فرانسیسی صدر کی شاہ عبداﷲ سے ملاقات
اقوام متحدہ اور او آئی سی کو آگے بڑھ کر ہر وہ ممکن اقدام کرنا ہو گا جس سے مشرق وسطیٰ امن کا گہوارہ بن سکے۔
فرانسیسی صدر اور سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ میں ایران صورت حال‘ شام اور مشرق وسطیٰ کے بحران پر بات ہوئی۔ فوٹو: فائل
جدہ میں فرانس کے صدر فرانکوز آلیندے نے سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ کے ساتھ ملاقات کے دوران ایران کے نیو کلیئر پروگرام' شام کے بحران اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بات چیت کی۔ نیو کلیئر پروگرام کے حوالے سے ایران، امریکا اور یورپ کے درمیان ایک عرصہ سے تنازعہ چلا آ رہا ہے۔
امریکا کئی بار ایران کو اپنا نیوکلیئر پروگرام ختم کرنے اور نہ ماننے کی صورت میں جنگ کی دھمکی دے چکا ہے۔ دوسری جانب ایران اپنا پروگرام ہر صورت جاری رکھنے کے موقف پر ڈٹا ہوا ہے۔ اسرائیل بھی کئی بار ایرانی نیو کلیئر پروگرام پر حملہ کرکے اسے ختم کرنے کی دھمکی دے چکا ہے، جواباً ایران بھی اسرائیل پر حملے کے بیانات دیتا رہا ہے۔ کچھ عرصہ قبل اقوام متحدہ نے ایران کو مزید دبائو میں لانے کے لیے اس پر پابندیاں عائد کیں۔ ان پابندیوں کے ایرانی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں مگر ایران ان پابندیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں جس پر فرانسیسی صدر فرانکوز آلیندے نے اس ہفتے اپنے ایک بیان میں ایران پر مزید پابندیاں لگانے کی دھمکی دی تھی۔ دوسری جانب شام میں جاری خانہ جنگی نے مشرق وسطیٰ میں نئے بحران کو جنم دیا ہے۔
شام میں مارچ 2011ء سے شروع ہونے والی خانہ جنگی کے باعث اب تک 36 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس وقت شام کے تمام بڑے شہروں میں سرکاری فوجوں اور منحرف گروپوں کے درمیان شدید لڑائی ہو رہی ہے۔ صدر بشار الاسد کو اب اس بات کا ادراک کر لینا چاہیے کہ جب بڑی طاقتور عالمی قوتیں شام کے اندرونی بگاڑ میں ملوث ہو چکی ہیں اور آہستہ آہستہ حکومت کا کنٹرول اداروں پر کمزور پڑتا جا رہا ہے تو انھیں عراقی صدر صدام حسین اور لیبیا کے حکمران معمر قذافی کے انجام کو سامنے رکھتے ہوئے شام کو مزید تباہی سے بچانے کے لیے اقتدار سے علیحدگی کا فیصلہ کرنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔
شام اور ترکی کے درمیان سرحدوں پر حالات کشیدہ ہو گئے ہیں اور شام ترکی پر مداخلت کے الزامات لگا رہا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل ایک طویل عرصے سے فلسطینیوں کے خون سے ہاتھ رنگ رہا ہے علاوہ ازیں اسرائیل لبنان کے خلاف بھی فوجی کارروائی کرکے اسے شدید نقصان پہنچاچکا ہے۔ اس طرح پورا مشرق وسطیٰ زخموں سے چور ہے۔ شام اور فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے اقوام متحدہ' عرب لیگ اور او آئی سی کا کردار صرف بیانات تک محدود ہے اور وہ حقیقی معنوں میں خطے میں قیام امن کے لیے پیشرفت نہیں کر رہے۔ اقوام متحدہ اور او آئی سی کو آگے بڑھ کر ہر وہ ممکن اقدام کرنا ہو گا جس سے مشرق وسطیٰ امن کا گہوارہ بن سکا۔
امریکا کئی بار ایران کو اپنا نیوکلیئر پروگرام ختم کرنے اور نہ ماننے کی صورت میں جنگ کی دھمکی دے چکا ہے۔ دوسری جانب ایران اپنا پروگرام ہر صورت جاری رکھنے کے موقف پر ڈٹا ہوا ہے۔ اسرائیل بھی کئی بار ایرانی نیو کلیئر پروگرام پر حملہ کرکے اسے ختم کرنے کی دھمکی دے چکا ہے، جواباً ایران بھی اسرائیل پر حملے کے بیانات دیتا رہا ہے۔ کچھ عرصہ قبل اقوام متحدہ نے ایران کو مزید دبائو میں لانے کے لیے اس پر پابندیاں عائد کیں۔ ان پابندیوں کے ایرانی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں مگر ایران ان پابندیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں جس پر فرانسیسی صدر فرانکوز آلیندے نے اس ہفتے اپنے ایک بیان میں ایران پر مزید پابندیاں لگانے کی دھمکی دی تھی۔ دوسری جانب شام میں جاری خانہ جنگی نے مشرق وسطیٰ میں نئے بحران کو جنم دیا ہے۔
شام میں مارچ 2011ء سے شروع ہونے والی خانہ جنگی کے باعث اب تک 36 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس وقت شام کے تمام بڑے شہروں میں سرکاری فوجوں اور منحرف گروپوں کے درمیان شدید لڑائی ہو رہی ہے۔ صدر بشار الاسد کو اب اس بات کا ادراک کر لینا چاہیے کہ جب بڑی طاقتور عالمی قوتیں شام کے اندرونی بگاڑ میں ملوث ہو چکی ہیں اور آہستہ آہستہ حکومت کا کنٹرول اداروں پر کمزور پڑتا جا رہا ہے تو انھیں عراقی صدر صدام حسین اور لیبیا کے حکمران معمر قذافی کے انجام کو سامنے رکھتے ہوئے شام کو مزید تباہی سے بچانے کے لیے اقتدار سے علیحدگی کا فیصلہ کرنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔
شام اور ترکی کے درمیان سرحدوں پر حالات کشیدہ ہو گئے ہیں اور شام ترکی پر مداخلت کے الزامات لگا رہا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل ایک طویل عرصے سے فلسطینیوں کے خون سے ہاتھ رنگ رہا ہے علاوہ ازیں اسرائیل لبنان کے خلاف بھی فوجی کارروائی کرکے اسے شدید نقصان پہنچاچکا ہے۔ اس طرح پورا مشرق وسطیٰ زخموں سے چور ہے۔ شام اور فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے اقوام متحدہ' عرب لیگ اور او آئی سی کا کردار صرف بیانات تک محدود ہے اور وہ حقیقی معنوں میں خطے میں قیام امن کے لیے پیشرفت نہیں کر رہے۔ اقوام متحدہ اور او آئی سی کو آگے بڑھ کر ہر وہ ممکن اقدام کرنا ہو گا جس سے مشرق وسطیٰ امن کا گہوارہ بن سکا۔