سارک اسپیکرز کانفرنس سے صدر کا خطاب
سارک ممالک جذبات کے بجائے حقائق کو سامنے رکھ کر سوچیں تو اس سارے خطے میں خوشحالی کا دور دورہ ہو سکتا ہے۔
گزشتہ دہائی سے سارک خطے کے عوام کو دہشتگردی کی لعنت کا سامنا ہے, صدر زرداری۔ فوٹو: آن لائن
صدر آصف علی زرداری نے اتوار کو ایوان صدر میں چھٹی سارک اسپیکرز کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ پارلیمنٹ اب بھی حملوں کی زد میں ہے تاہم میں سمجھتا ہوں کہ دم توڑتے غیر جمہوری نظام کے اثرات کا عمل ہے۔
سارک ممالک کے حوالے سے انھوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی' انتہا پسندی' منشیات اور انسانی اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے اس خطے کے ممالک کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔ انھوں نے کہا کہ گزشتہ دہائی سے سارک خطے کے عوام کو دہشتگردی کی لعنت کا سامنا ہے جس سے سب سے زیادہ پاکستان متاثر ہوا ہے' ہم نے40 ہزار سے زائد بے گناہ جانوں کی قربانی دی ہے' اقتصادی لحاظ سے 80 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا ہے' شدت پسندی کے خلاف جنگ عوام کے دل اور دماغ کو جیت کر ہی کامیابی سے ہمکنار ہو سکتی ہے۔ لہٰذا ہمیں محرومی اور بے بسی کے احساس کو دورکرنا ہو گا۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے سارک اسپیکرز کانفرنس سے خطاب کے دوران اشاروں کنایوں میں بعض حقائق کی نشاندہی بھی کی ہے' اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ پاکستان میں طویل عرصے تک آمریت رہی ہے' آمریت نے پاکستان کے ریاستی نظام کو بھی متاثر کیا ہے اور سماجی رویوں میں بھی تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔ صدر کا یہ کہنا درست ہے کہ پاکستان میں فرسودہ نظام آخری دموں پر ہے۔ بلاشبہ پاکستان میں ایک منتخب جمہوری حکومت اپنی مدت پوری کرنے والی ہے لیکن ایسی باتیں اور اشارے ضرور سامنے آتے رہے ہیں جس سے یہ تاثر پیدا ہوتا رہا ہے کہ جیسے بعض قوتیں جمہوریت کے سفر کو مکمل ہونے سے پہلے ختم کرنا چاہتی ہیں۔
اب بھی صورت حال میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آ رہی شاید اسی وجہ سے صدر مملکت نے یہ کہا ہے کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ پارلیمنٹ پر اب بھی حملے ہو رہے ہیں۔ یہ حملے کہاں سے ہو رہے ہیں اس حوالے سے صدر مملکت نے واضح نشاندہی تو نہیں کی لیکن ماضی کی صورت حال کو سامنے رکھا جائے تو فہمیدہ حلقوں پر بہت کچھ واضح ہو جاتا ہے۔ یوں دیکھا جائے تو پاکستان میں سیاسی صورت حال ہموار نہیں بلکہ خاصی غیر ہموار ہے۔ بہر حال پاکستان کے عوام کو یہی یقین رکھنا چاہیے کہ ملک میں جمہوری عمل چلتا رہے گا۔ نئے عام انتخابات کے بعد جو حکومت آئے گی' اس سے جمہوری نظام پہلے سے بھی زیادہ مضبوط توانا ہو جائے گا۔ سارک خطے کے عوام کا مزاج بھی بنیادی طور پر جمہوریت پسند ہے' آمریت یہاں کے عوام کے مزاج سے مطابقت نہیں رکھتی۔ بھارت میں جمہوریت مضبوط ہو چکی ہے' نیپال کے عوام بادشاہت کا خاتمہ کر کے جمہوری نظام کا حصہ بن گئے ہیں۔
بنگلہ دیش میں تمام تر بدامنی اور خرابی کے باوجود الیکشن ہوتے ہیں' پاکستان میں گو آمریت رہی ہے لیکن جمہوری قوتوں نے آمریت کا مقابلہ کیا اور بالآخر اسے شکست دی' یوں دیکھا جائے تو سارک خطے میں آخر کار جمہوریت ہی فتح یاب ہوگی' اس وقت دہشت گردی کا چیلنج سارے خطے کو درپیش ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان اس کا سب سے زیادہ شکار ہوا ہے۔ اس وجہ سے یہاں بے شمار مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ سارک ممالک کو متحد ہو کر دہشت گردی کے عفریت کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کی مدد کرنا ہو گی۔ ایک دوسرے پر الزامات عائد کر کے یا دور کھڑے ہو کر تماشا دیکھنے سے معاملات سدھرنے کے بجائے خراب ہوں گے۔ صدر مملکت نے تو اعداد وشمار کے ذریعے بتایا ہے کہ پاکستان کو دہشت گری سے کتنا بھاری نقصان پہنچا ہے۔
پاکستان کی معیشت ابھی تک اس لیے سنبھل نہیں پائی کہ یہاں دہشت گردوں نے امن و امان کی صورت حال کو انتہائی خراب کر رکھا ہے۔ اگر سارک ممالک جذبات کے بجائے حقائق کو سامنے رکھ کر سوچیں تو اس سارے خطے میں خوشحالی کا دور دورہ ہو سکتا ہے۔ بھارت کو اس حوالے سے زیادہ ذمے داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ بھارت کو بھی اندرون ملک بہت سی علیحدگی پسند تحریکوں کا سامنا ہے۔ وہاں بھی آئے روز بم دھماکے اور قتل و غارت ہوتی رہتی ہے لیکن بھارتی بیوروکریسی اصل حقیقت کو چھپا کر حکومت کو مس گائیڈ کرتی ہے۔ بھارت میں ہونے والا کوئی ہندو مسلم فساد ہو یا کسی علاقے میں بم دھماکا ہو جائے اسے پاکستان کے کھاتے میں ڈال کر بھارتی عوام کو بھڑکایا جاتا ہے۔ اس سے ملتا جلتا طرز عمل کسی نہ کسی شکل میں پاکستان میں بھی رائج ہے۔
اس صورت حال کو اب ختم ہونا چاہیے' حقیقت کو ویسے ہی دیکھنا چاہیے جیسی کہ وہ ہے۔ اب پاکستان' بھارت اور باقی سارک ممالک کو ذہنی طور پر یہ تسلیم کر لینا چاہیے کہ عالمی سطح پر سرد جنگ ختم ہو چکی ہے۔ سرد جنگ سے وابستہ یادیں اب فراموش کر کے نئی حقیقتوں کے ساتھ چلنے میں ہی سب کی بھلائی ہے۔ سارک ممالک کو اسی انداز میں سوچنا چاہیے جس انداز میں یورپ کی اشرافیہ سوچ رہی ہے۔ یورپی یونین اسی سوچ کی پیداوار ہے۔ سارک خطے میں ڈیڑھ ارب کے قریب انسان بستے ہیں۔ سارک کا خطہ بھی وسیع و عریض ہے۔
یہاں وسائل بھی بہت ہیں اور بھاری افراد قوت بھی موجود ہے اور غیر ملکی معیشتوں کے لیے ایک وسیع منڈی بھی۔ اس خطے میں امن و امان ہو اور اس خطے کے ممالک کے درمیان تنازعات نہ ہوں' ایک دوسرے کے ہاں آنا جانا آسان ہو تو غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے اس سے زیادہ بہتر مارکیٹ دنیا میں کوئی اور نہیں ہو سکتی۔ سارک کے کاروباری افراد اگر ایک دوسرے کے ملک میں ہی سرمایہ کاری کریں تو سارے خطے میں خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہو جائے گا۔
سارک ممالک کے حوالے سے انھوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی' انتہا پسندی' منشیات اور انسانی اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے اس خطے کے ممالک کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔ انھوں نے کہا کہ گزشتہ دہائی سے سارک خطے کے عوام کو دہشتگردی کی لعنت کا سامنا ہے جس سے سب سے زیادہ پاکستان متاثر ہوا ہے' ہم نے40 ہزار سے زائد بے گناہ جانوں کی قربانی دی ہے' اقتصادی لحاظ سے 80 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا ہے' شدت پسندی کے خلاف جنگ عوام کے دل اور دماغ کو جیت کر ہی کامیابی سے ہمکنار ہو سکتی ہے۔ لہٰذا ہمیں محرومی اور بے بسی کے احساس کو دورکرنا ہو گا۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے سارک اسپیکرز کانفرنس سے خطاب کے دوران اشاروں کنایوں میں بعض حقائق کی نشاندہی بھی کی ہے' اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ پاکستان میں طویل عرصے تک آمریت رہی ہے' آمریت نے پاکستان کے ریاستی نظام کو بھی متاثر کیا ہے اور سماجی رویوں میں بھی تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔ صدر کا یہ کہنا درست ہے کہ پاکستان میں فرسودہ نظام آخری دموں پر ہے۔ بلاشبہ پاکستان میں ایک منتخب جمہوری حکومت اپنی مدت پوری کرنے والی ہے لیکن ایسی باتیں اور اشارے ضرور سامنے آتے رہے ہیں جس سے یہ تاثر پیدا ہوتا رہا ہے کہ جیسے بعض قوتیں جمہوریت کے سفر کو مکمل ہونے سے پہلے ختم کرنا چاہتی ہیں۔
اب بھی صورت حال میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آ رہی شاید اسی وجہ سے صدر مملکت نے یہ کہا ہے کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ پارلیمنٹ پر اب بھی حملے ہو رہے ہیں۔ یہ حملے کہاں سے ہو رہے ہیں اس حوالے سے صدر مملکت نے واضح نشاندہی تو نہیں کی لیکن ماضی کی صورت حال کو سامنے رکھا جائے تو فہمیدہ حلقوں پر بہت کچھ واضح ہو جاتا ہے۔ یوں دیکھا جائے تو پاکستان میں سیاسی صورت حال ہموار نہیں بلکہ خاصی غیر ہموار ہے۔ بہر حال پاکستان کے عوام کو یہی یقین رکھنا چاہیے کہ ملک میں جمہوری عمل چلتا رہے گا۔ نئے عام انتخابات کے بعد جو حکومت آئے گی' اس سے جمہوری نظام پہلے سے بھی زیادہ مضبوط توانا ہو جائے گا۔ سارک خطے کے عوام کا مزاج بھی بنیادی طور پر جمہوریت پسند ہے' آمریت یہاں کے عوام کے مزاج سے مطابقت نہیں رکھتی۔ بھارت میں جمہوریت مضبوط ہو چکی ہے' نیپال کے عوام بادشاہت کا خاتمہ کر کے جمہوری نظام کا حصہ بن گئے ہیں۔
بنگلہ دیش میں تمام تر بدامنی اور خرابی کے باوجود الیکشن ہوتے ہیں' پاکستان میں گو آمریت رہی ہے لیکن جمہوری قوتوں نے آمریت کا مقابلہ کیا اور بالآخر اسے شکست دی' یوں دیکھا جائے تو سارک خطے میں آخر کار جمہوریت ہی فتح یاب ہوگی' اس وقت دہشت گردی کا چیلنج سارے خطے کو درپیش ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان اس کا سب سے زیادہ شکار ہوا ہے۔ اس وجہ سے یہاں بے شمار مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ سارک ممالک کو متحد ہو کر دہشت گردی کے عفریت کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کی مدد کرنا ہو گی۔ ایک دوسرے پر الزامات عائد کر کے یا دور کھڑے ہو کر تماشا دیکھنے سے معاملات سدھرنے کے بجائے خراب ہوں گے۔ صدر مملکت نے تو اعداد وشمار کے ذریعے بتایا ہے کہ پاکستان کو دہشت گری سے کتنا بھاری نقصان پہنچا ہے۔
پاکستان کی معیشت ابھی تک اس لیے سنبھل نہیں پائی کہ یہاں دہشت گردوں نے امن و امان کی صورت حال کو انتہائی خراب کر رکھا ہے۔ اگر سارک ممالک جذبات کے بجائے حقائق کو سامنے رکھ کر سوچیں تو اس سارے خطے میں خوشحالی کا دور دورہ ہو سکتا ہے۔ بھارت کو اس حوالے سے زیادہ ذمے داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ بھارت کو بھی اندرون ملک بہت سی علیحدگی پسند تحریکوں کا سامنا ہے۔ وہاں بھی آئے روز بم دھماکے اور قتل و غارت ہوتی رہتی ہے لیکن بھارتی بیوروکریسی اصل حقیقت کو چھپا کر حکومت کو مس گائیڈ کرتی ہے۔ بھارت میں ہونے والا کوئی ہندو مسلم فساد ہو یا کسی علاقے میں بم دھماکا ہو جائے اسے پاکستان کے کھاتے میں ڈال کر بھارتی عوام کو بھڑکایا جاتا ہے۔ اس سے ملتا جلتا طرز عمل کسی نہ کسی شکل میں پاکستان میں بھی رائج ہے۔
اس صورت حال کو اب ختم ہونا چاہیے' حقیقت کو ویسے ہی دیکھنا چاہیے جیسی کہ وہ ہے۔ اب پاکستان' بھارت اور باقی سارک ممالک کو ذہنی طور پر یہ تسلیم کر لینا چاہیے کہ عالمی سطح پر سرد جنگ ختم ہو چکی ہے۔ سرد جنگ سے وابستہ یادیں اب فراموش کر کے نئی حقیقتوں کے ساتھ چلنے میں ہی سب کی بھلائی ہے۔ سارک ممالک کو اسی انداز میں سوچنا چاہیے جس انداز میں یورپ کی اشرافیہ سوچ رہی ہے۔ یورپی یونین اسی سوچ کی پیداوار ہے۔ سارک خطے میں ڈیڑھ ارب کے قریب انسان بستے ہیں۔ سارک کا خطہ بھی وسیع و عریض ہے۔
یہاں وسائل بھی بہت ہیں اور بھاری افراد قوت بھی موجود ہے اور غیر ملکی معیشتوں کے لیے ایک وسیع منڈی بھی۔ اس خطے میں امن و امان ہو اور اس خطے کے ممالک کے درمیان تنازعات نہ ہوں' ایک دوسرے کے ہاں آنا جانا آسان ہو تو غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے اس سے زیادہ بہتر مارکیٹ دنیا میں کوئی اور نہیں ہو سکتی۔ سارک کے کاروباری افراد اگر ایک دوسرے کے ملک میں ہی سرمایہ کاری کریں تو سارے خطے میں خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہو جائے گا۔