دہشتگردی میں جاں بحق مذہبی تنظیم کے کارکن سپرد خاک
صاحبزادہ مصطفی، کاشف اور شکیل کی نماز جنازہ میں سیاسی و سماجی رہنمائوں کی شرکت.
حیدرآباد: گذشتہ شب فائرنگ سے جاں بحق مذہبی تنظیم کے کارکنان کی نماز جنازہ جے یو پی کے سربراہ صاحبزادہ محمد زبیر پڑھا رہے ہیں۔ فوٹو : شاہد علی / ایکسپریس
حیدرآباد میں مسلح افراد کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے بزم مناقب غوث الوریٰ کے سربراہ صاحبزادہ مصطفی کمال خان قادری اور دونوں کارکنان کو سیکڑوں اشکبار آنکھوں کیساتھ سپرد خاک کر دیا گیا۔
سوگ میں مختلف کاروباری مراکز بند رہے۔ صاحبزادہ مصطفیٰ کمال اور کاشف قادری کی جنازے ایک ساتھ اٹھائے گئے، حیدر چوک پر میتیں رکھ کر احتجاجی مظاہرہ اور پولیس کیخلاف نعرے لگائے گئے، مظاہرین نے قاتلوں کو فوری گرفتار کرنیکا مطالبہ کیا۔ بعد ازاں پکھا پیرپر جمعیت علماء پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ نماز جنازہ میں حق پرست رکن قومی اسمبلی صلاح الدین، ایم پی اے وسیم حسین، سنی تحریک کے صوبائی رہنماء خالد حسن عطاری، عابد قادری، جے یو پی کے اقبال شیخ، عارف قریشی، قاری نیاز، انجمن فیضان سایہ پنتجن کے اکرام قریشی، اقبال نیازی، سابق یو سی ناظم راشد خان، دعوت اسلامی کے عارف عطاری، قاری سیلمان اعوان، عبدالمعید شیخ ایڈوکیٹ، سمیت سیاسی، مذہبی، سماجی تنظیموں کے رہنمائوں اور مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
صاحبزادہ مصطفیٰ کمال کو پکھا پیر جبکہ کاشف قادری کو بیراج کالونی جامشورو میں سپرد خاک کیا گیا۔ اس سے قبل واقعہ میں جاں بحق شکیل میمن کی نماز جنازہ مدینہ مسجد سرے گھاٹ پر ادا کی گئی اور ٹنڈو یوسف قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ شکیل میمن شاہی بازار کا رہائشی، شادی شدہ، ایک کمسن بیٹی کا باپ اور والدین کا اکلوتا بیٹا تھا۔ کاشف قادری تلسی داس کا رہائشی اور شادی شدہ شخص تھا۔ واقعہ کے سوگ میں حیدر چوک، کوہ نور چوک، اسٹیشن روڈ، ریشم بازار سمیت اطراف کے علاقے بند رہے، جبکہ نماز جنازہ اور تدفین کے علاوہ دن بھر بھی علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی۔
سوگ میں مختلف کاروباری مراکز بند رہے۔ صاحبزادہ مصطفیٰ کمال اور کاشف قادری کی جنازے ایک ساتھ اٹھائے گئے، حیدر چوک پر میتیں رکھ کر احتجاجی مظاہرہ اور پولیس کیخلاف نعرے لگائے گئے، مظاہرین نے قاتلوں کو فوری گرفتار کرنیکا مطالبہ کیا۔ بعد ازاں پکھا پیرپر جمعیت علماء پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ نماز جنازہ میں حق پرست رکن قومی اسمبلی صلاح الدین، ایم پی اے وسیم حسین، سنی تحریک کے صوبائی رہنماء خالد حسن عطاری، عابد قادری، جے یو پی کے اقبال شیخ، عارف قریشی، قاری نیاز، انجمن فیضان سایہ پنتجن کے اکرام قریشی، اقبال نیازی، سابق یو سی ناظم راشد خان، دعوت اسلامی کے عارف عطاری، قاری سیلمان اعوان، عبدالمعید شیخ ایڈوکیٹ، سمیت سیاسی، مذہبی، سماجی تنظیموں کے رہنمائوں اور مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
صاحبزادہ مصطفیٰ کمال کو پکھا پیر جبکہ کاشف قادری کو بیراج کالونی جامشورو میں سپرد خاک کیا گیا۔ اس سے قبل واقعہ میں جاں بحق شکیل میمن کی نماز جنازہ مدینہ مسجد سرے گھاٹ پر ادا کی گئی اور ٹنڈو یوسف قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ شکیل میمن شاہی بازار کا رہائشی، شادی شدہ، ایک کمسن بیٹی کا باپ اور والدین کا اکلوتا بیٹا تھا۔ کاشف قادری تلسی داس کا رہائشی اور شادی شدہ شخص تھا۔ واقعہ کے سوگ میں حیدر چوک، کوہ نور چوک، اسٹیشن روڈ، ریشم بازار سمیت اطراف کے علاقے بند رہے، جبکہ نماز جنازہ اور تدفین کے علاوہ دن بھر بھی علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی۔