چیف جسٹس کی باتیں
حکمرانوں نے آئین کے مطابق جمہوریت کو چلنے نہیں دیا‘ عدلیہ کو سرنگوں کرنے کے لیے ایمرجنسی لگائی گئی۔
قانون کی پاسداری پر یقین رکھنے والا ہی ملکی باگ ڈور سنبھالے گا‘چیف جسٹس۔ فوٹو: فائل
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ہفتے کو شیخوپورہ بار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانون کی پاسداری پر یقین رکھنے والا ہی ملکی باگ ڈور سنبھالے گا' ملک میں مارشل لاء لگائے گئے مگر کسی نے مزاحمت نہیں کی۔
حکمرانوں نے آئین کے مطابق جمہوریت کو چلنے نہیں دیا' عدلیہ کو سرنگوں کرنے کے لیے ایمرجنسی لگائی گئی' عدلیہ کی تاریخ میں 3 نومبر اہم دن ہے' وکلاء صاحبان نے 3 نومبر کو پاکستان بچانے کا فیصلہ کیا' 3 نومبر کو صرف اور صرف عدلیہ کے خلاف ایمرجنسی لگائی گئی' وکلا نے ڈٹ کر پیغام دیا کہ وہ مارشل لاء کو نہیں مانیں گے' عدالت نے نظریہ ضرورت کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا' اس کے بعد کسی حکمران کو غیر آئینی کام کرنے کی اجازت نہیں۔ تین نومبر کو اس وقت کے باوردی صدر جنرل پرویز مشرف نے ایمرجنسی پلس نافذ کر کے اعلیٰ عدلیہ کے ججز کو برطرف کر دیا تھا' آج پوری قوم اس بات پر متفق ہے کہ یہ عدلیہ پر ایک آمر کا وار تھا اور آئین میں اس کی قطعاً گنجائش نہیں تھی۔
چیف جسٹس آف پاکستان کا یہ کہنا درست ہے کہ 3 نومبر کو صرف عدلیہ کے خلاف ہی ایمرجنسی لگائی گئی' وکلاء نے ججز کی بحالی اور جمہوریت کے لیے جدوجہد کی لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ ملک کی سیاسی کارکنوں' سول سوسائٹی اور عوام نے بھی معزول ججز کی بحالی کے لیے ریلیوں اور جلوسوں میں جوق در جوق شریک ہو کر ملک کو آمریت سے نجات دلانے میں اہم کردار ادا کیا' اب پاکستان میں عدلیہ آزاد ہے اور جمہوریت قائم ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے واضح کیا ہے کہ اب ملک پر وہی سیاسی جماعت حکمرانی کرے گی جو آئین و قانون کی پاسداری کرے گی کیونکہ اب ملک میں کسی آمر کو نظریہ ضرورت کا سہارا نہ ملے گا۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ 3 نومبر کا دن در حقیقت آمریت کو دفن کر دینے کی حیثیت سے یاد رکھا جائے گا۔
حکمرانوں نے آئین کے مطابق جمہوریت کو چلنے نہیں دیا' عدلیہ کو سرنگوں کرنے کے لیے ایمرجنسی لگائی گئی' عدلیہ کی تاریخ میں 3 نومبر اہم دن ہے' وکلاء صاحبان نے 3 نومبر کو پاکستان بچانے کا فیصلہ کیا' 3 نومبر کو صرف اور صرف عدلیہ کے خلاف ایمرجنسی لگائی گئی' وکلا نے ڈٹ کر پیغام دیا کہ وہ مارشل لاء کو نہیں مانیں گے' عدالت نے نظریہ ضرورت کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا' اس کے بعد کسی حکمران کو غیر آئینی کام کرنے کی اجازت نہیں۔ تین نومبر کو اس وقت کے باوردی صدر جنرل پرویز مشرف نے ایمرجنسی پلس نافذ کر کے اعلیٰ عدلیہ کے ججز کو برطرف کر دیا تھا' آج پوری قوم اس بات پر متفق ہے کہ یہ عدلیہ پر ایک آمر کا وار تھا اور آئین میں اس کی قطعاً گنجائش نہیں تھی۔
چیف جسٹس آف پاکستان کا یہ کہنا درست ہے کہ 3 نومبر کو صرف عدلیہ کے خلاف ہی ایمرجنسی لگائی گئی' وکلاء نے ججز کی بحالی اور جمہوریت کے لیے جدوجہد کی لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ ملک کی سیاسی کارکنوں' سول سوسائٹی اور عوام نے بھی معزول ججز کی بحالی کے لیے ریلیوں اور جلوسوں میں جوق در جوق شریک ہو کر ملک کو آمریت سے نجات دلانے میں اہم کردار ادا کیا' اب پاکستان میں عدلیہ آزاد ہے اور جمہوریت قائم ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے واضح کیا ہے کہ اب ملک پر وہی سیاسی جماعت حکمرانی کرے گی جو آئین و قانون کی پاسداری کرے گی کیونکہ اب ملک میں کسی آمر کو نظریہ ضرورت کا سہارا نہ ملے گا۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ 3 نومبر کا دن در حقیقت آمریت کو دفن کر دینے کی حیثیت سے یاد رکھا جائے گا۔