سپر ہائی وے کی زبوں حالی پر تاجروں کا اظہار تشویش
اربوں روپے کا ٹول ٹیکس لینے کے باوجود شاہراہ کی مرمت نہ کرانا عوام سے نا انصافی ہے
سڑک پر جگہ جگہ گڑھے پڑنے سے حادثات معمول بن گئے،سینئر نائب صدر حیدرآباد چیمبر. فوٹو فائل
چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر تراب علی خوجہ نے سپر ہائی وے کی زبوں حالی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ شاہراہ انٹرنیشنل ایئر پو رٹ اور بندر گاہ کے ذریعے درآمدات و بر آمدات کا واحد ذریعہ ہے ۔
صوبائی ہیڈ کوارٹر کراچی میں ہونے کی وجہ سے سپر ہائی وے پر ہیوی اور لائٹ ٹرانسپو رٹ 24گھنٹے رواں دواں رہتی ہے اور ملک کے بڑے طبی مراکز کراچی میں ہونے کے باعث حیدرآباد بشمول اندرون سندھ کے چھوٹے بڑے شہروں سے تشویش ناک حالت میں مریض سپر ہائی وے سے ہی کراچی لے جائے جاتے ہیں، مسلم لیگ (ن)حکومت نے سندھ میںجدید مواصلاتی سہولت مہیا کرنے کے لیے سپر ہائی وے کو نیشنل ہائی وے اتھارٹی میں ضم کیا جس کے بعد سے اس شاہراہ پر قائم ٹول ٹیکس کی اربوں روپے کی آمدنی نیشنل ہائی وے اتھارٹی وصول کر کے پنجاب میں جدید موٹروے بنانے پر خرچ کر رہی ہے جو کہ سندھ کے عوام کی حق تلفی ہے، اربوں روپے ٹول ٹیکس ادا کرنیوالے سندھ کے عوام کو مواصلات کی جدید سہولتوں سے محروم رکھا جا رہا ہے، 20 سال کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود سپر ہائی وے کی ری کارپیٹنگ نہیں کی گئی۔
15 برسوں سے سندھ کے عوام کو نوید دی جا رہی ہے کہ سپر ہائی وے کی جدید موٹر وے میں تبدیلی کے لیے غیر ملکی کمپنی کو ٹھیکہ دے دیا گیا ہے، باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ کمپنی سے یہ ٹھیکہ ختم ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیٹوسپلائی کے ہیوی ٹریلر کی آمد و رفت سے سپر ہائی وے پر گڑھے پڑ گئے ہیں ، جس کی وجہ سے آئے دن حادثات میں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوتاہے اور ٹرانسپورٹر کو بھاری مالی نقصا ن بھی برداشت کرنا پڑ رہا ہے، تراب علی خوجہ نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ سپرہائی وے کی فوری طو رپر ری کارپیٹنگ کرائی جائے۔
صوبائی ہیڈ کوارٹر کراچی میں ہونے کی وجہ سے سپر ہائی وے پر ہیوی اور لائٹ ٹرانسپو رٹ 24گھنٹے رواں دواں رہتی ہے اور ملک کے بڑے طبی مراکز کراچی میں ہونے کے باعث حیدرآباد بشمول اندرون سندھ کے چھوٹے بڑے شہروں سے تشویش ناک حالت میں مریض سپر ہائی وے سے ہی کراچی لے جائے جاتے ہیں، مسلم لیگ (ن)حکومت نے سندھ میںجدید مواصلاتی سہولت مہیا کرنے کے لیے سپر ہائی وے کو نیشنل ہائی وے اتھارٹی میں ضم کیا جس کے بعد سے اس شاہراہ پر قائم ٹول ٹیکس کی اربوں روپے کی آمدنی نیشنل ہائی وے اتھارٹی وصول کر کے پنجاب میں جدید موٹروے بنانے پر خرچ کر رہی ہے جو کہ سندھ کے عوام کی حق تلفی ہے، اربوں روپے ٹول ٹیکس ادا کرنیوالے سندھ کے عوام کو مواصلات کی جدید سہولتوں سے محروم رکھا جا رہا ہے، 20 سال کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود سپر ہائی وے کی ری کارپیٹنگ نہیں کی گئی۔
15 برسوں سے سندھ کے عوام کو نوید دی جا رہی ہے کہ سپر ہائی وے کی جدید موٹر وے میں تبدیلی کے لیے غیر ملکی کمپنی کو ٹھیکہ دے دیا گیا ہے، باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ کمپنی سے یہ ٹھیکہ ختم ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیٹوسپلائی کے ہیوی ٹریلر کی آمد و رفت سے سپر ہائی وے پر گڑھے پڑ گئے ہیں ، جس کی وجہ سے آئے دن حادثات میں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوتاہے اور ٹرانسپورٹر کو بھاری مالی نقصا ن بھی برداشت کرنا پڑ رہا ہے، تراب علی خوجہ نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ سپرہائی وے کی فوری طو رپر ری کارپیٹنگ کرائی جائے۔