفاظ چاہت کا چمن کے عنوان سے لکھتے ہیں کہ صحافیوں کی اس تحریک کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے بھارت کے معروف اخبار ٹائمز آف انڈیا نے لکھا تھا کہ ''اگر انڈیا میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ جیسی کوئی منظم تنظیم ہوتی تو بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کو یہاں ایمرجنسی نافذ کرنے کی ہمت نہ ہوتی'' سینئر صحافی اور ہفت روزہ الفتح (جس پر جنرل ضیا کے دور میں پابندی عائد کردی گئی تھی) کے مدیر وہاب صدیقی کتاب کے مقدمے میں لکھتے ہیں کہ تاریخ لکھنے کے 3بنیادی اصول ہوتے ہیں' واقعات' ثبوت اور تشریح' واقعات کا تعلق ان امور سے ہوتا ہے جو ماضی میں رونما ہوئے' بعض اوقات واقعات گھڑ لیے جاتے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ واقعات کو ثبوت کے ساتھ پیش کیا جائے' تشریح اور تجزیہ بھی اہم ہے' جیسے واقعات اور ثبوت مگر اس معاملے میں مورخ کو اپنے نظریات کے مطابق تشریح کا حق حاصل ہے،احفاظ صاحب نے تحریک کے واقعات بیان کرتے ہوئے انتہائی ذمے داری سے کام لیا ہے' اس زمانے کے اخبارات اور جرائد سے ثبوت حاصل کیے ہیں۔
احفاظ الرحمٰن کراچی یونین آف جرنلسٹ کے جنرل سیکریٹری' پی ایف یو جے اور ایپنک کی مشترکہ وفاقی ایکشن کمیٹی کے سیکریٹری جنرل رہے' بہت سے واقعات کے وہ چشم دید گواہ ہیں' دوسرے حصے کے تجزیاتی مضامین احفاظ صاحب کی سوچ کے آئینہ دار ہیں وہ طبقاتی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں' مالدار اور نادار کی جنگ میں وہ نادار کے ساتھ ہیں،احفاظ الرحمٰن کتاب کے باب ابتدائے عشق میں لکھتے ہیں کہ پہلے فوجی آمر جنرل ایوب خان نے سب سے پہلا حملہ آزادی صحافت پر کیا ، 18اپریل1959 کو پروگریسو پیپرز لمیٹڈ PPL کے اخبارات پر قبضہ کیا' 1963میں پریس اینڈ پبلیکیشن آرڈیننس نافذ کیا اور 1964میں نیشنل پریس ٹرسٹ بنا' 11 اردو، بنگالی' انگریزی پرچوں کو اس کے قبضے میں دے دیا گیا۔
اس کے علاوہ ملک کی سب سے بڑی نیوز ایجنسی APP کو سرکاری تحویل میں لیا گیا' پی ایف یو جے نے یوں تو بہت سی تحریکیں چلائیں، پی ایف یو جے نے پریس اینڈ پبلیکیشن آرڈیننس کے خلاف جدوجہد کی، ان میں سے سب سے زیادہ بڑی تحریکیں بھی اپنے حجم اوروسعت اور اثر پذیری کے لحاظ سے تاریخی اہمیت کی حامل ہے، اس میں ایک تحریک 70' دوسری 74' اور تیسری 77-78 میں چلائی گئی' 70کی تحریک نے ویج بورڈ کے قیام اور عبوری امداد کے مطالبے '74 اور77-78کی تحریکیں روزنامہ مساوات کے کارکنوں کی برطرفی اور اس اخبار پر پابندی کے خاتمے کے لیے چلائی گئیں۔
جہاں تک 77-78کی تحریک کا تعلق ہے اپنے حجم 'وسعت 'طوالت گرفتار شدگان کی تعداد اور فوجی حکومت کی خوفناک ایزا رسانی اور صحافی برادری کی مثالی ثابت قدمی کے پیش نظر یہ آزادی صحافت کے لیے ہماری سب سے بڑی جنگ کی حیثیت رکھتی ہے' وہ لکھتے ہیں کہ دائیں بازو کے لوگ دوسرے موقع پرستوں کو ساتھ ملا کر سال ہا سال سے برنا گروپ کے خلاف کام کررہے تھے مگر ان کو پی ایف یو جے اور پریس کلب کے انتخابات میں بہت بری طرح شکست ہوتی تھی' ان لوگوں نے ضیاء الحق اور اس کے کارندوں کے آشیر باد سے 77-78کی آزادی کی تحریک کے دوران ہماری پیٹھ میں چھرا گھونپا ' وہ لکھتے ہیں کہ روزنامہ ہلال پاکستان ' روزنامہ مساوات اور ہفت روزہ ''نصرت'' بھٹو خاندان کے حمایتی پرچے تھے۔
پہلے ان کی سرکولیشن زیادہ نہیں تھی لیکن بھٹو کی گرفتاری اور ان کے خلاف عدالتی ایکشن کے بعد ان کی سرکولیشن میں تیزی سے اضافہ ہوا' چناں چہ مارشل لاء حکومت نے ان پرچوں کے خلاف تادیبی کارروائیوں کا سلسلہ شروع کردیا' روزنامہ مساوات کراچی پر ضرب لگانے کے لیے شیخ سلطان ٹرسٹ نے جو اس کے پرنٹر تھے نے شایع کرنے سے انکار کردیا اور یوں ان کے خلاف اخباری کارکنوں کی ایک ولولہ انگیز جنگ کا آغاز ہوا' اس پر ٹرسٹ نے پریس ریلیز جاری کیا جس میں یہ موقف اختیار کیا گیا کہ مساوات کو شیخ سلطان ٹرسٹ نے ایک لاکھ 80 ہزار روپے کے واجبات کی ادائیگی کا نوٹس بھیجا' جب تک ادائیگی نہیں کی جائے گی' ٹرسٹ اخبار شایع نہیں کرے گا۔
اس وقت کے معروف صحافی اور ادیب ابراہیم جلیس روزنامہ مساوات کے ایڈیٹر تھے' انھوں نے کافی بھاگ دوڑ کی لیکن بات نہ بنی' ایک دن دفتر میں دورہ پڑا اور ابراہیم جلیس انتقال کرگئے' مساوات کی عمارت انتہائی خستہ حال تھی' ابراہیم جلیس کا اس خستہ عمارت میں ہارٹ اٹیک ہوا' ان کی یاد میں مساوات ایمپلائز یونین نے مساوات کے دفتر میں جلسہ کیا' اس مخدوش عمارت میں بیگم نصرت بھٹو تشریف لائیں۔
(جاری ہے ۔)
آزادی صحافت عوام کا حق ہے، اس حق کو تسلیم کرانے کے لیے سیاسی جماعتوں کو جدوجہد کرنی تھی مگر سیاسی جماعتیں اپنا فریضہ ادا نہیں کر پائیں' صحافیوں کی تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ 50کے عشرے میں قائم ہوئی' پی ایف یو جے کے اکابرین نے صحافیوں کے حالات کارکو بہتر بنانے کی جدوجہد کے ساتھ آزادی صحافت کے لیے جدوجہد کو اپنا شعار بنا لیا'عوام کے اس حق کو تسلیم کرانے کے لیے پی ایف یوجے کے رہنماؤں نے اپنی ملازمتوں کو داؤ پر لگایا اور قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کیں' منہاج برنا نے اپنی زندگی پی ایف یو جے اور صحافیوں اور غیر صحافتی عملے کی انجمن ایپنک کو منظم کرنے میں گزاری۔
منہاج برنا 1950 سے 1980تک قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرتے رہے اور اپنی ملازمت کی قربانی دیتے رہے' جب 1977میں فوج نے ذوالفقار علی بھٹو کی منتخب حکومت کا تختہ الٹا اور جنرل ضیاء الحق کی فوجی حکومت نے جب آزادی صحافت پر حملہ کیا' پی ایف یو جے کے صدر منہاج برنا کو ہفت روزہ الفتح میں آرٹیکل تحریر کرنے پر روزنامہ پاکستان ٹائمز کی ملازمت سے برطرف کردیا، روزنامہ مساوات پر پابندی عائد کردی' روزنامہ مساوات کے مدیروں میر جمیل الرحمن، بدرالدین اور ظہیرکاشمیری کو گرفتار کیا' روزنامہ مساوات کراچی ایڈیشن پر پابندی لگادی' سیکڑوں صحافی اور صحافتی عملہ بیروزگار ہوا اور باقی اخبارات کوآزادی صحافت کا حق استعمال کرنے کی سزا کا ماڈل دکھا دیا ' پی ایف یو جے اور ایپنک نے روزنامہ مساوات کی بحالی کے لیے تحریک چلائی اس تحریک میں جو چھ ماہ سے زیادہ عرصے جاری رہی، پاکستان بھرکے صحافیوں' طلبہ' مزدور'کسانوں' خواتین نے گرفتاریاں دیں' صحافیوں کوکوڑے مارے گئے۔
اس تحریک کو منظم کرنے میں سینئرصحافی احفاظ الرحمٰن نے بنیادی کردارادا کیا' احفاظ الرحمٰن نے صحافیوں کی اس تحریک کی کہانی آزادی صحافت کی ''سب سے بڑی جنگ '' کے عنوان سے کتاب کی شکل میں کاغذ پر منتقل کردی' پاکستان میں آزادی صحافت کی سب سے بڑی جدوجہد دستاویز کی صورت میں سامنے آئی' یہ کتاب 10ابواب اور 500 صفحات پر مشتمل ہے' اس کتاب میں احفاظ الرحمٰن نے تحریک کے تمام واقعات کو تفصیلی طور پر بیان کیا ہے' اس کتاب میں تحریک میں حصہ لینے والے کارکنوں کی تصاویر اور تحریک میں حصہ لینے والے اکابرین کے خطوط شامل کیے گئے ہیں۔
احفاظ چاہت کا چمن کے عنوان سے لکھتے ہیں کہ صحافیوں کی اس تحریک کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے بھارت کے معروف اخبار ٹائمز آف انڈیا نے لکھا تھا کہ ''اگر انڈیا میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ جیسی کوئی منظم تنظیم ہوتی تو بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کو یہاں ایمرجنسی نافذ کرنے کی ہمت نہ ہوتی'' سینئر صحافی اور ہفت روزہ الفتح (جس پر جنرل ضیا کے دور میں پابندی عائد کردی گئی تھی) کے مدیر وہاب صدیقی کتاب کے مقدمے میں لکھتے ہیں کہ تاریخ لکھنے کے 3بنیادی اصول ہوتے ہیں' واقعات' ثبوت اور تشریح' واقعات کا تعلق ان امور سے ہوتا ہے جو ماضی میں رونما ہوئے' بعض اوقات واقعات گھڑ لیے جاتے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ واقعات کو ثبوت کے ساتھ پیش کیا جائے' تشریح اور تجزیہ بھی اہم ہے' جیسے واقعات اور ثبوت مگر اس معاملے میں مورخ کو اپنے نظریات کے مطابق تشریح کا حق حاصل ہے،احفاظ صاحب نے تحریک کے واقعات بیان کرتے ہوئے انتہائی ذمے داری سے کام لیا ہے' اس زمانے کے اخبارات اور جرائد سے ثبوت حاصل کیے ہیں۔
احفاظ الرحمٰن کراچی یونین آف جرنلسٹ کے جنرل سیکریٹری' پی ایف یو جے اور ایپنک کی مشترکہ وفاقی ایکشن کمیٹی کے سیکریٹری جنرل رہے' بہت سے واقعات کے وہ چشم دید گواہ ہیں' دوسرے حصے کے تجزیاتی مضامین احفاظ صاحب کی سوچ کے آئینہ دار ہیں وہ طبقاتی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں' مالدار اور نادار کی جنگ میں وہ نادار کے ساتھ ہیں،احفاظ الرحمٰن کتاب کے باب ابتدائے عشق میں لکھتے ہیں کہ پہلے فوجی آمر جنرل ایوب خان نے سب سے پہلا حملہ آزادی صحافت پر کیا ، 18اپریل1959 کو پروگریسو پیپرز لمیٹڈ PPL کے اخبارات پر قبضہ کیا' 1963میں پریس اینڈ پبلیکیشن آرڈیننس نافذ کیا اور 1964میں نیشنل پریس ٹرسٹ بنا' 11 اردو، بنگالی' انگریزی پرچوں کو اس کے قبضے میں دے دیا گیا۔
اس کے علاوہ ملک کی سب سے بڑی نیوز ایجنسی APP کو سرکاری تحویل میں لیا گیا' پی ایف یو جے نے یوں تو بہت سی تحریکیں چلائیں، پی ایف یو جے نے پریس اینڈ پبلیکیشن آرڈیننس کے خلاف جدوجہد کی، ان میں سے سب سے زیادہ بڑی تحریکیں بھی اپنے حجم اوروسعت اور اثر پذیری کے لحاظ سے تاریخی اہمیت کی حامل ہے، اس میں ایک تحریک 70' دوسری 74' اور تیسری 77-78 میں چلائی گئی' 70کی تحریک نے ویج بورڈ کے قیام اور عبوری امداد کے مطالبے '74 اور77-78کی تحریکیں روزنامہ مساوات کے کارکنوں کی برطرفی اور اس اخبار پر پابندی کے خاتمے کے لیے چلائی گئیں۔
جہاں تک 77-78کی تحریک کا تعلق ہے اپنے حجم 'وسعت 'طوالت گرفتار شدگان کی تعداد اور فوجی حکومت کی خوفناک ایزا رسانی اور صحافی برادری کی مثالی ثابت قدمی کے پیش نظر یہ آزادی صحافت کے لیے ہماری سب سے بڑی جنگ کی حیثیت رکھتی ہے' وہ لکھتے ہیں کہ دائیں بازو کے لوگ دوسرے موقع پرستوں کو ساتھ ملا کر سال ہا سال سے برنا گروپ کے خلاف کام کررہے تھے مگر ان کو پی ایف یو جے اور پریس کلب کے انتخابات میں بہت بری طرح شکست ہوتی تھی' ان لوگوں نے ضیاء الحق اور اس کے کارندوں کے آشیر باد سے 77-78کی آزادی کی تحریک کے دوران ہماری پیٹھ میں چھرا گھونپا ' وہ لکھتے ہیں کہ روزنامہ ہلال پاکستان ' روزنامہ مساوات اور ہفت روزہ ''نصرت'' بھٹو خاندان کے حمایتی پرچے تھے۔
پہلے ان کی سرکولیشن زیادہ نہیں تھی لیکن بھٹو کی گرفتاری اور ان کے خلاف عدالتی ایکشن کے بعد ان کی سرکولیشن میں تیزی سے اضافہ ہوا' چناں چہ مارشل لاء حکومت نے ان پرچوں کے خلاف تادیبی کارروائیوں کا سلسلہ شروع کردیا' روزنامہ مساوات کراچی پر ضرب لگانے کے لیے شیخ سلطان ٹرسٹ نے جو اس کے پرنٹر تھے نے شایع کرنے سے انکار کردیا اور یوں ان کے خلاف اخباری کارکنوں کی ایک ولولہ انگیز جنگ کا آغاز ہوا' اس پر ٹرسٹ نے پریس ریلیز جاری کیا جس میں یہ موقف اختیار کیا گیا کہ مساوات کو شیخ سلطان ٹرسٹ نے ایک لاکھ 80 ہزار روپے کے واجبات کی ادائیگی کا نوٹس بھیجا' جب تک ادائیگی نہیں کی جائے گی' ٹرسٹ اخبار شایع نہیں کرے گا۔
اس وقت کے معروف صحافی اور ادیب ابراہیم جلیس روزنامہ مساوات کے ایڈیٹر تھے' انھوں نے کافی بھاگ دوڑ کی لیکن بات نہ بنی' ایک دن دفتر میں دورہ پڑا اور ابراہیم جلیس انتقال کرگئے' مساوات کی عمارت انتہائی خستہ حال تھی' ابراہیم جلیس کا اس خستہ عمارت میں ہارٹ اٹیک ہوا' ان کی یاد میں مساوات ایمپلائز یونین نے مساوات کے دفتر میں جلسہ کیا' اس مخدوش عمارت میں بیگم نصرت بھٹو تشریف لائیں۔
(جاری ہے ۔)