سندھ کے ادیبوں و دانشوروں کی پہلی کانگریس کا اہتمام

پیپلز لوکل گورنمنٹ آرڈیننس قابل قبول نہیں(شرکا)جدوجہد کیلیے 6 رکن کمیٹی تشکیل

سندھ ادبی سنگت اور سندھ رائٹرز اینڈ تنکرز فورم کے تحت سندھ کے ادیبوں و دانشوروں کی پہلی کانگریس مقامی ہوٹل میںہوئی جس میں شریک سندھ کے ادیبوں، دانشوروں، ٹیکنو کریٹس نے سندھ میں نافذ سندھ پیپلز لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کو مسترد کرتے ہوئے واپس لینے کا مطالبہ کیا، اس موقع پر 6 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی۔


جو نئے نظام کے خلاف کی جانے والی جہدوجہد کے حوالے سے آئندہ کا لائحہ عمل طے کریگی، اتوار کو منعقدہ کانگریس کے شرکا نے سندھ کی وحدت اور نیا نظام، سندھ کے خلاف سازشیں اور سندھ اسمبلی کا کردار، سندھ کی آواز اور میڈیا کا کردار، نئے نظام کے خلاف دانشوروں اور ادیبوں کی جہدوجہد، سندھ کے لیے نئے چیلنجز اور قیادت کی ذمے داری اور آخر کیا کرنا چاہیے کے موضوعات پر روشنی ڈالی،اس موقع پر اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق مندوب عبداللہ حسین ہارون نے نئے نظام کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ میرے حساب سے یہ نظام قانونی تقاضے پورے کیے بغیر اور سندھ کے عوام کے امنگوں کے برخلاف بنایا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ گزشتہ عام انتخابات میں سندھ کے عوام نے پیپلز پارٹی کی پالیسیاں نہیں بلکہ بے نظیر بھٹو کا جنازہ دیکھ کر ووٹ دیے تھے، اس وقت پی پی کے پاس قربانی کا مینڈنٹ ہے جسے وہ اپنے مفادات کو پورا کرنے کے لیے استعمال کررہی ہے، ان کی نظر میں اس نظام کے دو پہلو ہے، پہلا سندھ کے خلاف سازش اور دوسرا سندھ کے لوگوں پر اپنی مرضی تھوپنا ہے۔ رکن قومی اسمبلی ظفر علی شاہ نے کہا کہ اس بل کو کمیٹی میں بھیج کر منظور کرنے کے بجائے راتوں رات پاس کر کے اقلیتوں کو اکثریت پر ہاوی کردیا گیا ہے۔
Load Next Story