کوئٹہ میں دہشت گردی
سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر خود کش حملے میں تین اہلکاروں سمیت گیارہ افراد شہید اور 30سے زائد زخمی ہوئے۔
سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر خود کش حملے میں تین اہلکاروں سمیت گیارہ افراد شہید اور 30سے زائد زخمی ہوئے۔ فوٹو: فائل
MANSEHRA:
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ہفتے کو ضلع کچہری کے قریب سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر خود کش حملے میں تین اہلکاروں سمیت گیارہ افراد شہید اور 30سے زائد زخمی ہو گئے' زخمیوں میں فورسز کے اہلکار خاتون اور بچے بھی شامل ہیں۔ کالعدم تحریک طالبان نے دھماکے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔ سریاب روڈ پر بھی پولیس کی پٹرولنگ ٹیم پر فائرنگ سے ایک اہلکار جاں بحق اور تین زخمی ہو گئے۔
آئی جی پولیس کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی کیے جانے کے بعد دھماکا ردعمل میں کیا گیا ہے اس طرح کے واقعات سیکیورٹی اداروں کے بلند حوصلوں کو پست نہیں کر سکتے اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں ہر صورت جاری رہیں گی۔ صدر مملکت ممنون حسین' وزیراعظم میاں محمد نواز شریف' وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری' وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی' آصف علی زرداری' بلاول بھٹو' عمران خان اور دیگر سیاسی و مذہبی رہنماؤں نے بھی حملے کی شدید مذمت کی ہے۔
بلوچستان میں آئے دن ہونے والے بم دھماکوں اور حملوں کے تناظر میں یہ کہنا مشکل نہیں کہ دہشت گردوں نے شمالی وزیرستان میں شکست کھانے کے بعد بلوچستان کا رخ کر لیا اور اس علاقے کو دہشت گردی کی کارروائیوں کا مرکز بنا لیا ہے۔اگرچہ بلوچستان ایک عرصے سے دہشت گردی کی کارروائیوں کا نشانہ بنا ہوا ہے مگر گزشتہ کچھ عرصے سے اس علاقے میں سیکیورٹی اداروں پر ہونے والے حملوں میں تیزی آنا تشویشناک امر ہے۔
تجزیہ نگار اس امر پر حیران ہیں کہ آخر دہشت گردوں نے بلوچستان ہی کا رخ کیوں کیا ہے' کیا اس علاقے میں ان کے لیے محفوظ پناہ گاہیں زیادہ ہیں' کیا ان کے سہولت کاروں کی تعداد بہت زیادہ بااثر ہے جس کے باعث دہشت گرد اپنی کارروائیوں میں کامیاب ہو رہے اور سیکیورٹی اداروں کے ہتھے نہیں چڑھ رہے ہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے کیمپ موجود ہیں جہاں سے وہ باآسانی بلوچستان کے راستے داخل ہو جاتے ہیں' بھارتی ایجنسی 'را' بھی ان دہشت گردوں کی بھر پور معاونت کر رہی ہے۔
بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں 'را' کے ملوث ہونے کے ثبوت پاکستان باقاعدہ طور پر بھارتی حکومت' امریکا اور اقوام متحدہ کو پیش کر چکا ہے لیکن ابھی تک اس سلسلے میں کوئی کارروائی سامنے نہیں آئی۔ نہ بھارتی ایجنسیوں ہی نے بلوچستان میں مداخلت کا سلسلہ کم کیا اور نہ اقوام متحدہ اور امریکا ہی نے بھارتی مداخلت روکنے کے لیے کوئی مذمتی بیان دینے کی زحمت گوارا کی۔ ان تمام واقعات کے پس منظر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ شمالی وزیرستان کے بعد اب بلوچستان دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے اور دہشت گردی کی کسی بھی کارروائی کے بعد اپنے سہولت کاروں کی اعانت سے چھپنا یا سرحد پار فرار ہونا انھیں آسان معلوم ہوتا ہے۔
لہٰذا اس امکان کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اب بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کا سلسلہ چل نکلا ہے جس میں زیادہ تر نشانہ سیکیورٹی ادارے اور پولیس اہلکار بن رہے ہیں۔ اگرچہ دہشت گردی کی کوئی بھی کارروائی سیکیورٹی اداروں کے حوصلے کو پست نہیں کر سکی' ان کے حوصلے بلند ہیں اور وہ دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی جاری رکھنے کے اپنے عزم بالجزم کا مسلسل اظہار کر رہے ہیں۔ ان تمام واقعات کے تناظر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کے بعد بلوچستان پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
لہٰذا مستقبل میں کسی بھی بڑے نقصان سے بچنے کے لیے یہ ناگزیر ہوچکا ہے کہ بلوچستان کی سیاسی قیادت اور سیاسی رہنماؤں کو اعتماد میں لے کر دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف گھیرا مزید تنگ کیا جائے۔ بے شناخت دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بھرپور کارروائی کے لیے عوامی سطح پر کمیٹیاں بنائی جائیں اس سلسلے میں بلدیاتی ادارے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
بلدیاتی اداروں میں موجود نمایندوں کا عوام کے ساتھ بہت قریبی تعلق ہوتا ہے اور اس تعلق سے فائدہ اٹھا کر مقامی سطح پر عوام کو متحرک کر کے دہشت گردوں کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ ملک بھر میں پھیلی ہوئی دہشت گردی کا خاتمہ عوامی تعاون کے بغیر ممکن نہیں اس کے ساتھ ساتھ انٹیلی جنس اداروں کے باہمی روابط کو بھی منظم کیا جائے' پولیس اہلکاروں کو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے جدید اسلحہ کی تربیت دی جائے کیونکہ پولیس روایتی تربیت اور اسلحہ کے ساتھ دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ یہ ایک طویل اور صبر آزما جنگ ہے اس میں کامیابی کے لیے پوری قوم کو متحد ہو کر میدان عمل میں اترنا ہو گا۔
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ہفتے کو ضلع کچہری کے قریب سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر خود کش حملے میں تین اہلکاروں سمیت گیارہ افراد شہید اور 30سے زائد زخمی ہو گئے' زخمیوں میں فورسز کے اہلکار خاتون اور بچے بھی شامل ہیں۔ کالعدم تحریک طالبان نے دھماکے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔ سریاب روڈ پر بھی پولیس کی پٹرولنگ ٹیم پر فائرنگ سے ایک اہلکار جاں بحق اور تین زخمی ہو گئے۔
آئی جی پولیس کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی کیے جانے کے بعد دھماکا ردعمل میں کیا گیا ہے اس طرح کے واقعات سیکیورٹی اداروں کے بلند حوصلوں کو پست نہیں کر سکتے اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں ہر صورت جاری رہیں گی۔ صدر مملکت ممنون حسین' وزیراعظم میاں محمد نواز شریف' وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری' وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی' آصف علی زرداری' بلاول بھٹو' عمران خان اور دیگر سیاسی و مذہبی رہنماؤں نے بھی حملے کی شدید مذمت کی ہے۔
بلوچستان میں آئے دن ہونے والے بم دھماکوں اور حملوں کے تناظر میں یہ کہنا مشکل نہیں کہ دہشت گردوں نے شمالی وزیرستان میں شکست کھانے کے بعد بلوچستان کا رخ کر لیا اور اس علاقے کو دہشت گردی کی کارروائیوں کا مرکز بنا لیا ہے۔اگرچہ بلوچستان ایک عرصے سے دہشت گردی کی کارروائیوں کا نشانہ بنا ہوا ہے مگر گزشتہ کچھ عرصے سے اس علاقے میں سیکیورٹی اداروں پر ہونے والے حملوں میں تیزی آنا تشویشناک امر ہے۔
تجزیہ نگار اس امر پر حیران ہیں کہ آخر دہشت گردوں نے بلوچستان ہی کا رخ کیوں کیا ہے' کیا اس علاقے میں ان کے لیے محفوظ پناہ گاہیں زیادہ ہیں' کیا ان کے سہولت کاروں کی تعداد بہت زیادہ بااثر ہے جس کے باعث دہشت گرد اپنی کارروائیوں میں کامیاب ہو رہے اور سیکیورٹی اداروں کے ہتھے نہیں چڑھ رہے ہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے کیمپ موجود ہیں جہاں سے وہ باآسانی بلوچستان کے راستے داخل ہو جاتے ہیں' بھارتی ایجنسی 'را' بھی ان دہشت گردوں کی بھر پور معاونت کر رہی ہے۔
بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں 'را' کے ملوث ہونے کے ثبوت پاکستان باقاعدہ طور پر بھارتی حکومت' امریکا اور اقوام متحدہ کو پیش کر چکا ہے لیکن ابھی تک اس سلسلے میں کوئی کارروائی سامنے نہیں آئی۔ نہ بھارتی ایجنسیوں ہی نے بلوچستان میں مداخلت کا سلسلہ کم کیا اور نہ اقوام متحدہ اور امریکا ہی نے بھارتی مداخلت روکنے کے لیے کوئی مذمتی بیان دینے کی زحمت گوارا کی۔ ان تمام واقعات کے پس منظر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ شمالی وزیرستان کے بعد اب بلوچستان دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے اور دہشت گردی کی کسی بھی کارروائی کے بعد اپنے سہولت کاروں کی اعانت سے چھپنا یا سرحد پار فرار ہونا انھیں آسان معلوم ہوتا ہے۔
لہٰذا اس امکان کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اب بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کا سلسلہ چل نکلا ہے جس میں زیادہ تر نشانہ سیکیورٹی ادارے اور پولیس اہلکار بن رہے ہیں۔ اگرچہ دہشت گردی کی کوئی بھی کارروائی سیکیورٹی اداروں کے حوصلے کو پست نہیں کر سکی' ان کے حوصلے بلند ہیں اور وہ دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی جاری رکھنے کے اپنے عزم بالجزم کا مسلسل اظہار کر رہے ہیں۔ ان تمام واقعات کے تناظر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کے بعد بلوچستان پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
لہٰذا مستقبل میں کسی بھی بڑے نقصان سے بچنے کے لیے یہ ناگزیر ہوچکا ہے کہ بلوچستان کی سیاسی قیادت اور سیاسی رہنماؤں کو اعتماد میں لے کر دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف گھیرا مزید تنگ کیا جائے۔ بے شناخت دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بھرپور کارروائی کے لیے عوامی سطح پر کمیٹیاں بنائی جائیں اس سلسلے میں بلدیاتی ادارے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
بلدیاتی اداروں میں موجود نمایندوں کا عوام کے ساتھ بہت قریبی تعلق ہوتا ہے اور اس تعلق سے فائدہ اٹھا کر مقامی سطح پر عوام کو متحرک کر کے دہشت گردوں کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ ملک بھر میں پھیلی ہوئی دہشت گردی کا خاتمہ عوامی تعاون کے بغیر ممکن نہیں اس کے ساتھ ساتھ انٹیلی جنس اداروں کے باہمی روابط کو بھی منظم کیا جائے' پولیس اہلکاروں کو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے جدید اسلحہ کی تربیت دی جائے کیونکہ پولیس روایتی تربیت اور اسلحہ کے ساتھ دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ یہ ایک طویل اور صبر آزما جنگ ہے اس میں کامیابی کے لیے پوری قوم کو متحد ہو کر میدان عمل میں اترنا ہو گا۔