ورلڈ کپ 2015 چیف سلیکٹر مہیلا کو کپتان برقرار رکھنے کے خواہاں
تین برس بعد شیڈول ایونٹ کے بعد ہی انھیں ریٹائرہونا چاہیے، اشانتھا ڈی میل
مہیلا جے وردنے بڑہتی عمر کے باوجود آئی لینڈرز کی نمائندگی کے خواہاں. فوٹو: اے ایف پی/ فائل
سری لنکن کرکٹ ٹیم کی سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین اشانتھا ڈی میل نے ورلڈکپ 2015 تک قیادت کے حوالے سے مہیلا جے وردنے ہی پر اعتماد ظاہر کردیا۔
انھوں نے کہاکہ گذشتہ دنوں میری کمار سنگا کارا اور مہیلا جے وردنے سے مختلف موضوعات پر بات چیت ہوئی، اس موقع پر ہم سب کا موقف متفقہ تھا۔ یہ دونوں پلیئرز عمر رسیدگی کے باوجود اس وقت تک آئی لینڈرز کی نمائندگی کے خواہاں ہیں اور میں بھی سمجھتا ہوں کہ انھیں 3 سال بعد شیڈول میگا ایونٹ کھیلنے کے بعد ہی ریٹائر ہونا چاہیے اور اس وقت تک ٹیم کی قیادت مہیلا جے وردنے کے ہاتھوں میں رہنا بہترین بات ہوگی اور اگر وہ کسی موقع پر بوجوہ قیادت کیلیے دستیاب نہ ہوسکیں تو اس منصب کیلیے ہمارے پاس نائب کپتان انجیلو میتھیوز موجود ہیں۔ انھوں نے مزید کہا جب ہم نے جے وردنے کو ٹیم کی قیادت دی تھی تو اس وقت انجیلو متھیوز بیٹنگ لائن میں اپنی جگہ مستحکم کرنے میں مصروف تھے۔
ایسے میں انھیں ٹیم کا کپتان مقرر نہیں کیا جاسکتا تھا کیونکہ جب ہم پلیئنگ الیون منتخب کررہے تھے تو ہمیں یہ بھی یقین نہیں تھا کہ انجیلو میتھیوز اس میں جگہ بناسکیں گے لہذا کپتان کی تقرری کے حوالے سے یہ ایک مشکل صورت حال تھی اور ہم ہرگز اس بات کے متحمل نہ تھے ایسی ٹیم تشکیل دی جائے جس کا کپتان ہی باہر بیٹھا ہو۔ یہی وجہ تھی کہ ہم نے اس ذمہ داری کو سنبھالنے کی درخواست مہیلا جے وردنے سے کی۔ میتھیوز نے گذشتہ برس اور اس کے بعد بھی اچھا کھیلتے ہوئے تمام طرز کی سری لنکن کرکٹ ٹیموں میں جگہ مستحکم کرلی ہے اور اس بات کی اہلیت رکھتے ہیں مہیلا جے وردنے کی عدم دستیابی کی صورت میں انھیں کپتانی سونپ دی جائے۔
اس کے علاوہ وہ ماضی کے 3 ،4 میچز میں بھی جے وردنے کی عدم موجودگی میں ٹیم کی قیادت کا فریضہ نبھا چکے ہیں لیکن سری لنکن کرکٹ ٹیم کے عظیم تر مفاد میں یہ ہے کہ اگلے ورلڈ کپ تک اس کی قیادت مہیلا جے وردنے کے ہاتھوں ہی میں موجود رہے۔ یاد رہے کہ جے وردنے پہلی بار سری لنکن ٹیم کی قیادت 2007 میں سنبھالی تھی جب اس وقت کے قائد اورموجودہ سری لنکن بیٹنگ کوچ مرون اتاپتو کپتانی سے دستبردار ہوئے تھے۔ مہیلا نے ٹیم کی باگ ڈور تھامتے ہی اس انگلینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز میں 5-0 کی وائٹ واش فتح سے لطف اندوز کرایا تھا اور جوش و ولولے سے بھرپور ٹیم کو لے کر ویسٹ انڈیز پہنچے تھے جہاں ان کی اولین ٹی 20 ورلڈکپ 2007 کا حصہ تھی تاہم وہ 2009 میں ٹیم کی کپتانی سے ہٹ گئے تھے لیکن گذشتہ برس تلکارتنے دلشان کے قیادت چھوڑنے کے بعد ایک بار قیادت کیلیے نگاہ انتخاب مہیلا جے وردنے ٹھہرے۔
انھوں نے کہاکہ گذشتہ دنوں میری کمار سنگا کارا اور مہیلا جے وردنے سے مختلف موضوعات پر بات چیت ہوئی، اس موقع پر ہم سب کا موقف متفقہ تھا۔ یہ دونوں پلیئرز عمر رسیدگی کے باوجود اس وقت تک آئی لینڈرز کی نمائندگی کے خواہاں ہیں اور میں بھی سمجھتا ہوں کہ انھیں 3 سال بعد شیڈول میگا ایونٹ کھیلنے کے بعد ہی ریٹائر ہونا چاہیے اور اس وقت تک ٹیم کی قیادت مہیلا جے وردنے کے ہاتھوں میں رہنا بہترین بات ہوگی اور اگر وہ کسی موقع پر بوجوہ قیادت کیلیے دستیاب نہ ہوسکیں تو اس منصب کیلیے ہمارے پاس نائب کپتان انجیلو میتھیوز موجود ہیں۔ انھوں نے مزید کہا جب ہم نے جے وردنے کو ٹیم کی قیادت دی تھی تو اس وقت انجیلو متھیوز بیٹنگ لائن میں اپنی جگہ مستحکم کرنے میں مصروف تھے۔
ایسے میں انھیں ٹیم کا کپتان مقرر نہیں کیا جاسکتا تھا کیونکہ جب ہم پلیئنگ الیون منتخب کررہے تھے تو ہمیں یہ بھی یقین نہیں تھا کہ انجیلو میتھیوز اس میں جگہ بناسکیں گے لہذا کپتان کی تقرری کے حوالے سے یہ ایک مشکل صورت حال تھی اور ہم ہرگز اس بات کے متحمل نہ تھے ایسی ٹیم تشکیل دی جائے جس کا کپتان ہی باہر بیٹھا ہو۔ یہی وجہ تھی کہ ہم نے اس ذمہ داری کو سنبھالنے کی درخواست مہیلا جے وردنے سے کی۔ میتھیوز نے گذشتہ برس اور اس کے بعد بھی اچھا کھیلتے ہوئے تمام طرز کی سری لنکن کرکٹ ٹیموں میں جگہ مستحکم کرلی ہے اور اس بات کی اہلیت رکھتے ہیں مہیلا جے وردنے کی عدم دستیابی کی صورت میں انھیں کپتانی سونپ دی جائے۔
اس کے علاوہ وہ ماضی کے 3 ،4 میچز میں بھی جے وردنے کی عدم موجودگی میں ٹیم کی قیادت کا فریضہ نبھا چکے ہیں لیکن سری لنکن کرکٹ ٹیم کے عظیم تر مفاد میں یہ ہے کہ اگلے ورلڈ کپ تک اس کی قیادت مہیلا جے وردنے کے ہاتھوں ہی میں موجود رہے۔ یاد رہے کہ جے وردنے پہلی بار سری لنکن ٹیم کی قیادت 2007 میں سنبھالی تھی جب اس وقت کے قائد اورموجودہ سری لنکن بیٹنگ کوچ مرون اتاپتو کپتانی سے دستبردار ہوئے تھے۔ مہیلا نے ٹیم کی باگ ڈور تھامتے ہی اس انگلینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز میں 5-0 کی وائٹ واش فتح سے لطف اندوز کرایا تھا اور جوش و ولولے سے بھرپور ٹیم کو لے کر ویسٹ انڈیز پہنچے تھے جہاں ان کی اولین ٹی 20 ورلڈکپ 2007 کا حصہ تھی تاہم وہ 2009 میں ٹیم کی کپتانی سے ہٹ گئے تھے لیکن گذشتہ برس تلکارتنے دلشان کے قیادت چھوڑنے کے بعد ایک بار قیادت کیلیے نگاہ انتخاب مہیلا جے وردنے ٹھہرے۔