یورپ کے دائیں بازو کی مہم جوئی

آج دنیا کو جن بڑے اور سنگین مسائل کا سامنا ہے، ان میں مذہبی انتہاپسندی سرفہرست ہے

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

KARACHI:
آج دنیا کو جن بڑے اور سنگین مسائل کا سامنا ہے، ان میں مذہبی انتہاپسندی سرفہرست ہے۔ مذہبی انتہاپسندی کا بیج سامراجی طاقتوں نے اپنے سیاسی مفادات کے لیے افغانستان میں بویا، اب یہ بیج ایک تناور درخت بن کر ساری دنیا پر اپنا منحوس سایہ ڈالے کھڑا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس بیماری کی وجوہات تلاش کرکے اس کا علاج کرنے کے بجائے اس میں شدت پیدا کرنے کی احمقانہ کوششیں کی جا رہی ہیں۔

بھارت میں مودی حکومت کے زیر اثر تنظیمیں بھارت میں مسلسل ایسے اقدامات کر رہی ہیں، جن سے بھارت بتدریج مذہبی انتہاپسندی کے ہولناک بلیک ہول کی طرف بڑھ رہا ہے۔

پٹھان کوٹ کے واقعے کو اس کے حقیقی تناظر میں دیکھ کر اس کا مثبت حل تلاش کرنے کے بجائے پاکستان کو اس حملے کا ذمے دار قرار دے کر بھارت کے ہندو مذہبی انتہا پسندوں کے ہاتھ مضبوط کرنے کی دانستہ یا نادانستہ کوششیں کی جا رہی ہیں۔ امریکی صدر بارک اوباما کا کہنا ہے کہ ''پاکستان شدت پسند گروہوں کے خاتمے کے لیے مزید موثر اقدامات کرے''۔ اسی نفسیات کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرانسیسی صدر فرانسو اولاندے نے اپنے دورۂ بھارت کے دوران کہا ہے کہ ''پاکستان پٹھان کوٹ حملے کے ذمے داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے'' موصوف نے کہا ہے کہ ''بھارت اس حوالے سے پاکستان سے سخت اقدامات کرنے میں حق بجانب ہے۔''

امریکا اور فرانس مغرب کے دو بڑے اور طاقتور ملک ہیں اور پچھلے کچھ عرصے کے دوران ان دونوں ملکوں میں دہشت گردی کے کئی واقعات ہوچکے ہیں، جن کی مذمت پاکستان سمیت ساری دنیا کے حکمرانوں نے کی ہے، لیکن کسی ملک نے دہشت گردی کی ذمے داری امریکا یا فرانس پر نہیں ڈالی، حالانکہ دنیا بھر میں آج دہشت گردی جس خطرناک مقام پر کھڑی ہے اس کا آغاز اور اس کی ذمے داری امریکا اور اس کے حواریوں پر عائد ہوتی ہے۔

بلاشبہ پاکستان کے ایک سابق صدر ضیا الحق نے روس کو افغانستان سے نکالنے کی سیاسی مہم میں امریکا کا ساتھ دے کر دانستہ یا نادانستہ، بالواسطہ یا بلاواسطہ مذہبی انتہاپسندی کے فروغ میں کردار ادا کیا۔ کیا امریکا اور فرانس کے صدور اس حقیقت سے انکار کرسکتے ہیں کہ روس کو افغانستان سے نکالنے کی مہم ہی مذہبی انتہاپسندی کے فروغ کا ذریعہ بن گئی؟

مغربی ممالک اگرچہ خود انتہاپسندی اور دہشت گردی کا شکار ہیں لیکن مغربی ملکوں میں دائیں بازو کے مذہبی انتہاپسند، مذہبی انتہاپسندی کے خلاف جس قسم کی مہم جوئی کے منصوبے بنا رہے ہیں اگر مغرب کا حکمران طبقہ دانشور، مفکر، اہل قلم اور میڈیا اس مہم جوئی کے خلاف آواز نہ اٹھائے تو خدشہ یہ ہے کہ ساری دنیا جہل کی پیداوار مذہبی انتہا پسندی کے جہنم میں بدل جائے گی۔

ایکسپریس میں شایع ہونے والی دو کالمی خبر کے مطابق یورپ کے دائیں بازو کے مذہبی انتہاپسندوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ 6 فروری کو یورپ کے 14 شہروں میں جن میں جمہوریہ چیک، ایسٹونیا، فن لینڈ، جرمنی، پولینڈ، سلواکیہ اور سوئٹزرلینڈ شامل ہیں۔ ''اسلام مخالف'' مظاہروں کا آغاز کریں گے۔ ان احتجاجی مظاہروں کا اہتمام غیر ملکیوں کی یورپ میں آمد کی مخالف جرمن تنظیم پچیڈا نے کیا ہے۔


دنیا میں بڑھتی ہوئی مذہبی انتہاپسندی اور اس کے بائی پروڈکٹ دہشت گردی کے خلاف کوئی بھی تنظیم آواز اٹھاتی ہے تو اس کی حمایت کی جانی چاہیے لیکن ''پچیڈا'' 14 شہروں میں جو مظاہرے کرنے جا رہی ہے انھیں اسلام مخالف مظاہروں کا نام دیا جا رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آج دنیا جس دہشت گردی اور مذہبی انتہا پسندی کا شکار ہے وہ اسلام کے نام پر کی جا رہی ہے لیکن اس پاگل پن کا شکار سب سے زیادہ مسلم ملک ہو رہے ہیں۔ صرف پاکستان میں اس بے سمت انتہا پسندی کا 50 ہزار سے زیادہ پاکستانی مسلمان شکار ہوچکے ہیں۔

کیا ایسی انتہاپسندی کو جو مسلمانوں کو بے دردی سے قتل کر رہی ہے، بچوں عورتوں کو ذبح کر رہی ہے، شام عراق یمن افغانستان اور کئی افریقی مسلم ملکوں کو تاراج کر رہی ہے، اسے مسلم انتہا پسندی کہا جاسکتا ہے؟ ساری دنیا میں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی تنظیموں کا منشور ہی مذہبی انتہاپسندی ہے۔ اس انتہاپسندی کا سب سے زیادہ شکار بدقسمتی سے خود مسلمان ہورہے ہیں۔

اس حقیقت کے پیش نظر ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ساری دنیا مذہبی انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خلاف متحد ہوجاتی لیکن یورپ کے دائیں بازو کے انتہاپسند اسلام مخالف مظاہروں کا اہتمام کرکے ایک ایسی تباہی کا آغاز کر رہے ہیں جو ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔

مذہبی انتہاپسندی خواہ اس کا کسی ملک و قوم سے تعلق ہو، ایک پاگل پن ہے۔ اسے کسی ایک ملک قوم یا مذہب سے منسلک کرنا دراصل ایسی بددیانتی اور جانبداری ہے، جو دنیا میں ایک ایسی مذہبی جنگ میں بدل جائے گی جس کا افسوسناک مشاہدہ صلیبی جنگوں میں کیا جاتا رہا ہے۔ بارک اوباما اور فرانس کے صدر ترقی یافتہ ملکوں کے صدر ہیں۔ مذہبی انتہا پسندی دراصل جہل کی پیداوار ہے اور جہل کسی ایک ملک یا قوم کی میراث نہیں ہے۔

یورپ کے 14 شہروں میں اسلام کے خلاف مظاہروں کا اہتمام کیا مذہبی انتہا پسندی نہیں ہے؟ امریکا اور یورپ میں بھی دائیں بازو کی فکر رکھنے والی تنظیمیں موجود ہیں بلکہ ان ملکوں کی پارلیمنٹوں میں بھی ان حوالوں سے تقسیم موجود ہے یہی حال پاکستان جیسے پسماندہ ملکوں کا بھی ہے جہاں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی بے شمار تنظیمیں موجود ہیں لیکن ان میں اعتدال ہے وہ اگرچہ اپنے منشور کے مطابق اپنے ملک کو مذہبی ریاست بنانا چاہتی ہیں لیکن یہ طاقتیں اپنے مقصد کے حصول کے لیے جمہوریت کے راستے کو اپنا رہی ہیں۔

بھارت آبادی کے حوالے سے دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارتی عوام کی بھاری اکثریت اعتدال پسند لبرل اور جمہوریت پسند ہے لیکن بی جے پی، آر ایس ایس جیسی بے لچک منشور رکھنے والی تنظیمیں بھی وہی حرکتیں کر رہی ہیں، جو یورپ کے دائیں بازو کی تنظیمیں کرنے جا رہی ہیں۔

بھارت کو ایک ہندو ریاست بنانے کے خواہش مند غالباً اس حقیقت سے نابلد ہیں کہ اگر بھارت کو ہندو ریاست بنادیا گیا تو بھارت نہ صرف مذہبی قتل و غارت گری کا شکار ہوجائے گا بلکہ اس کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے۔ اس ملک کو اب تک جوڑے رکھنے اور مذہبی منافرت اور قتل و غارت سے بچائے رکھنے میں سیکولرازم نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ مذہبی انتہاپسندی خواہ وہ پاکستان میں ہو بھارت میں امریکا یا یورپ میں صرف اور صرف نفرتیں پھیلانے اور قتل و غارت کا کام انجام دیتی ہے۔ اگر یورپ میں مذہبی انتہا پسندی کو راستہ دیا گیا تو وہ خود یورپ ہی کو نہیں بلکہ ساری دنیا کو لے ڈوبے گی۔ کیا یورپ کے اہل فکر اہل علم اہل قلم بھی مذہبی انتہا پسندی کو صرف اسلام سے جوڑنا چاہتے ہیں؟
Load Next Story