حکومت گندم کی فی من امدادی قیمت1200روپے مقرر کرے سندھ آباد گار بورڈ

ملک میں زرعی بے یقینی، بھان، ڈیزل، زرعی ادویات کی قیمتوں میں گذشتہ سال کی نسبت 23 فیصد اضافہ ہوا، عبدالمجیدنظامانی

یکم نومبر سے کریشنگ شروع نہ کرنیوالی شوگر ملز کیخلاف کارروائی کی جائے، آبادگاروں کے بقایاجات30 نومبر تک ادا کرائے جائیں. فوٹو: فائل

سندھ آباد گار بورڈکا اجلاس مرکزی صدر عبدالمجیدنظامانی کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں گندم اورگنے کی فصلوں پربحران، پیداواری لاگت میں اضافہ، فری ٹریڈ پالیسی اوربدامنی کے واقعات پر غوروخوص کیاگیا۔

اجلاس میں کہاگیاکہ ملک میں فوڈسیکوریٹی کیلیے ڈھائی کروڑایکڑ یعنی 45 فیصد اراضی پر گندم کی بوائی لازمی طورپرکی جاتی ہے لیکن ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف سے آنے والے مالیات و منصوبہ بندی کے مشیروں نے زراعت دشمن پالیسیاں تشکیل دیکرملک کی معشیت کوتباہ کردیاہے، 4سالوں میں بیرونی قرض 38 ارب ڈالر سے بڑھ کر 60 ارب ڈالر اوررواں مالی سال میں تجارتی خسارہ 22 ارب تک پہنچا کر 95 فیصد آبادی کو بھوک، بیماری، بیروزگاری، رشوت اوربدامنی کی طرف دھکیل دیاہے اورانکی کوشش ہے کہ معیشت و زراعت دوست پالیسی تشکیل نہ پائے۔


سال رواںخشک سالی کے باعث روس، وسط ایشیا اور دنیا کے دیگر ممالک میں گندم کی کمی کے باعث انٹرنیشنل قیمت فی ٹن 60 ڈالرکے اضافے کے ساتھ 320 امریکی ڈالر ہوگئی ہے جبکہ ہمارے ملک میں زرعی بے یقینی، بھان، ڈیزل، زرعی ادویات کی قیمتوں میں گذشتہ سال کی نسبت 23 فیصد اضافہ ہو چکا ہے اس لیے ان باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت گندم کی فی من کم سے کم امدادی قیمت 1200روپے مقرر کرنے کا اعلان کرے اور اگر کسی بھی مصلیحت کے تحت قیمت کم مقرر کی گئے تو پھر افغان روٹ کے ذریعے گندم کی اسمگلنگ ہو گی۔

جس کی وجہ سے ملک میں خوراک اور بیج کا بحران پیدا ہو گا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ شوگر انڈسٹری طاقتور ترین ہاتھوں میں ہونے کے باعث ہر سال کرشنگ سیزن شروع کرنے اور قیمت کے تعین کے مرحلے پر محسوس ہو جاتا ہے کہ معاملہ حکومت سندھ کے بس سے باہر ہے اسلیے نوٹی فیکیشن کے مطابق یکم نومبر کوجتنی بھی شوگرملز نے کرشینگ شروع نہیںکی ہیں حکومت اپنی رٹ قائم کرتے ہوئے انکے خلاف قانونی کاروائی کرے، آبادگاروں کے بقایا جات معہ سود تیس نومبر تک اداکیے جائیں اورڈیفالٹر ملزکیخلاف ریونیو ایکٹ کے تحت مقدمات داخل کرائے جائیں۔ گنے کی ملکی ضرورت کے مقابلے میں شوگر ملز کی تعداد بڑھ گئی ہے اس لیے نئی شوگرملزلگانے کی اجازت نہ دی جائے یا پھر آئندہ کوئی بھی شوگر ملز، گنے اور کپاس کے زون میں نہ لگانے دی جائے۔ اجلاس میں مطالبہ بھی کیا گیا کہ یوریا کھاد کی بوری پر سے ناجائز ٹیکسز ختم کیے جائیں اور ہائبرڈ ٹیکنالوجی کو فروغ دیا جائے۔
Load Next Story