تھر میں ہلاکتیں تحقیقاتی کمیشن کی تشکیل
جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مقصد بچوں کی اموات کے اسباب اور حکومت کی جانب سے اب تک کیے گئے اقدامات کا جائزہ لینا ہے
سردی کے موسم میں آگ لگنے کے حادثات میں اضافہ ہوجاتا ہے جس میں زیادہ تر انسانی غلطیاں و کوتاہیاں کارفرما ہوتی ہیں۔ فوٹو:فائل
تھر کے پسماندہ اور سہولیات سے محروم علاقے میں غذائی قلت اور بیماریوں سے محض 38 دنوں میں 133بچوں کی ہلاکتوں کے بعد بالآخر وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے ایک 2 رکنی کمیشن تشکیل دیا ہے جو تھرکی مجموعی صورتحال کا جائزہ لے گا، کمیشن نے پیر سے اپنا کام شروع کردیا ہے اور 15 روز میں رپورٹ پیش کرے گا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت نے تھر میں غربت کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کیے ہیں اور تھر میں صحت کی سہولتوں کی بہتری، بنیادی صحت کے مراکز کی اپ گریڈیشن، ڈسپنسریوں اور تعلقہ اسپتالوں کو تمام تر ضروری سازوسامان فراہم کیے گئے ہیں، دواؤں کے بجٹ کو دگنا کردیا گیا ہے مگر ان تمام اقدامات کے باوجود شیرخوار بچوں کی اموات میں اضافہ ہوا ہے، جو پریشان کن ہے۔
جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مقصد بچوں کی اموات کے اسباب اور حکومت کی جانب سے اب تک کیے گئے اقدامات کا جائزہ لینا ہے، اور مزید اقدامات اب تک کی حکومتی پالیسیوں پر عملدرآمد میں اگر کوئی کمی ہے تو اس کی نشاندہی کرکے اپنی رپورٹ پیش کرے گا۔ اس فیصلے کو خوش آیند قرار دیا جاسکتا ہے، لیکن تھرپارکر میں غذائی قلت کے باعث اموات کا سلسلہ اب تک جاری ہے، حکومت کو نہایت سرعت کے ساتھ نتائج تک پہنچنا اور اقدامات کرنا ہوں گے۔
اس ملک کی روایت ہے کہ یہاں کمیشن پر کمیشن قائم ہوتے رہتے ہیں، رپورٹ بھی تیار کی جاتی ہیں لیکن ان رپورٹس پر عملدرآمد تو درکنار، عوام ان رپورٹس کے نتائج سے بھی لاعلم ہوتے ہیں تاآنکہ ایک اور حادثہ منظر عام پر نہ آجائے۔ دوسری جانب ٹھٹھہ کے ساحلی علاقے کیٹی بندر کے قریب ماہی گیروں کی بستی میں آگ لگنے سے 3جھونپڑیاں جل کر خاکستر ہوگئیں، جس سے ان میں سوئے ہوئے ایک ہی خاندان کے 5 افراد سمیت 11 لوگ زندہ جل گئے اور 3 جھلس کر شدید زخمی ہوگئے ہیں جنھیں کراچی کے اسپتال میں ریفر کیا گیا ہے۔
سردی کے موسم میں آگ لگنے کے حادثات میں اضافہ ہوجاتا ہے جس میں زیادہ تر انسانی غلطیاں و کوتاہیاں کارفرما ہوتی ہیں۔ اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ قبل از حادثہ احتیاطی تدابیر استعمال کی جائیں، گیس و الیکٹرک ہیٹر یا گرمائش کے لیے جلائی جانے والی آگ کو سونے سے قبل ٹھنڈا کردیا جائے۔ کیٹی بندر میں آتشزدگی سے ہلاکتیں نہایت افسوسناک ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت نے تھر میں غربت کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کیے ہیں اور تھر میں صحت کی سہولتوں کی بہتری، بنیادی صحت کے مراکز کی اپ گریڈیشن، ڈسپنسریوں اور تعلقہ اسپتالوں کو تمام تر ضروری سازوسامان فراہم کیے گئے ہیں، دواؤں کے بجٹ کو دگنا کردیا گیا ہے مگر ان تمام اقدامات کے باوجود شیرخوار بچوں کی اموات میں اضافہ ہوا ہے، جو پریشان کن ہے۔
جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مقصد بچوں کی اموات کے اسباب اور حکومت کی جانب سے اب تک کیے گئے اقدامات کا جائزہ لینا ہے، اور مزید اقدامات اب تک کی حکومتی پالیسیوں پر عملدرآمد میں اگر کوئی کمی ہے تو اس کی نشاندہی کرکے اپنی رپورٹ پیش کرے گا۔ اس فیصلے کو خوش آیند قرار دیا جاسکتا ہے، لیکن تھرپارکر میں غذائی قلت کے باعث اموات کا سلسلہ اب تک جاری ہے، حکومت کو نہایت سرعت کے ساتھ نتائج تک پہنچنا اور اقدامات کرنا ہوں گے۔
اس ملک کی روایت ہے کہ یہاں کمیشن پر کمیشن قائم ہوتے رہتے ہیں، رپورٹ بھی تیار کی جاتی ہیں لیکن ان رپورٹس پر عملدرآمد تو درکنار، عوام ان رپورٹس کے نتائج سے بھی لاعلم ہوتے ہیں تاآنکہ ایک اور حادثہ منظر عام پر نہ آجائے۔ دوسری جانب ٹھٹھہ کے ساحلی علاقے کیٹی بندر کے قریب ماہی گیروں کی بستی میں آگ لگنے سے 3جھونپڑیاں جل کر خاکستر ہوگئیں، جس سے ان میں سوئے ہوئے ایک ہی خاندان کے 5 افراد سمیت 11 لوگ زندہ جل گئے اور 3 جھلس کر شدید زخمی ہوگئے ہیں جنھیں کراچی کے اسپتال میں ریفر کیا گیا ہے۔
سردی کے موسم میں آگ لگنے کے حادثات میں اضافہ ہوجاتا ہے جس میں زیادہ تر انسانی غلطیاں و کوتاہیاں کارفرما ہوتی ہیں۔ اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ قبل از حادثہ احتیاطی تدابیر استعمال کی جائیں، گیس و الیکٹرک ہیٹر یا گرمائش کے لیے جلائی جانے والی آگ کو سونے سے قبل ٹھنڈا کردیا جائے۔ کیٹی بندر میں آتشزدگی سے ہلاکتیں نہایت افسوسناک ہیں۔