دہشت گردی کے خاتمے کے عزم کا اعادہ

کوئی شبہ نہیں کہ دہشت گردوں اور دشمنوں کے عزائم کو شکست دے کر ہی پاکستان کے مستقبل کو محفوظ کیا جا سکتا ہے

یہ جنگ ابھی جاری ہے اور دہشت گرد اب بھی اپنی کارروائیاں کر کے ملک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ فوٹو : فائل

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے جمعرات کو آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں اعلیٰ سطح کے سیکیورٹی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کو محفوظ اور خوشحال ملک بنانے کے لیے دشمنوں کے تمام تر عزائم کو مل کر شکست دی جائے گی' پاکستان کی حکومت اور پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی مسلح افواج اور انٹیلی جنس اداروں کی پشت پر کھڑی ہیں۔

آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ملک کی سلامتی کے ماحول میں نمایاں تبدیلی اور اہم کامیابیاں حاصل کرنے پر فوج اور انٹیلی جنس اداروں کی کوششوں کو سراہا اور فرائض کی ادائیگی کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے بہادر افسروں اور جوانوں کو خراج عقیدت بھی پیش کیا۔ علاوہ ازیں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے جمعرات کو پبی میں انسداد دہشت گردی کے قومی مرکز کے دورے کے موقع پر پاکستان' سری لنکا اور مالدیپ کی سہ فریقی مشترکہ انسداد دہشت گردی مشقیں ملاحظہ کیں۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا کہ پاکستان ایک دہائی سے دہشت گردی کا شکار رہا ہے لیکن قومی عزم اور مسلح افواج کی اعلیٰ پیشہ ورانہ استعداد کے باعث ہم نے حالات کا رخ بدل دیا ہے۔

اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ دہشت گردوں اور دشمنوں کے عزائم کو شکست دے کر ہی پاکستان کے مستقبل کو محفوظ کیا جا سکتا ہے۔ دہشت گردوں نے اپنی کارروائیوں کی بدولت پورے ملک کی سلامتی کو داؤ پر لگا دیا تھا لیکن سیاسی اور عسکری قیادت نے ان کے عزائم کو مل کر ناکام بنانے کے لیے جو کارروائیاں کیں اس کا نتیجہ آج سب کے سامنے ہے۔

آپریشن ضرب عضب نے دہشت گردوں کی کمر توڑ کر رکھ دی' شمالی وزیرستان جسے انتہا پسند اپنا محفوظ اور مضبوط گڑھ سمجھتے تھے اور ان کا خیال تھا کہ پاک افواج اس مشکل ترین علاقے کی جانب رخ نہیں کرے گی لیکن فوج نے آپریشن کر کے ان کے اس گمان کو توڑ دیا اور آج شمالی وزیرستان انتہا پسندوں کے بجائے پرامن لوگوں کا مسکن بن چکا ہے۔ انتہا پسندوں نے اس دوران بھی ملک بھر میں دہشت گردی کی کارروائیوں کو وقفے وقفے سے جاری رکھا تاکہ حکومت پر دباؤ بڑھا کر اس آپریشن کو رکوا دیا جائے۔


لیکن سیاسی اور عسکری قیادت نے بارہا اس عزم کا اظہار کرتے ہوئے واضح کر دیا کہ وہ ملک کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے آمادہ ہیں اور دہشت گردوں کی کوئی بھی کارروائی ان کے اس عزم بالجزم کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتی۔ اس موقع پر قوم نے بھی فوج پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا کہ وہ دہشت گردی کی اس جنگ میں فوج کا شانہ بشانہ ساتھ دے گی۔ آج فوج نے قیام امن کے لیے قربانیوں کی ایک نئی داستان رقم کر کے حالات کا رخ بدل دیا ہے جس کو نہ صرف اندرون ملک سراہا جا رہا بلکہ پوری دنیا پاکستانی فوج کی مہارت اور پیشہ ورانہ تربیت کی رطب اللسان ہے' یہی وجہ ہے کہ سری لنکا اور مالدیپ بھی پاک آرمی سے دہشت گردی پر قابو پانے کی مہارت حاصل کر رہے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن ضرب عضب کی کامیابیوں کے بعد متعدد دوست ملکوں نے پاکستان سے درخواست کی کہ انسداد دہشت گردی کے جدید ترین مرکز میں ان کی فورسز کو بھی تربیت فراہم کی جائے' اب تک پاک فوج چین' سعودی عرب' اردن اور بحرین کی افواج کی استعداد بڑھانے کے لیے ان کے ساتھ مشترکہ مشقیں کر چکی ہے۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے بالکل درست کہا کہ پوری قوم کے عزم اور مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی بدولت دہشت گردوںکو شکست دینے میں کامیابی ملی اور آج پوری دنیا پاکستان کے ساتھ اس کے تجربات کا تبادلہ کرنے کی خواہشمند ہے۔

کل تک جو دنیا دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے طوفان کے باعث پاکستان کو سیکیورٹی رسک قرار دے رہی تھی آج پاک فوج کی اس طوفان کا رخ موڑنے کی کامیابیوں کے باعث وہی دنیا اس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے مستفیض ہونے کے لیے بے قرار ہے۔ یہ خوش آیند امر ہے کہ پاک فوج نے دنیا بھر میں پوری قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا۔ یہ جنگ ابھی جاری ہے اور دہشت گرد اب بھی اپنی کارروائیاں کر کے ملک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

وقت آ گیا ہے کہ پوری قوم متحد ہو کر دہشت گردوں کو بیرونی طور پر مالی اعانت اور داخلی طور پر سہولت فراہم کرنے والوں کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی کیونکہ ملک میں دیرپا امن کو یقینی بنانے کے لیے یہی وہ واحد راستہ ہے جس سے انحراف تباہی اور بربادی کی طرف ہی لے کر جائے گا۔ داخلی طور پر وہ قوتیں جو دہشت گردوں کے بارے میں ہمدردانہ جذبات رکھتی ہیں انھیں اس حقیقت کا ادراک کرنا چاہیے کہ یہ دہشت گرد امن کے دشمن ہیں اور کسی کے دوست نہیں لہٰذا ان کا خاتمہ ہر صورت کیا جانا چاہیے۔
Load Next Story