غیر ہنرمند قصاب290 ارب روپے کی کھالیں ضائع کردیتے ہیںٹینرز
ٹینری کے شعبہ کو سہولیات کی فراہمی سے چمڑے کی برآمدات میں کئی گنا اضافہ کرکے قیمتی زرمبادلہ کمایا جاسکتا ہے.
عید الاضحیٰ کے موقع پر 3ارب روپے سے زائد کا کاروبار ہوتا ہے ۔ فوٹو: رائٹرز / فائل
پاکستان چمڑے اور کھالوں کی پیداوار کے حوالے سے ایشیاء کا بڑا ملک ہے اور کھالوں کی مجموعی قومی پیداوار کا 30فیصد حصہ عید الاضحیٰ کے موقع پر پیدا کیا جاتا ہے ۔
پاکستان ٹینرز ایسوسی ایشن کے مرکزی چیئرمین آغا سیدین نے کہا ہے کہ قربانی کے موقع پر غیر ہنر مند قصابوں کی وجہ سے کھالوں کا 12فیصد حصہ یعنی 2ارب 90کروڑ روپے کی کھالیں ضائع ہو جاتی ہیں کیونکہ غیر ہنر مند قصائی کھال اتارتے وقت اسکو مختلف جگہوں سے کاٹ دیتے ہیں ۔جانوروں کی کھالوں کو محفوظ کرنے کے طریقوں سے آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے بھی کھالیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ عیدالاضحیٰ معیشت کے لیے بڑی اہمیت رکھتی ہے اور ٹینری کی صنعت اپنے خام مال کا 30فیصد عید کے موقع پر خریدتی ہے ۔ عید قربان کے موقع پر 130ارب روپے سے زائد کا کاروبار کیا جاتا ہے۔
جس میں سے 120ارب روپے قربانی کے جانوروں کی خریدو فروخت اور 7ارب روپے سے زائد خام چمڑے کی خریداری پر خرچ کئے جاتے ہیں جبکہ ٹینری سے وابستہ دوسری صنعتوں میں بھی عید الاضحیٰ کے موقع پر 3ارب روپے سے زائد کا کاروبار ہوتا ہے ۔ ٹینری کے شعبہ کو توانائی اور دیگر سہولیات کی فراہمی سے چمڑے کی برآمدات میں کئی گنا اضافہ کر کے قیمتی زرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے جس سے ملکی معیشت کے استحکام میں مدد حاصل کی جا سکتی ہے۔
پاکستان ٹینرز ایسوسی ایشن کے مرکزی چیئرمین آغا سیدین نے کہا ہے کہ قربانی کے موقع پر غیر ہنر مند قصابوں کی وجہ سے کھالوں کا 12فیصد حصہ یعنی 2ارب 90کروڑ روپے کی کھالیں ضائع ہو جاتی ہیں کیونکہ غیر ہنر مند قصائی کھال اتارتے وقت اسکو مختلف جگہوں سے کاٹ دیتے ہیں ۔جانوروں کی کھالوں کو محفوظ کرنے کے طریقوں سے آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے بھی کھالیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ عیدالاضحیٰ معیشت کے لیے بڑی اہمیت رکھتی ہے اور ٹینری کی صنعت اپنے خام مال کا 30فیصد عید کے موقع پر خریدتی ہے ۔ عید قربان کے موقع پر 130ارب روپے سے زائد کا کاروبار کیا جاتا ہے۔
جس میں سے 120ارب روپے قربانی کے جانوروں کی خریدو فروخت اور 7ارب روپے سے زائد خام چمڑے کی خریداری پر خرچ کئے جاتے ہیں جبکہ ٹینری سے وابستہ دوسری صنعتوں میں بھی عید الاضحیٰ کے موقع پر 3ارب روپے سے زائد کا کاروبار ہوتا ہے ۔ ٹینری کے شعبہ کو توانائی اور دیگر سہولیات کی فراہمی سے چمڑے کی برآمدات میں کئی گنا اضافہ کر کے قیمتی زرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے جس سے ملکی معیشت کے استحکام میں مدد حاصل کی جا سکتی ہے۔