صدی کی سب سے بڑی جدوجہد
قیام پاکستان کے بعد حکومت نے ریلوے‘ پی آئی اے اور جہاز رانی کو سرکاری شعبے میں رکھنے کا فیصلہ کیا تھا
tauceeph@gmail.com
عنایت رضا نے اپنی زندگی کا آغاز مظلوم طبقات کے حالات کار بہتر بنانے کی جدو جہد سے کیا ہے۔ وہ کالج کے زمانے سے ہی بائیں بازوکی طلبا تنظیم نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن میں شامل ہوئے۔
80 کی دہائی میں شپ اونرزکالج طلبا یونین کے صدر منتحب ہوئے پھر انھیں پروگریسیو اسٹوڈنٹس کونسل کا چیئر پرسن منتخب کیا گیا' یہ وہ وقت تھا جب جنرل ضیاء الحق کی فوجی آمریت عروج پر تھی۔ ترقی پسند جماعتوں سے منسلک ہونے کا مطلب اپنے مستقبل کو داؤ پر لگانا تھا مگر عنایت رضا اپنے آدرش کے پکے تھے ، انھوں نے کسی قسم کی شکایت اور رکاوٹوں پر توجہ نہ دی 'عنایت رضا نے تعلیم مکمل کرنے بعد پی آئی اے میں ملازمت اختیارکرلی اور مزدور یونین سے منسلک ہوگئے۔
ساری زندگی ترقی پسند نظریات کی ترویج کرتے رہے، جب میاں نواز شریف کی حکومت نے قومی اسمبلی میں پی آئی اے کوکمپنی بنانے کا بل منظورکیا تو عنایت رضا ان لوگوں میں شامل تھے جو یہ محسوس کررہے تھے کہ موجودہ حکومت نے پی آئی اے کو نجی تحویل میں دینے کا فیصلہ کرلیا ہے جوکارکنوں اور قومی مفاد میں نہیں ہے۔
عنایت کے اہل خانہ امریکا منتقل ہو چکے ہیں اور وہ ریٹائرمنٹ کے قریب تھے ان کے لیے اپنے واجبات وصول کر کے ملک چھوڑنے کا آپشن موجود تھا مگر عنایت پی آئی اے کے مزدوروں کی جدوجہد کے ہر اول دستے میں شامل ہوئے' پی آئی اے کی ملازمین کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے کراچی کے جناح ٹرمینل پر دھرنا دینے کا فیصلہ کیا اس وقت ایئرپورٹ اور اطراف کے علاقے پر سیکیورٹی انتہائی سخت تھی ہر طرف پولیس اور رینجرز کے دستے تعینات تھے اورخفیہ ایجنسیوں کے سادہ لباس میں ملبوس اہلکاروں کی بھرمار تھی۔
ملازمین جناح ٹرمینل کے سامنے جمع تھے 'عنایت رضا نوجوانوں کی طرح ہی جوش وخروش کے ساتھ قومی اداروں کی نجکاری کے خلاف فلک شگاف نعرے لگا رہے تھے' ملازمین جس میں ہر قسم کے نظریات اور خیالات رکھنے والے سب شامل تھے' عنایت کی طرح پر جوش تھے' پھر پولیس نے لاٹھی چارج شروع کیا اور آنسوگیس پھینکا شروع کیے' ملازمین جان بچانے کے لیے ادھر اُدھر بھاگ رہے تھے' ہر طرف افرا تفری پھیل گئی' مرد وخواتین آنسوگیس سے بچنے کے لیے ادھر ادھر بھاگنے لگے۔
کچھ لوگوں نے گیلے رومال اورکپڑے چہرے اور آنکھوں پر رکھ لیے' پھر اچانک مخالف سمت سے گولیاں چلنے کی آوازیں آئیں' عنایت رضا اور سلیم اکبر زمین پرگرگئے' ایمبولینس بلانے کی آوازیں آئیں' عنایت اور تحریک کے کارکنوں کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا' ڈاکٹروں نے دونوں کی موت کی تصدیق کردی ' عنایت اورسلیم اکبرکارکنوںکی جدوجہد پر نچھاور ہوگئے۔
قیام پاکستان کے بعد حکومت نے ریلوے' پی آئی اے اور جہاز رانی کو سرکاری شعبے میں رکھنے کا فیصلہ کیا تھا' نجی فضائی کمپنی اورینٹ ایئرویزسرکاری ائیرلائن پاکستان انٹر نیشنل میں ضم ہوگئی ' پیپلزپارٹی کی پہلی حکومت میں نجی اداروں کو بھاری صنعتوں کو قومی تحویل میں لینے کا فیصلہ کیا گیا' سرکاری شعبے کا حجم بڑھ گیا اور اداروں کو بیوروکریسی کے حوالے کیا گیا' بیوروکریسی نے حکومتی پالیسی کے تحت یہ ادارہ چلایا' جہاں پروفیشنل ماہرین مینجمنٹ میں شامل تھے وہ ادارے منافع بخش رہے۔
جب غیر پیشہ وارانہ افراد پر مشتمل مینجمنٹ حوالے کی گئی' وہ زوال پذیر ہوئے' جنرل ضیاء الحق کے دور میں کچھ صنعتی ادارے ان کے مالکان کے حوالے کیے گئے۔1991میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد پوری دنیا میں فری مارکیٹ اکانومی کے رائج ہونے کے اثرات پاکستان پر پڑے' میاں نواز شریف نے خود قومی اداروں کی نجکاری کو اپنے منشور میں شامل کیا' پیپلز پارٹی نے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کی پالیسی کو اپنایا' انفارمیشن ٹیکنالوجی کے رائج ہونے سے ٹیلی فون کا استعمال پوری دنیا میں سستا اور آسان ہوگیا۔
نجی شعبے نے آئی ٹی کے ذریعے خوب منافع کمایا' اس شعبے کا سماجی کردار ختم ہوگیا' بعد ازاں جنرل پرویزمشرف کے دور میں کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کی نجکاری ہوئی' مگر اس ادارے کی کارکردگی مایوس حد تک کم ہوئی' سیکڑوں مزدور اور افسروں کی ملازمتیں ختم کردی گئیں' بجلی کے نرخ پورے ملک میں سب سے زیادہ ہوگئے اور لوڈشیڈنگ میں کمی نہیں ہوئی'گزشتہ سال جون میں کراچی میں گرمی میں 2ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوئے۔
اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کی بڑی وجہ طویل دروانیے کی لوڈشیڈنگ تھی' ایسی ہی صورتحال قومیائے ہوئے بینکوں کی نجکاری سے ان بینکوں کا سماجی کردار بہت محدود ہوا' پی آئی اے کا شمار ایک زمانے میں ایشیا کی بڑی ایئر لائنز میں ہوتا تھا' پی آئی اے کے ملازمین نے خلیجی ممالک اور سنگاپورکی ایئرلائنزکی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا' پی آئی اے بدانتظامی کا شکار ہوئی' برسراقتدار آنے والی حکومتوں نے پی آئی اے کو غیر ضروری بھرتیوں ' جہازوں اورآلات کی خریداری میں کمیشن اور بدعنوانیوں جیسی برائیوں کو رائج کیا۔
ملازمین میں ایک خاص قسم کی سستی اورکاہلی اور بے ایمانی کی روایت کی روایت زور پکڑگئی' ماہرین کہتے ہیں کہ اس صدی میں شروع ہونے والی دہشت گردی کی صورتحال سے پی آئی اے براہ راست متاثر ہوئی ہے' یورپ اور امریکا جیسے منافع بخش روٹ پی آئی اے سے چھین لیے گئے' پی آئی اے کا مالیاتی خسارہ بڑھتا گیا ۔
پی آئی اے کے ملازمین کا کہنا ہے کہ پی پی حکومت کی اقربا پروری کی پالیسی کی بنیاد پر بے تحاشہ بھرتیاں ہوئیں مگر موجودہ حکومت کے دور میں بھی یہ سلسلہ جاری رہا اور کئی افراد کو مختلف منافع بخش عہدوں پر بھرتی کیا گیا' مسلم لیگ کی حکومت فری مارکیٹ اکانومی کے فلسفے پر یقین رکھتی ہے' حکومت نے قومی اسمبلی میں جلدی میں پی آئی اے کو کمپنی میں تبدیل کرنے کا بل منظور کرلیا' مگر یہ بل اپوزیشن جماعتوں سے مفاہمت کے بغیر منظور نہیں ہوگا۔
سوویت یونین کے خاتمے سے پوری دنیا میں مزدور تحریک کو بہت دھچکا لگا' پاکستان کی مزدور تحریک بھی اس صورتحال سے دوچارہوئی' مزدور تنظیمیں کمزور ہوگئیں' مزدور تنظیموں کے کمزور ہونے سے کارکنوں کی سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف جدوجہدکی صلاحیت بھی ماند پڑ گئی' پی آئی اے میں کارکنوں اور افسروں کا تعلق متوسط اور نچلے طبقے سے ہے' ایئر لائن میں زیادہ مراعات یافتہ پائلیٹ کا گروہ ہوتا ہے۔
پی آئی اے کے مزدور انجمنوں نے اپنی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے تحت ایک تاریخی جدوجہد کی جس کی صدی میں مثال نہیں ملتی' نہتے عوام کا ریاست کے جبرکا مقابلہ کرنا متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد آنسوگیس کے شیل برداشت کرنا ' اپنے ساتھیوں کی جان کی قربانی دینا'غیر معمولی کارنامہ ہے' بد قسمتی سے مخالف سیاسی جماعتیں' سیاسی کلچر سے محروم ہیں اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف حقیقی جدوجہد پر یقین نہیں رکھتی' پی آئی اے کے ملازمین کو سیاسی جماعتوں کی حقیقی حمایت حاصل نہیں ہوسکی۔
جس کی وجہ سے یہ تحریک اپنے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرسکی اور بغیرکسی نتیجے کے ختم ہوگئی'مگر سپریم کورٹ کے سرکاری ملازمین کے ہڑتال کے حق کو آئینی قرار دینے کے فیصلے سے پی آئی اے کے ملازمین کی جدوجہد کی توثیق ہوگئی' اس تحریک کے حوالے سے کئی سوالات بہت واضح ہیں' ایک سوال یہ ہے کہ نجی ایئر لائنز واقعی قومی ایئر لائن کا کردار ادا کرسکے گی ۔
پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت نے کراچی کی مزدور تحریک کو طاقت سے کچلا تھا' اس کا نقصان جنرل ضیاء الحق کے اقتدار میں آنے کے بعد خود پیپلز پارٹی اور مزدور تحریک کو ہوا تھا' موجودہ حکومت نے ایک لبرل اور سیکولر ٹریڈ یونین کوکچل دیا ہے' کیا مزدور تحریک کمزور ہونے سے سیاسی جماعتیں کمزور نہیں ہوں گی؟ اس صورتحال کا حتمی نقصان موجودہ جمہوری ڈھانچے کو نہیں ہوگا؟ بہرحال عنایت رضا کا نام مزدور تحریک کی تاریخ میں سنہری باب کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
ٹریڈ یونین پر تحقیقی ماہرین کا کہنا ہے کہ PIAکے مزدوروں کی تحریک اس صدی کی سب سے بڑی تحریک ہے' جس سے استحصالی نظام میں دراڑیں پڑ چکی ہیں۔
80 کی دہائی میں شپ اونرزکالج طلبا یونین کے صدر منتحب ہوئے پھر انھیں پروگریسیو اسٹوڈنٹس کونسل کا چیئر پرسن منتخب کیا گیا' یہ وہ وقت تھا جب جنرل ضیاء الحق کی فوجی آمریت عروج پر تھی۔ ترقی پسند جماعتوں سے منسلک ہونے کا مطلب اپنے مستقبل کو داؤ پر لگانا تھا مگر عنایت رضا اپنے آدرش کے پکے تھے ، انھوں نے کسی قسم کی شکایت اور رکاوٹوں پر توجہ نہ دی 'عنایت رضا نے تعلیم مکمل کرنے بعد پی آئی اے میں ملازمت اختیارکرلی اور مزدور یونین سے منسلک ہوگئے۔
ساری زندگی ترقی پسند نظریات کی ترویج کرتے رہے، جب میاں نواز شریف کی حکومت نے قومی اسمبلی میں پی آئی اے کوکمپنی بنانے کا بل منظورکیا تو عنایت رضا ان لوگوں میں شامل تھے جو یہ محسوس کررہے تھے کہ موجودہ حکومت نے پی آئی اے کو نجی تحویل میں دینے کا فیصلہ کرلیا ہے جوکارکنوں اور قومی مفاد میں نہیں ہے۔
عنایت کے اہل خانہ امریکا منتقل ہو چکے ہیں اور وہ ریٹائرمنٹ کے قریب تھے ان کے لیے اپنے واجبات وصول کر کے ملک چھوڑنے کا آپشن موجود تھا مگر عنایت پی آئی اے کے مزدوروں کی جدوجہد کے ہر اول دستے میں شامل ہوئے' پی آئی اے کی ملازمین کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے کراچی کے جناح ٹرمینل پر دھرنا دینے کا فیصلہ کیا اس وقت ایئرپورٹ اور اطراف کے علاقے پر سیکیورٹی انتہائی سخت تھی ہر طرف پولیس اور رینجرز کے دستے تعینات تھے اورخفیہ ایجنسیوں کے سادہ لباس میں ملبوس اہلکاروں کی بھرمار تھی۔
ملازمین جناح ٹرمینل کے سامنے جمع تھے 'عنایت رضا نوجوانوں کی طرح ہی جوش وخروش کے ساتھ قومی اداروں کی نجکاری کے خلاف فلک شگاف نعرے لگا رہے تھے' ملازمین جس میں ہر قسم کے نظریات اور خیالات رکھنے والے سب شامل تھے' عنایت کی طرح پر جوش تھے' پھر پولیس نے لاٹھی چارج شروع کیا اور آنسوگیس پھینکا شروع کیے' ملازمین جان بچانے کے لیے ادھر اُدھر بھاگ رہے تھے' ہر طرف افرا تفری پھیل گئی' مرد وخواتین آنسوگیس سے بچنے کے لیے ادھر ادھر بھاگنے لگے۔
کچھ لوگوں نے گیلے رومال اورکپڑے چہرے اور آنکھوں پر رکھ لیے' پھر اچانک مخالف سمت سے گولیاں چلنے کی آوازیں آئیں' عنایت رضا اور سلیم اکبر زمین پرگرگئے' ایمبولینس بلانے کی آوازیں آئیں' عنایت اور تحریک کے کارکنوں کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا' ڈاکٹروں نے دونوں کی موت کی تصدیق کردی ' عنایت اورسلیم اکبرکارکنوںکی جدوجہد پر نچھاور ہوگئے۔
قیام پاکستان کے بعد حکومت نے ریلوے' پی آئی اے اور جہاز رانی کو سرکاری شعبے میں رکھنے کا فیصلہ کیا تھا' نجی فضائی کمپنی اورینٹ ایئرویزسرکاری ائیرلائن پاکستان انٹر نیشنل میں ضم ہوگئی ' پیپلزپارٹی کی پہلی حکومت میں نجی اداروں کو بھاری صنعتوں کو قومی تحویل میں لینے کا فیصلہ کیا گیا' سرکاری شعبے کا حجم بڑھ گیا اور اداروں کو بیوروکریسی کے حوالے کیا گیا' بیوروکریسی نے حکومتی پالیسی کے تحت یہ ادارہ چلایا' جہاں پروفیشنل ماہرین مینجمنٹ میں شامل تھے وہ ادارے منافع بخش رہے۔
جب غیر پیشہ وارانہ افراد پر مشتمل مینجمنٹ حوالے کی گئی' وہ زوال پذیر ہوئے' جنرل ضیاء الحق کے دور میں کچھ صنعتی ادارے ان کے مالکان کے حوالے کیے گئے۔1991میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد پوری دنیا میں فری مارکیٹ اکانومی کے رائج ہونے کے اثرات پاکستان پر پڑے' میاں نواز شریف نے خود قومی اداروں کی نجکاری کو اپنے منشور میں شامل کیا' پیپلز پارٹی نے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کی پالیسی کو اپنایا' انفارمیشن ٹیکنالوجی کے رائج ہونے سے ٹیلی فون کا استعمال پوری دنیا میں سستا اور آسان ہوگیا۔
نجی شعبے نے آئی ٹی کے ذریعے خوب منافع کمایا' اس شعبے کا سماجی کردار ختم ہوگیا' بعد ازاں جنرل پرویزمشرف کے دور میں کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کی نجکاری ہوئی' مگر اس ادارے کی کارکردگی مایوس حد تک کم ہوئی' سیکڑوں مزدور اور افسروں کی ملازمتیں ختم کردی گئیں' بجلی کے نرخ پورے ملک میں سب سے زیادہ ہوگئے اور لوڈشیڈنگ میں کمی نہیں ہوئی'گزشتہ سال جون میں کراچی میں گرمی میں 2ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوئے۔
اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کی بڑی وجہ طویل دروانیے کی لوڈشیڈنگ تھی' ایسی ہی صورتحال قومیائے ہوئے بینکوں کی نجکاری سے ان بینکوں کا سماجی کردار بہت محدود ہوا' پی آئی اے کا شمار ایک زمانے میں ایشیا کی بڑی ایئر لائنز میں ہوتا تھا' پی آئی اے کے ملازمین نے خلیجی ممالک اور سنگاپورکی ایئرلائنزکی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا' پی آئی اے بدانتظامی کا شکار ہوئی' برسراقتدار آنے والی حکومتوں نے پی آئی اے کو غیر ضروری بھرتیوں ' جہازوں اورآلات کی خریداری میں کمیشن اور بدعنوانیوں جیسی برائیوں کو رائج کیا۔
ملازمین میں ایک خاص قسم کی سستی اورکاہلی اور بے ایمانی کی روایت کی روایت زور پکڑگئی' ماہرین کہتے ہیں کہ اس صدی میں شروع ہونے والی دہشت گردی کی صورتحال سے پی آئی اے براہ راست متاثر ہوئی ہے' یورپ اور امریکا جیسے منافع بخش روٹ پی آئی اے سے چھین لیے گئے' پی آئی اے کا مالیاتی خسارہ بڑھتا گیا ۔
پی آئی اے کے ملازمین کا کہنا ہے کہ پی پی حکومت کی اقربا پروری کی پالیسی کی بنیاد پر بے تحاشہ بھرتیاں ہوئیں مگر موجودہ حکومت کے دور میں بھی یہ سلسلہ جاری رہا اور کئی افراد کو مختلف منافع بخش عہدوں پر بھرتی کیا گیا' مسلم لیگ کی حکومت فری مارکیٹ اکانومی کے فلسفے پر یقین رکھتی ہے' حکومت نے قومی اسمبلی میں جلدی میں پی آئی اے کو کمپنی میں تبدیل کرنے کا بل منظور کرلیا' مگر یہ بل اپوزیشن جماعتوں سے مفاہمت کے بغیر منظور نہیں ہوگا۔
سوویت یونین کے خاتمے سے پوری دنیا میں مزدور تحریک کو بہت دھچکا لگا' پاکستان کی مزدور تحریک بھی اس صورتحال سے دوچارہوئی' مزدور تنظیمیں کمزور ہوگئیں' مزدور تنظیموں کے کمزور ہونے سے کارکنوں کی سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف جدوجہدکی صلاحیت بھی ماند پڑ گئی' پی آئی اے میں کارکنوں اور افسروں کا تعلق متوسط اور نچلے طبقے سے ہے' ایئر لائن میں زیادہ مراعات یافتہ پائلیٹ کا گروہ ہوتا ہے۔
پی آئی اے کے مزدور انجمنوں نے اپنی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے تحت ایک تاریخی جدوجہد کی جس کی صدی میں مثال نہیں ملتی' نہتے عوام کا ریاست کے جبرکا مقابلہ کرنا متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد آنسوگیس کے شیل برداشت کرنا ' اپنے ساتھیوں کی جان کی قربانی دینا'غیر معمولی کارنامہ ہے' بد قسمتی سے مخالف سیاسی جماعتیں' سیاسی کلچر سے محروم ہیں اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف حقیقی جدوجہد پر یقین نہیں رکھتی' پی آئی اے کے ملازمین کو سیاسی جماعتوں کی حقیقی حمایت حاصل نہیں ہوسکی۔
جس کی وجہ سے یہ تحریک اپنے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرسکی اور بغیرکسی نتیجے کے ختم ہوگئی'مگر سپریم کورٹ کے سرکاری ملازمین کے ہڑتال کے حق کو آئینی قرار دینے کے فیصلے سے پی آئی اے کے ملازمین کی جدوجہد کی توثیق ہوگئی' اس تحریک کے حوالے سے کئی سوالات بہت واضح ہیں' ایک سوال یہ ہے کہ نجی ایئر لائنز واقعی قومی ایئر لائن کا کردار ادا کرسکے گی ۔
پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت نے کراچی کی مزدور تحریک کو طاقت سے کچلا تھا' اس کا نقصان جنرل ضیاء الحق کے اقتدار میں آنے کے بعد خود پیپلز پارٹی اور مزدور تحریک کو ہوا تھا' موجودہ حکومت نے ایک لبرل اور سیکولر ٹریڈ یونین کوکچل دیا ہے' کیا مزدور تحریک کمزور ہونے سے سیاسی جماعتیں کمزور نہیں ہوں گی؟ اس صورتحال کا حتمی نقصان موجودہ جمہوری ڈھانچے کو نہیں ہوگا؟ بہرحال عنایت رضا کا نام مزدور تحریک کی تاریخ میں سنہری باب کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
ٹریڈ یونین پر تحقیقی ماہرین کا کہنا ہے کہ PIAکے مزدوروں کی تحریک اس صدی کی سب سے بڑی تحریک ہے' جس سے استحصالی نظام میں دراڑیں پڑ چکی ہیں۔