تھانے بکتے ہیں چشم کشا عدالتی انتباہ
دنیا کے کسی مہذب اور ترقی یافتہ ملک میں تھانوں کی خرید و فروخت کا کھلا لائسنس کسی کو نہیں ملتا
تھانے بکنے کا مطلب عقل مند را اشارہ کافی است کے مترادف اور نہایت فصیح و بلیغ استعارہ ہے ، یہ ایک انتباہ اور ویک اپ کال ہے فوٹو: فائل
چیف جسٹس انورظہیرجمالی نے کہا ہے کہ تھانے کروڑوں میں بکتے ہیں اور ایس ایچ او کروڑوں دے کر لگتے ہیں، رقم دیے بغیر ایف آئی آر درج نہیں ہوتی۔ پولیس تھانوں میں اس قدر کرپشن عام ہے کہ اگر چیف جسٹس پاکستان بھی شناخت کے بغیر پرچہ درج کرانے چلا جائے تو ان سے بھی رشوت طلب کی جائے گی۔
یہ تلخ شرح ِحقیقت ہے، ان چند چشم کشا فقروں میں عدالت عظمیٰ نے ملکی نظام انصاف و قانون کی سچی تصویر کشی کی ہے جب کہ کرائم رپورٹرز کی خبروں ، جرائم پر شایع شدہ فیچرز میں متعدد بار پولیس کلچر کا پوسٹ مارٹم کیا گیا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا بھی حقائق سامنے لایا ہے، لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں اور اعلیٰ حکام نے ہمیشہ میڈیا کو مطعون کیا اورایسی رپورٹوں کو مبالغہ آمیز کہا مگر اب ان کے پاس فیس سیونگ کا کوئی راستہ نہیں ، جو آپشن باقی بچا ہے وہ تھانہ کلچر کی یکسر تبدیلی اور اسے عوامی اور قومی امنگوں سے ہم آہنگ کرنے کا ہے۔
جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ اگر تھانے میں کسی کی ایف آئی آر درج کرنے سے انکار ہو تو یہ مس کنڈکٹ تصور ہوگا ۔ عدالتی معاون خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ پولیس تھانوں میں درج ہونے والے 35 سے40 فیصد مقدمات کے چالان عدالتوں میں پیش نہیں ہوتے، تھانوں کو جوابدہ بنانے کے لیے سیشن جج کو حاصل اختیار درست ہے۔
بلاشبہ تھانے کی چاردیواری تہذیب و انصاف کی بنیاد پر استوار ہونی چاہیے، شہریوں کو اس کا یقین ہونا چاہیے کہ تھانیدار ان کا غمگسار ہوگا، تھانے کا عملہ ان کی قانونی مدد کرنے کا پابند ہو گا۔ دنیا کے کسی مہذب اور ترقی یافتہ ملک میں تھانوں کی خرید و فروخت کا کھلا لائسنس کسی کو نہیں ملتا، کیونکہ وہاں حکومتں انصاف ، قانون کی حرمت اور شہریوں سے ہونے والے ظلم کے ازالے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتی ہیں ۔
اگر انصاف کی راہ میں کسی نے رکاوٹ ڈالی تو حکومت کو لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں۔ جسٹس آف پیس کی آئینی حیثیت طے کرنے کے بارے میں مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے قرار دیا گیا کہ ضابطہ فوجداری کے سیکشن 122اے اور 122بی کے تحت ایف آئی آر درج نہ ہونے کی صورت میں سیشن جج کو اختیار حاصل ہے کہ وہ جسٹس آف پیس کے طور پر پولیس کو ایف آئی آر کے اندراج کا حکم دے سکیں۔
تھانے بکنے کا مطلب عقل مند را اشارہ کافی است کے مترادف اور نہایت فصیح و بلیغ استعارہ ہے ، یہ ایک انتباہ اور ویک اپ کال ہے کہ انصاف کے حصول کے لیے شہری سب سے پہلے پولیس تھانہ کا رخ کرتے ہیں ، وہ ایف ائی آر درج کرانا چاہتے ہیں مگر مقدمات میں الجھے ہم وطنوں کی دربدری و خاک بسری کی جو خبریں آتی ہیں۔
ان سے یہی تاثر ابھرتا ہے کہ تھانے شفاف تفتیش اور انصاف کی بے خوف دہلیز نہیں بلکہ خوف کی علامت ہیں ، اور جس معاشرے میں ایف آئی آر بغیر رشوت کے نہ کاٹی جائے اس سماج میں اخلاقیات کس درجہ پست ہوگی اس کا تصور بھی محال ہے، اس لے قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا اشد ضروری ہے۔
یہ تلخ شرح ِحقیقت ہے، ان چند چشم کشا فقروں میں عدالت عظمیٰ نے ملکی نظام انصاف و قانون کی سچی تصویر کشی کی ہے جب کہ کرائم رپورٹرز کی خبروں ، جرائم پر شایع شدہ فیچرز میں متعدد بار پولیس کلچر کا پوسٹ مارٹم کیا گیا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا بھی حقائق سامنے لایا ہے، لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں اور اعلیٰ حکام نے ہمیشہ میڈیا کو مطعون کیا اورایسی رپورٹوں کو مبالغہ آمیز کہا مگر اب ان کے پاس فیس سیونگ کا کوئی راستہ نہیں ، جو آپشن باقی بچا ہے وہ تھانہ کلچر کی یکسر تبدیلی اور اسے عوامی اور قومی امنگوں سے ہم آہنگ کرنے کا ہے۔
جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ اگر تھانے میں کسی کی ایف آئی آر درج کرنے سے انکار ہو تو یہ مس کنڈکٹ تصور ہوگا ۔ عدالتی معاون خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ پولیس تھانوں میں درج ہونے والے 35 سے40 فیصد مقدمات کے چالان عدالتوں میں پیش نہیں ہوتے، تھانوں کو جوابدہ بنانے کے لیے سیشن جج کو حاصل اختیار درست ہے۔
بلاشبہ تھانے کی چاردیواری تہذیب و انصاف کی بنیاد پر استوار ہونی چاہیے، شہریوں کو اس کا یقین ہونا چاہیے کہ تھانیدار ان کا غمگسار ہوگا، تھانے کا عملہ ان کی قانونی مدد کرنے کا پابند ہو گا۔ دنیا کے کسی مہذب اور ترقی یافتہ ملک میں تھانوں کی خرید و فروخت کا کھلا لائسنس کسی کو نہیں ملتا، کیونکہ وہاں حکومتں انصاف ، قانون کی حرمت اور شہریوں سے ہونے والے ظلم کے ازالے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتی ہیں ۔
اگر انصاف کی راہ میں کسی نے رکاوٹ ڈالی تو حکومت کو لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں۔ جسٹس آف پیس کی آئینی حیثیت طے کرنے کے بارے میں مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے قرار دیا گیا کہ ضابطہ فوجداری کے سیکشن 122اے اور 122بی کے تحت ایف آئی آر درج نہ ہونے کی صورت میں سیشن جج کو اختیار حاصل ہے کہ وہ جسٹس آف پیس کے طور پر پولیس کو ایف آئی آر کے اندراج کا حکم دے سکیں۔
تھانے بکنے کا مطلب عقل مند را اشارہ کافی است کے مترادف اور نہایت فصیح و بلیغ استعارہ ہے ، یہ ایک انتباہ اور ویک اپ کال ہے کہ انصاف کے حصول کے لیے شہری سب سے پہلے پولیس تھانہ کا رخ کرتے ہیں ، وہ ایف ائی آر درج کرانا چاہتے ہیں مگر مقدمات میں الجھے ہم وطنوں کی دربدری و خاک بسری کی جو خبریں آتی ہیں۔
ان سے یہی تاثر ابھرتا ہے کہ تھانے شفاف تفتیش اور انصاف کی بے خوف دہلیز نہیں بلکہ خوف کی علامت ہیں ، اور جس معاشرے میں ایف آئی آر بغیر رشوت کے نہ کاٹی جائے اس سماج میں اخلاقیات کس درجہ پست ہوگی اس کا تصور بھی محال ہے، اس لے قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا اشد ضروری ہے۔