ملازمین کے احتجاج کا حق اور جمہوریت
پاکستان میں کبھی اساتذہ اپنے مطالبات کے حق کے لیے مظاہرے کرتے ہیں اور کبھی ڈاکٹرز سراپا احتجاج بنے ہوتے ہیں
ملک میں جمہوری نظام کو مضبوط کرنے کے لیے ضروری ہے کہ حکمران بھی اپنے طرز عمل پر نظرثانی کریں اور عوام کے مفادات کو ترجیح دیں فوٹو؛ فائل
BAHAWALPUR:
سپریم کورٹ نے مزدور یونین اور سرکاری ملازمین کے احتجاج پر عائد پابندی سے متعلق بلوچستان ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ احتجاج کرنا ہر ملازم کا بنیادی حق ہے۔
جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں فل بنچ نے بلوچستان ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت کی۔ درخواست گزارگورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن کی وکیل عاصمہ جہانگیر نے عدالت کو بتایا کہ بلوچستان ہائیکورٹ نے9دسمبرکوتمام سرکاری اداروں میں مزدور یونینز کے احتجاج اور ہڑتالوں پر پابندی کافیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا تھاکہ اگر کوئی سرکاری ملازم اپنے فرائض ادا نہ کرے اوراس کے بجائے ہڑتال کرے توایسے ملازمین کے خلاف ریاست کے ساتھ غداری کا مقدمہ بنایا جائے اور اگر چیف سیکریٹری بلوچستان ہڑتالیوں کے خلاف ایکشن نہ لیں تو ان کے خلاف بھی تادیبی کارروائی کی جائے۔
انکاکہنا تھا کہ بلوچستان کے سرکاری ٹیچرز نے اپنے حقوق کے لیے پر امن بھوک ہڑتال کی تھی اوراس دوران کوئی توڑ پھوڑ نہیں کی تھی۔ اپنے حقوق کے لیے آوازبلندکرنابنیادی حق ہے جس سے مفرممکن نہیں، بلوچستان ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے مزدوریونینزکوبحال کیاجائے۔ عدالت نے بلوچستان ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے فریقین کو نوٹسزجاری کردیے اورقراردیاکہ احتجاج، ہڑتال کی کال دینا اور مزدور یونین بنانا تمام ملازمین بشمول سرکاری ملازمین کا بنیادی حق ہے، آئین ہر شخص کو اظہار رائے اور احتجاج کا حق دیتا ہے۔ بلوچستان ہائی کورٹ نے اختیار سے تجاوز کیا۔ مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی گئی۔
سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے' ایک جمہوری اور مہذب معاشرے میں اولاً تو ایسی نوبت ہی نہیں آنی چاہیے کہ سرکاری ملازمین یا نجی سیکٹر کے ملازمین احتجاج یا ہڑتال پر مجبور ہو جائیں لیکن ترقی پذیر ملک ہی نہیں بلکہ یورپ جیسے ترقی یافتہ ممالک میں حکومتی پالیسیوں کے خلاف مزدور اور عوام مظاہروں اور ہڑتالوں پر مجبور ہو جاتے ہیں' عوام کا کوئی بھی طبقہ احتجاج کا راستہ اس وقت اختیار کرتا ہے جب پرامن ذرایع سے اس کے مطالبات پورا ہونے کا راستہ بند ہو جاتا ہے۔
اگر حکومتیں سرکاری ملازمین اور عوام کے جائز مطالبات پر ہمدردانہ غوریں اور انھیں ممکنہ حد تک پورا کرنے کی کوشش کریں تو شاید مظاہروں اور ہڑتالوں کی نوبت ہی نہ آئے لیکن اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ حکومت ضد اور ہٹ دھرمی کا راستہ اختیار کرتی ہے' بیوروکریسی کا اس میں اہم کردار ہوتا ہے۔ اعلیٰ افسروں کے پاس چونکہ اختیارات و مراعات ہوتی ہیں لہٰذا وہ تو جائز و ناجائز ذرایع سے خوشحال ہوجاتے ہیں لیکن چھوٹے ملازمین کو یہ سہولت حاصل نہیں ہوتی' اس لیے جب وہ احتجاج کرتے ہیں تو افسر شاہی انھیں روکنے اور دبانے کا مشورہ دیتی ہے۔
جس پر جمہوری حکمران عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور یوں معاملہ تصادم کی صورت اختیار کر جاتا ہے۔پاکستان میں ایسے تصادم کی صورت حال مسلسل نظر آتی ہے۔پی آئی اے ملازمین کے احتجاج کے دوران جو ہلاکتیں ہوئیں وہ بھی اسی طرز حکومت کا شاخسانہ ہے ۔پاکستان میں کبھی اساتذہ اپنے مطالبات کے حق کے لیے مظاہرے کرتے ہیں اور کبھی ڈاکٹرز سراپا احتجاج بنے ہوتے ہیں ۔ اسی طرح دیگر طبقے بھی احتجاج کرتے رہتے ہیں ۔
اس سارے قصے کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔ کسی بھی طبقے اور گروہ کو احتجاج کا جمہوری حق استعمال کرتے ہوئے اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ان کا احتجاج آئین اور قانون کے دائرے میں رہے اور ان کے احتجاج سے متعلقہ محکمے میں آنے والے سائلین کو تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے۔جب ڈاکٹرز ہڑتال کریں گے اور کام چھوڑ دیں گے تو اس سے لازمی طور پر اسپتالوں میں آنے والے مریض متاثر ہوں گے۔ اسی طرح اگر اساتذہ اپنا کام چھوڑ دیں گے تو اس سے طالب علم متاثر ہوں گے ۔ ضلع کچہری میں ملازمین کام چھوڑ دیں گے تو وہاں دور دراز سے آنے والے سائلین متاثر ہوں گے۔
اسی طرح اگر کوئی گروہ سڑکوں پر آ کر گھیراؤ جلاؤ شروع کر دیتاہے تو یہ بھی خلاف قانون بات ہے۔پاکستان میں سرکاری اداروں کا زوال اسی وجہ سے ہوا ہے کہ ملازمین اپنے فرائض ایمانداری اور لگن سے ادا نہیں کرتے۔ وہ اپنی تنخواہیں اور مراعات بڑھانے کے لیے مطالبات تو کرتے ہیں لیکن اپنے فرائض ادا کرنے پر ا ن کی توجہ کم ہوتی ہے ۔
یہ دوطرفہ طرز عمل ہے ۔ملک میں جمہوری نظام کو مضبوط کرنے کے لیے ضروری ہے کہ حکمران بھی اپنے طرز عمل پر نظرثانی کریں اور عوام کے مفادات کو ترجیح دیں۔ ادھر مزدور یونینز یا کسی بھی طبقے کی یونینز کو بھی روایتی مائنڈ سیٹ سے باہر نکل کر جدیدیت کی طرف آنا چاہیے۔ یونین کا مطلب محض اپنے طبقے کے مفادات کے لیے مظاہرے کرنا نہیں ہوتا بلکہ اپنے طبقے کو یہ بھی باور کرانا ہوتا ہے کہ وہ اپنے فرائض ایمانداری اور تندہی سے ادا کر ے۔
سپریم کورٹ نے مزدور یونین اور سرکاری ملازمین کے احتجاج پر عائد پابندی سے متعلق بلوچستان ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ احتجاج کرنا ہر ملازم کا بنیادی حق ہے۔
جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں فل بنچ نے بلوچستان ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت کی۔ درخواست گزارگورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن کی وکیل عاصمہ جہانگیر نے عدالت کو بتایا کہ بلوچستان ہائیکورٹ نے9دسمبرکوتمام سرکاری اداروں میں مزدور یونینز کے احتجاج اور ہڑتالوں پر پابندی کافیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا تھاکہ اگر کوئی سرکاری ملازم اپنے فرائض ادا نہ کرے اوراس کے بجائے ہڑتال کرے توایسے ملازمین کے خلاف ریاست کے ساتھ غداری کا مقدمہ بنایا جائے اور اگر چیف سیکریٹری بلوچستان ہڑتالیوں کے خلاف ایکشن نہ لیں تو ان کے خلاف بھی تادیبی کارروائی کی جائے۔
انکاکہنا تھا کہ بلوچستان کے سرکاری ٹیچرز نے اپنے حقوق کے لیے پر امن بھوک ہڑتال کی تھی اوراس دوران کوئی توڑ پھوڑ نہیں کی تھی۔ اپنے حقوق کے لیے آوازبلندکرنابنیادی حق ہے جس سے مفرممکن نہیں، بلوچستان ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے مزدوریونینزکوبحال کیاجائے۔ عدالت نے بلوچستان ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے فریقین کو نوٹسزجاری کردیے اورقراردیاکہ احتجاج، ہڑتال کی کال دینا اور مزدور یونین بنانا تمام ملازمین بشمول سرکاری ملازمین کا بنیادی حق ہے، آئین ہر شخص کو اظہار رائے اور احتجاج کا حق دیتا ہے۔ بلوچستان ہائی کورٹ نے اختیار سے تجاوز کیا۔ مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی گئی۔
سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے' ایک جمہوری اور مہذب معاشرے میں اولاً تو ایسی نوبت ہی نہیں آنی چاہیے کہ سرکاری ملازمین یا نجی سیکٹر کے ملازمین احتجاج یا ہڑتال پر مجبور ہو جائیں لیکن ترقی پذیر ملک ہی نہیں بلکہ یورپ جیسے ترقی یافتہ ممالک میں حکومتی پالیسیوں کے خلاف مزدور اور عوام مظاہروں اور ہڑتالوں پر مجبور ہو جاتے ہیں' عوام کا کوئی بھی طبقہ احتجاج کا راستہ اس وقت اختیار کرتا ہے جب پرامن ذرایع سے اس کے مطالبات پورا ہونے کا راستہ بند ہو جاتا ہے۔
اگر حکومتیں سرکاری ملازمین اور عوام کے جائز مطالبات پر ہمدردانہ غوریں اور انھیں ممکنہ حد تک پورا کرنے کی کوشش کریں تو شاید مظاہروں اور ہڑتالوں کی نوبت ہی نہ آئے لیکن اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ حکومت ضد اور ہٹ دھرمی کا راستہ اختیار کرتی ہے' بیوروکریسی کا اس میں اہم کردار ہوتا ہے۔ اعلیٰ افسروں کے پاس چونکہ اختیارات و مراعات ہوتی ہیں لہٰذا وہ تو جائز و ناجائز ذرایع سے خوشحال ہوجاتے ہیں لیکن چھوٹے ملازمین کو یہ سہولت حاصل نہیں ہوتی' اس لیے جب وہ احتجاج کرتے ہیں تو افسر شاہی انھیں روکنے اور دبانے کا مشورہ دیتی ہے۔
جس پر جمہوری حکمران عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور یوں معاملہ تصادم کی صورت اختیار کر جاتا ہے۔پاکستان میں ایسے تصادم کی صورت حال مسلسل نظر آتی ہے۔پی آئی اے ملازمین کے احتجاج کے دوران جو ہلاکتیں ہوئیں وہ بھی اسی طرز حکومت کا شاخسانہ ہے ۔پاکستان میں کبھی اساتذہ اپنے مطالبات کے حق کے لیے مظاہرے کرتے ہیں اور کبھی ڈاکٹرز سراپا احتجاج بنے ہوتے ہیں ۔ اسی طرح دیگر طبقے بھی احتجاج کرتے رہتے ہیں ۔
اس سارے قصے کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔ کسی بھی طبقے اور گروہ کو احتجاج کا جمہوری حق استعمال کرتے ہوئے اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ان کا احتجاج آئین اور قانون کے دائرے میں رہے اور ان کے احتجاج سے متعلقہ محکمے میں آنے والے سائلین کو تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے۔جب ڈاکٹرز ہڑتال کریں گے اور کام چھوڑ دیں گے تو اس سے لازمی طور پر اسپتالوں میں آنے والے مریض متاثر ہوں گے۔ اسی طرح اگر اساتذہ اپنا کام چھوڑ دیں گے تو اس سے طالب علم متاثر ہوں گے ۔ ضلع کچہری میں ملازمین کام چھوڑ دیں گے تو وہاں دور دراز سے آنے والے سائلین متاثر ہوں گے۔
اسی طرح اگر کوئی گروہ سڑکوں پر آ کر گھیراؤ جلاؤ شروع کر دیتاہے تو یہ بھی خلاف قانون بات ہے۔پاکستان میں سرکاری اداروں کا زوال اسی وجہ سے ہوا ہے کہ ملازمین اپنے فرائض ایمانداری اور لگن سے ادا نہیں کرتے۔ وہ اپنی تنخواہیں اور مراعات بڑھانے کے لیے مطالبات تو کرتے ہیں لیکن اپنے فرائض ادا کرنے پر ا ن کی توجہ کم ہوتی ہے ۔
یہ دوطرفہ طرز عمل ہے ۔ملک میں جمہوری نظام کو مضبوط کرنے کے لیے ضروری ہے کہ حکمران بھی اپنے طرز عمل پر نظرثانی کریں اور عوام کے مفادات کو ترجیح دیں۔ ادھر مزدور یونینز یا کسی بھی طبقے کی یونینز کو بھی روایتی مائنڈ سیٹ سے باہر نکل کر جدیدیت کی طرف آنا چاہیے۔ یونین کا مطلب محض اپنے طبقے کے مفادات کے لیے مظاہرے کرنا نہیں ہوتا بلکہ اپنے طبقے کو یہ بھی باور کرانا ہوتا ہے کہ وہ اپنے فرائض ایمانداری اور تندہی سے ادا کر ے۔