مہاتیر محمد کے دیس میں

مہنگائی کے باوجود دنیا بھر سے ہزاروں سیّاح ملائیشیا کھنچے آتے ہیں

دبئی سے ساڑھے چھ گھنٹے کا سفر کرکے عالمِ اسلام کی اس مشہور شخصیت کے ملک ملائیشیا پہنچے۔

جس کے طویل عرصہ اقتدار میں نہ صرف اس کے ملک کی کایا پلٹ گئی بلکہ ملائیشیا دنیا میں معاشی طور پر مضبوط اور ترقی یافتہ طاقت کے طور پر ابھرا اور دنیا سرمایہ کاری کے لیے دبئی پر ملائیشیا کو ترجیح دینے پر مجبور ہوگئی اور پاکستانی بھی اس میں پیچھے نہیں رہے۔

ملائیشیا کے خوبصورت دارالحکومت کوالالمپور کے سرسبز ہونے اور بارشوں کے اس شہر کی خوبصورت بلند ترین عمارتوں کا تو بس سنا ہی سنا تھا مگر جب میں اپنے عزیز دوست محمد فیصل خمیسہ اور ایک اور ساتھی کے ساتھ کوالالمپور انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی خوبصورت عمارت سے شہر جانے کے لیے کار میں سوار ہوا تو ہوٹل تک ایک گھنٹے کے سفر نے سڑک کے دونوں اطراف ناریل سمیت مختلف پھلوں کے درختوں اور سرسبز پودوں کے دور دور تک پھیلے سلسلے نے اپنے ملک کے مری، اسلام آباد، سوات اور آزاد کشمیر کی یاد تازہ کردی۔

کوالالمپور جاتے ہوئے راستے میں بارش نے بھی آلیا مگر آگے بارش تھم گئی اور کچھ دیر بعد اوور ہیڈ برجز اور انڈر پاسز سے بھرا کشادہ اور صاف ستھری سڑکوں کا جال بچھا نظر آیا۔ قدرت نے تو اس شہر کو خوبصورتی عطا کی ہے مگر ملائیشیا کے حکمرانوں نے بھی اپنے تعمیری و ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے اپنے دارالحکومت کو مزید خوبصورت بنانے میں کسر نہیں چھوڑی اور اپنے اس شہر کو جدید خوبصورت سنگل اور ڈبل ڈیکر بسوں اور میٹرو ٹرین سسٹم کے ذریعے اپنے شہریوں کو ہی نہیں بلکہ دنیا بھر سے سیاحت کے لیے ملائیشیا آنے والوں کو تیز رفتار سفر کی سہولتیں فراہم کر رکھی ہیں۔

ملائیشیا کو قدرت نے سمندر کی نعمت بھی بڑے پیمانے پر عطا کر رکھی ہے اور ملائیشیا کی حکومت نے سمندر کی قدرتی نعمت سے بھرپور فائدہ اٹھا کر سمندر کو تفریح کے اہم مقامات میں تبدیل کردیا ہے اور دنیا بھر سے سیّاح ان سمندری تفریح گاہوں کی سیر کے لیے آتے ہیں۔ ملائیشیا میں ایک ہفتے کے قیام کے دوران ہمیں دو تفریحی مقامات لنکاوی اور پیانگ میں بھی چار روز گزارنے کا موقع ملا۔ لنکاوی ایک خوبصورت جزیرہ اور سمندر کنارے آباد ایک چھوٹا مگر خوبصورت شہر ہے جہاں ملائیشیا ایئرلائن کے جہاز سے پون گھنٹے کی مسافت کے بعد پہنچے اور اگلے روز سمندر کنارے میلوں دور تک پھیلے ہوئے لنکاوی میں بنائے گئے تفریحی مقامات کو بھی دیکھنے کا موقع ملا، جہاں مختلف آئی لینڈ، برڈ پارک، مگرمچھوں سے بھرا کروکوڈائل پارک منفرد نوعیت کے تھے۔

ملائیشیا کے مختلف تفریحی مقامات پر حکومت نے کوئی ایک بڑا چڑیا گھر بنانے کے بجائے مختلف پرندوں اور جانوروں کے علاوہ تتلیوں کے بٹر فلائی پارک بھی بنا رکھے ہیں اور وہیں ان پرندوں اور جانوروں سے مشابہت رکھنے والی مختلف اشیا، شو پیس کے علاوہ گارمنٹس اور ضروریاتِ زندگی میں استعمال آنے والی اشیا کے شاپنگ سینٹر اور ریسٹورنٹ بھی بنوا رکھے ہیں۔


ہمیں ملائیشیا کے تین شہروں کوالالمپور، لنکوائی اور پیانگ کے مختلف ہوٹلوں میں رہنے اور 8 روز تک دیکھے جانے والے تفریحی مقامات، بازاروں اور شاپنگ سینٹروں میں گھوم کر اندازہ ہوا کہ ملائیشیا میں پٹرول کی قیمت دو رنگٹ 63 پاکستانی روپے سے بھی فی لیٹر کم ہونے کے باوجود مہنگائی بہت زیادہ ہے جب کہ روزانہ اجرت پر ملازمت کرنے والے عارضی ملازم کی ماہانہ تنخواہ 1225 رنگٹ تک ہے۔ تفریحی مقامات پر اشیا کی قیمتیں پاکستان کی طرح زیادہ ہیں۔

یہاں پٹرول مہنگا نہ ہونے کے باوجود خوراک، پھلوں اور سبزیوں کی قیمتیں پاکستان سے کہیں زیادہ ہیں مگر مہنگائی کے باوجود دنیا بھر سے ہزاروں سیّاح یہاں کھنچے آتے ہیں اور یہاں کے قدرتی موسم اور خوبصورت تفریحی مقامات سے محظوظ ہوتے ہیں۔ ملائیشیا میں چھوٹے بڑے کاروبار، ملازمتوں اور نچلی دکان داری میں بھی خواتین کی تعداد مردوں سے زیادہ ہے۔ خواتین یہاں سڑکوں کے کنارے فٹ پاتھوں پر ناشتے کا سامان لے کر رات گئے کھانے فروخت کرتی ہیں اور اپنی خوش اخلاقی سے گاہک کو متاثر کرتی ہیں۔ ملائیشیا میں موٹر سائیکلوں کا استعمال پاکستان کی طرح زیادہ ہے مگر بائیک چلانے اور پیچھے بیٹھنے والے کے لیے بھی ہیلمٹ کا استعمال ضروری ہے۔

ہمیں ملائیشیا کے سب سے بڑے شہر اور تفریحی مقام کوالالمپور سے بذریعہ جہاز لنکاوی، لنکاوی سے بذریعہ فیری (چھوٹے بحری جہاز) پونے تین گھنٹوں میں پیانگ اور واپسی میں پیانگ سے بذریعہ ہائی وے چار گھنٹوں میں واپس کوالالمپور آنے کا موقع ملا۔ پیانگ بھی سمندر کے کنارے آباد ایک خوبصورت سرسبز شہر ہے جو تقریباً چالیس کلومیٹر تک لمبائی میں پھیلا ہوا ہے جس کے ایک طرف سمندر اور دوسری جانب سرسبز پہاڑ ہیں۔ یہاں سمندر کے کنارے اونچی عمارتیں اور ہوٹل بنے ہوئے ہیں مگر سمندر کی طرف کھلنے والے رہایشی کمروں کا کرایہ زیادہ اور سڑک کی طرف کے کمروں کا کرایہ کم ہے۔ تمام بڑے اور اچھے ہوٹلوں میں سوئمنگ پولز بنے ہوئے ہیں اور صاف ستھرے اونچے اور خوبصورت ہوٹل سیّاحوں کو متاثر کرتے ہیں اور یہ حکومتی آمدنی کا ذریعہ بھی ہیں۔

پیانگ میں مختلف مذاہب کے لوگوں کے خوبصورت مندر بھی ہیں جہاں سیّاح آتے ہیں مگر کوالالمپور کی سب سے بڑی قومی مسجد کے اندر غیر مسلموں کا داخلہ ممنوع ہے اور نیم برہنہ غیر ملکی خواتین کو مسجد کے صحن سے فراہم کیا جانے والا قباء پہن کر اوپر آنے اور مسجد کے باہر سے فوٹوگرافی کی اجازت ہے اور صرف مسلمان مرد ہی مسجد میں داخل ہوسکتے ہیں۔ پیانگ میں اونچے پہاڑ پر بنے مرکزی ہل اسٹیشن کی مسجد میں خواتین کے لیے پردہ لگا کر نماز پڑھنے کا انتظام کیا گیا ہے۔ پیانگ کا یہ ہل اسٹیشن بڑے پہاڑ پر بنا ہوا ہے، جہاں اوپر جانے کے لیے پہاڑ کو کاٹ کر نیچے سے اوپر ریلوے لائن بچھائی گئی ہے اور تیز رفتار جدید و منفرد ٹرین 3 رنگٹ کا ٹکٹ لینے پر تین سے چار منٹ میں اوپر نیچے کا سفر کرلیتی ہے۔ یہ ہل اسٹیشن پیانگ کا سب سے اونچا تفریحی مقام ہے مگر کار اور موٹر سائیکل پر سڑک کے ذریعے یہاں پہنچنے میں ڈیڑھ گھنٹہ لگ جاتا ہے۔

ملائیشیا کی چائے، کافی اور چاکلیٹ دنیا بھر میں مشہور ہے۔ پیانگ اور کوالالمپور میں اس کی فروخت کے سینٹر بنے ہوئے ہیں جہاں چائے کافی پلا کر اور چاکلیٹ گاہکوں کو چکھا کر فروخت کی جاتی ہے مگر دبئی کے مقابلے میں مہنگی ہیں۔

پیانگ سے کوالالمپور آنے کے لیے سمندر پر طویل پل بنایا گیا ہے جو نصف گھنٹے کی مسافت پر ہے، جس کے بعد سڑک کے دونوں اطراف صنعتیں قائم ہیں اور پیانگ سے کوالالمپور تک تقریباً چار سو کلومیٹر طویل دو رویہ تین چار ٹریک کی شاہراہ کے دونوں اطراف خوبصورت، سرسبز پہاڑ اور درختوں کی قطاریں ایسا خوبصورت منظر پیش کرتی ہیں کہ نیند بھی اڑ جاتی ہے۔ ملائیشیا جیسے قدرتی مناظر پاکستان میں بھی ہیں۔ معدنیات اور چاروں موسم ہمیں میسر ہیں، جن کے لیے غیر ملکی ترستے ہیں مگر ہم نے دنیا میں مشہور اپنے تفریحی مقامات کو دہشت گردی کے باعث بدنام کرا لیا ہے۔ سوات جیسے علاقوں کا حسن ماند پڑ چکا ہے۔ کوئٹہ اور زیارت جاتے تو ہم خود ہی خوف محسوس کرتے ہیں تو کوئی غیر ملکی کیوں یہاں آئے گا۔ سمندری شہر کراچی باہمی خونریزی کا شکار ہے اور اب تک کی حکومتوں میں رہنے والوں نے اس ملک کو اپنا سمجھا ہوتا تو ہمیں دوسروں پر رشک نہ آتا اور ہمارا ملک ملائیشیا سے بھی بہتر ہوتا۔
Load Next Story