عالمی ادارہ صحت نے7ٹاؤن میں پولیو مہم غیر تسلی بخش قرار دیدی
95 فیصد سے کم کوریج غیر تسلی بخش ہوتی ہے، لیاقت آباد، صدر،سائٹ،نارتھ ناظم آباد،گلبرگ، گڈاپ شامل ہیں،عالمی ادارہ صحت.
بچے پولیو وائرس کی زد میں آسکتے ہیں،کراچی میںپولیوکا ایک بھی کیس رپورٹ ہونے پر صورتحال تبدیل ہوسکتی ہے، ڈاکٹر الیاس درے ۔ فوٹو: فائل
ISLAMABAD:
عالمی ادارہ صحت نے کراچی کے7 ٹاؤنز میں حالیہ انسداد پولیو مہم کی کارکردگی کومایوس کن اور غیرتسلی بخش قراردیدیا، ان میں لیاقت آباد، صدر، سائٹ، نارتھ ناظم آباد،گلبرگ، گڈاپ اور بلدیہ ٹاؤن بھی شامل ہیں ۔
عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ کراچی کے بچے پولیووائرس کی زد میں آسکتے ہیں، عالمی ادارہ صحت کے بین الااقوامی معیارکے مطابق پولیومہم کے دوران 95 فیصدکوریج مکمل کرنیوالوںکوتسلی بخش اورمطلوبہ کوریج سے کم ہونے پرغیر تسلی بخش قراردی جاتی ہے، تفصیلات کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر الیاس درے نے کراچی سمیت ملک بھر میں اکتوبر میں چلائی جانے والی انسداد پولیو مہم کے بعدمرتب کی جانے والی تجزیاتی رپورٹ میں بتایا کہ کراچی کے7 ٹاؤنز میں انسدادپولیومہم کی کارکردگی کی ناقص اورغیر تسلی بخش کارکردگی رہی ہے جس کے بعد اس بات کاخدشہ ہے کہ کراچی میں دوبارہ پولیووائرس نہ پھیل جائے، ناقص کارکردگی کے حامل ٹاؤنزکے بارے میں انھوں نے بتایاکہ ان میںگڈاپ، لیاقت آباد، گلبرگ صدر، سائٹ،نارتھ ناظم آباد اوربلدیہ ٹاؤن کی ایک یوسی مسلم مجاہد کالونی شامل ہیں ۔
عالمی ادارہ صحت کے وضع کردہ بین الااقوامی معیاراورقواعدکے مطابق انسداد پولیومہم کی 95 فیصدکوریج کرنے والوںکوتسلی بخش جبکہ 95 فیصد سے کم کوریج پر آنے والے ٹاؤن کی کارکردگی کو غیر تسلی بخش قراردیا جاتا ہے، عالمی ادارہ صحت کی مرتب کی جانے والی رپورٹ میں ذرائع کے مطابق کراچی میںگذشتہ ماہ اکتوبرمیں ہونے والی انسدادپولیومہم کے دوران ان7 ٹاؤنز میںگڈاپ ٹاؤن نے 69فیصدکوریج حاصل کی تھی جبکہ لیاقت آباد ٹاؤن نے 87فیصد،صدر ٹاؤن میں 84 فیصد،سائٹ ٹاؤن میں87 فیصد، نارتھ آباد ٹاؤن میں93 فیصد،گلبرگ ٹاؤن میں94فیصد اور بلدیہ ٹاؤن کی ایک یوسی مسلم مجاہدکالونی میں88 فیصد کوریج رہی جو عالمی معیارکے مطابق نہیں تھی جس پرعالمی ادارہ صحت کی مرتب کی جانے والی رپورٹ میں اس بات کا خدشہ ظاہر کیاگیا ہے کہ کراچی کے ان 7 ٹاؤنز کی ناقص کارکردگی کے بعدکراچی کے بچے پولیو وائرس کی زد میں آسکتے ہیں اورکراچی میںکسی بھی جگہ ایک پولیوکیس رپورٹ ہونے پر صورتحال یکسر تبدیل ہوسکتی ہے۔
عالمی ادارہ صحت نے کراچی کے7 ٹاؤنز میں حالیہ انسداد پولیو مہم کی کارکردگی کومایوس کن اور غیرتسلی بخش قراردیدیا، ان میں لیاقت آباد، صدر، سائٹ، نارتھ ناظم آباد،گلبرگ، گڈاپ اور بلدیہ ٹاؤن بھی شامل ہیں ۔
عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ کراچی کے بچے پولیووائرس کی زد میں آسکتے ہیں، عالمی ادارہ صحت کے بین الااقوامی معیارکے مطابق پولیومہم کے دوران 95 فیصدکوریج مکمل کرنیوالوںکوتسلی بخش اورمطلوبہ کوریج سے کم ہونے پرغیر تسلی بخش قراردی جاتی ہے، تفصیلات کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر الیاس درے نے کراچی سمیت ملک بھر میں اکتوبر میں چلائی جانے والی انسداد پولیو مہم کے بعدمرتب کی جانے والی تجزیاتی رپورٹ میں بتایا کہ کراچی کے7 ٹاؤنز میں انسدادپولیومہم کی کارکردگی کی ناقص اورغیر تسلی بخش کارکردگی رہی ہے جس کے بعد اس بات کاخدشہ ہے کہ کراچی میں دوبارہ پولیووائرس نہ پھیل جائے، ناقص کارکردگی کے حامل ٹاؤنزکے بارے میں انھوں نے بتایاکہ ان میںگڈاپ، لیاقت آباد، گلبرگ صدر، سائٹ،نارتھ ناظم آباد اوربلدیہ ٹاؤن کی ایک یوسی مسلم مجاہد کالونی شامل ہیں ۔
عالمی ادارہ صحت کے وضع کردہ بین الااقوامی معیاراورقواعدکے مطابق انسداد پولیومہم کی 95 فیصدکوریج کرنے والوںکوتسلی بخش جبکہ 95 فیصد سے کم کوریج پر آنے والے ٹاؤن کی کارکردگی کو غیر تسلی بخش قراردیا جاتا ہے، عالمی ادارہ صحت کی مرتب کی جانے والی رپورٹ میں ذرائع کے مطابق کراچی میںگذشتہ ماہ اکتوبرمیں ہونے والی انسدادپولیومہم کے دوران ان7 ٹاؤنز میںگڈاپ ٹاؤن نے 69فیصدکوریج حاصل کی تھی جبکہ لیاقت آباد ٹاؤن نے 87فیصد،صدر ٹاؤن میں 84 فیصد،سائٹ ٹاؤن میں87 فیصد، نارتھ آباد ٹاؤن میں93 فیصد،گلبرگ ٹاؤن میں94فیصد اور بلدیہ ٹاؤن کی ایک یوسی مسلم مجاہدکالونی میں88 فیصد کوریج رہی جو عالمی معیارکے مطابق نہیں تھی جس پرعالمی ادارہ صحت کی مرتب کی جانے والی رپورٹ میں اس بات کا خدشہ ظاہر کیاگیا ہے کہ کراچی کے ان 7 ٹاؤنز کی ناقص کارکردگی کے بعدکراچی کے بچے پولیو وائرس کی زد میں آسکتے ہیں اورکراچی میںکسی بھی جگہ ایک پولیوکیس رپورٹ ہونے پر صورتحال یکسر تبدیل ہوسکتی ہے۔