وہ دن گئے جب ملکی استحکام کا تعین ٹینکوں اور اسلحے سے ہوتا تھا چیف جسٹس
اداروں پر آئین کی بالادستی قائم رکھنا سپریم کورٹ کی ذمے داری ہے، سپریم کورٹ کے اختیارات کا تعین آئین میں طے ہے
عدلیہ غلطیوں کا ازالہ کر کے نئی تاریخ رقم کر رہی ہے، ضابطوں کی خلاف ورزی معاشرے کو انتشارکی طرف لے جائے گی، نیشنل مینجمنٹ کورس کے افسران سے خطاب ۔ فوٹو : آئی این پی
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ وہ دن گئے جب ملک کے استحکام اور ترقی کا تعین اس کے پاس موجود اسلحے، میزائلوں اور ٹینکوں کی تعداد پر کیا جاتا تھا اور فوجی طاقت ریاست کے طاقتور ہونے کی علامت سمجھی جاتی تھی۔
آئینِ پاکستان کے محافظ اور رکھوالے کی حیثیت سے سپریم کورٹ کے جج صاحبان پر بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ تمام اداروں اور اتھارٹیز کے اقدامات پر آئین کی بالادستی اور فوقیت کو قائم رکھیں۔ یہ بات انھوں نے نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی نیشنل مینجمنٹ کالج لاہور کے 97 ویں نیشنل مینجمنٹ کورس کے زیرِ تربیت افسران سے خطاب میں کہی جنہوں نے گزشتہ روز عدالت عظمٰی کا دورہ کیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آئینِ پاکستان کے محافظ اور رکھوالے کی حیثیت سے سپریم کورٹ کے جج صاحبان پر بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ تمام اداروں اور اتھارٹیز کے اقدامات پر آئین کی بالادستی اور فوقیت کو قائم رکھیں، سپریم کورٹ کی بناوٹ، اختیارات اور دائرہ کار خود آئین میں طے کردہ ہیں اور عدالت عظمٰی کے فیصلوں کی پابندی ملک کی دیگر تمام عدالتوں پر لازم ہے۔
انھوں نے کہا کہ قومی اداروں کو چلانے کے لیے ہمیں تربیت یافتہ اور قابل بیورو کریسی کی ضرورت ہے جو کہ سماجی و معاشی چیلنجز کا مقابلہ کرنے اور ان سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہوں اور اُن کے پاس اِن مسائل کے موثر حل بھی موجود ہوں، کسی بھی ترقی پذیر ملک جیسا کہ پاکستان کی قومی ترقی کی بنیاد چار ستونوں مثلاً اداروں کی مضبوطی، بنیادی ڈھانچے، معاشی استحکام، صحت اور تعلیم پر ہے، یہ چار ستون ترقی کے حصول کو یقینی بناتے ہیں جو کہ ملک میں سماجی و معاشی استحکام کی وجہ سے بنتی ہے اور ترقی کے یہ چار ہتھیار تب کارآمد ہوں گے جب سرکاری ملازمین ان کا درست استعمال کریں گے، ان چاروں ستونوں کی مضبوطی اور کمزوری کا براہِ راست اثر قومی ترقی کے عروج و زوال پر ہوتا ہے، سماجی و معاشی ترقی میں اداروں کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔
نوبل انعام یافتہ معیشت دان ڈگلس نارتھ کے مطابق ''کسی معاشرے میں ادارے مملکت کے معاملات کے قواعد کا کردار ادا کرتے ہیں، کسی معاشرے کی ترقی و نشوونما در اصل اُن قواعد و ضوابط پر منحصر ہے جو وہ خود اپنے لیے منتخب کرتے ہیں، اگر قواعد و ضوابط قانون اور آئین کے مطابق تمام افراد کو سازگار ماحول اور برابری کے مواقع فراہم کرتے ہیں تو معاشرے کی ترقی ناگزیر ہے اور اگر اصول اکثریت کے خلاف ہوں تو ماحول میں تذبذب و سراسیمگی پیدا ہو گی جو کہ معاشرے کو انتشار اور بد امنی کی طرف لے جائے گی۔
اس موقع پر انھوں نے شرکا سے مخاطب ہوتے ہوئے 6 سوالات کیے کہ کیا ہم صلاحیت اور محنت کی قدر کرتے ہیں؟ کیا قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کے دہرے اصول کا اطلاق صحیح معنوں میں ہو رہا ہے؟ کیا ملک کے شہریوں کو نظام پر اعتماد ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ اُنھیں اپنے خوابوں کی تعبیر شفاف اور دُرست طریقے سے مِل جائے گی؟ کیا موجودہ نظام میں طاقت ہے کہ وہ بد دیانتوں اور منافع خوروں کی حوصلہ شکنی کرے؟ کیا ہمارے پاس ایک ایسا نظام ہے جہاں دیوانی اور ملکیت کے حقوق محفوظ اور معاہدات مکمل طور پر نافذ شدہ ہیں؟ اگر اِن تمام سوالات کا جواب 'ہاں' میںآتا ہے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ نافذ شدہ قواعد و ضوابط شفاف اور دُرست ہیں، اِس طرح کے ماحول میں ہر ایک کو محنت کرنے کا موقع ملے گا اور وہ اپنی صلاحیتیں اور وسائل اپنے اپنے شعبے میں موثر طریقے سے استعمال میں لا سکیں گے۔
لیکن اگر بد قسمتی سے متذکرہ بالا سوالات کا جواب 'ناں' میں ہوا تو مجھے ڈر ہے کہ نظام منشتر ہے اور یہ لوگوں کو ان کی صلاحیتوں کے مطابق زندگی گزارنے کے خاطر خواہ مواقع فراہم نہیں کرے گا، جب تک کہ ہم اپنے نظام سے اِس انتشار کو ختم کرنے کی حتی المقدور کوشش نہیں کریں گے ایک ساز گار ماحول جو کہ مقابلے کے رجحان اور ترقی کو بڑھاوا دے تقریباً نا ممکن ہے۔ انھوں نے کہا کہ آئینِ پاکستان ملک کے عوام کو بہت سے بنیادی حقوق دیتا ہے۔
یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اِن بنیادی حقوق کی پاسداری یقینی بنائے بلکہ اِن حقوق کی ارتداد کا فوری جواب دیا جائے اور عوام کو کم سے کم خرچ میں داد رسی دلوائی جائے اور یہی صحیح معنوں میں خود مختار معاشرے کی اصل خوبی ہے، وہ دن گئے جب ملک کا استحکام اور ترقی کا تعین اُس کے پاس موجود اسلحے، میزائلوں اور ٹینکوں کی تعداد جو کہ ریاست کے طاقتور ہونے کی علامت سمجھے جاتے تھے کی بنیاد پر کیا جاتا تھا آج کے دور میں قومی تحفظ کے نظریات تبدیل ہو رہے ہیں جن کے مطابق ریاست اپنے شہریوں کو معاشرتی تحفظ اور فلاح اور اُن کے قدرتی اور دیوانی حقوق کے تحفظ کی ذمہ دار ہے۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ موجودہ دور میں سپریم کورٹ کو جو مقام حاصل ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے اپنا اصل درجہ بے مثال جدوجہد جو کہ مختلف پیشہ ورانہ طبقات مثلاً وکلاء، طلباء، میڈیا سے وابستہ افراد اور سول سوسائٹی کی جدوجہد سے حاصل کیا، اب یہ امید کرتے ہیں کہ ملک کے اعلیٰ عدالتی حکام دیوانی جج سے لے کے سب سے بڑی اپیل کی عدالت تک بلا خوف و خطراور جلد از جلد انصاف فراہم کریں۔ چیف جسٹس نے زیر تربیت بیورو کریٹس کو بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے الفاظ یاد دلائے''آپ ریاست کے ملازم ہیں آپ کو کسی بھی سیاسی جماعت یا کسی حکومت سے کوئی غرض نہیں ہونا چاہیے۔
وزیر اعظم آتے اور جاتے ہیں لیکن آپ نے اپنا کام جاری رکھنا ہے''۔ چیف جسٹس نے شرکاء پر زور دیا کہ عوامی پالیسی اور خدمات کی سر انجام دہی میں ماہر ہونے کے طور پر یہ آپ کی ذمے داری ہے کہ آپ اپنی سیاسی قیادت کو مطلع کریں کہ قومی ترقی اور نشوونما کی کیا ضروریات ہیں۔ انھوں نے کہا آج کل عدالت دیگر معاملات سے نبرد آزما ہے چاہے وہ توانائی کا بحران ہو سی این جی یا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہوں یا بلوچستان اور کراچی میں امن و امان کی صورتحال ہو، کمزور انتظامیہ اور عملدرآمدی ڈھانچے کی ناکامی ہر جگہ پر نظر آتی ہے، ایسا لگتا ہے کہ قومی بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی کرنے کی کوئی کوششیں نہیں کی گئیں جن کے تحت ان قومی نوعیت کے مسائل سے درست طریقے سے نمٹا جا سکے۔
اداروں کی یہ ناکامی عوامی پالیسی کے شعبے میں قومی پالیسی بنانے کی آپ کی صلاحیت سے براہِ راست متعلق ہے، اسی طرح کچھ شعبوں میں عملدرآمد کا فقدان بھی نظر آتا ہے جہاں پر کسی قسم کی پالیسی بنانے کی تجاویز دی گئی ہوں، تاہم ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا ہمارے پاس بہت ساز گار ماحول ہے ترقی اور کامیابی حاصل کرنے کے لیے ہمارے پاس متحرک میڈیا ہے جو کہ عوامی مفادات کے تحفظ کے لیے نگران کا کردار نبھا رہا ہے، ہمارے پاس ملک میں سیاسی جماعتوں کا ایک امتزاج موجود ہے جن کے پاس عوامی فلاح کا کم و بیش ایک جیسا ایجنڈا موجود ہے اور آخر میں ہمارے پاس صحیح معنوں میں خود مختار عدلیہ ہے جس کی اولین ترجیح ہر حال میں قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کے دہرے اصول پر ڈٹے رہنا ہے۔
یہ عدلیہ ناصرف پرانی غلطیوں کا ازالہ کرتے ہوئے بلکہ آئین میں درج بنیادی حقوق کو تحفظ دینے، قانون کی حکمرانی قائم کرنے اور شفافیت برقرار رکھنے کے نظائر قائم کر کے ایک نئی ملکی تاریخ رقم کر رہی ہے۔ بہت سے مشہور فیصلے دئیے گئے ہیں جہاں پر اداروں کو اُن کی حدود میں رہتے ہوئے کام کرنے کی ہدایت دی گئی تا کہ نظام ترقی کر سکے۔ کچھ مقدمات میں سرکاری ملازمین کو براہِ راست ہدایت دی گئی کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے وہ ضابطوں کی پاسداری کریں۔ کراچی اور بلوچستان بد امنی کے مقدمات میں عدالت نے اِس بات پر زور دیا کہ قابل سرکاری ملازمین کی میرٹ پر بھرتیوں کے ذریعے انتظامیہ کو موثر بنایا جائے تاکہ وہ غیر جانبدار طریقے سے فرائض سر انجام دیتے ہوئے بہترین نظامِ حکومت قائم کر سکے۔
آئینِ پاکستان کے محافظ اور رکھوالے کی حیثیت سے سپریم کورٹ کے جج صاحبان پر بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ تمام اداروں اور اتھارٹیز کے اقدامات پر آئین کی بالادستی اور فوقیت کو قائم رکھیں۔ یہ بات انھوں نے نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی نیشنل مینجمنٹ کالج لاہور کے 97 ویں نیشنل مینجمنٹ کورس کے زیرِ تربیت افسران سے خطاب میں کہی جنہوں نے گزشتہ روز عدالت عظمٰی کا دورہ کیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آئینِ پاکستان کے محافظ اور رکھوالے کی حیثیت سے سپریم کورٹ کے جج صاحبان پر بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ تمام اداروں اور اتھارٹیز کے اقدامات پر آئین کی بالادستی اور فوقیت کو قائم رکھیں، سپریم کورٹ کی بناوٹ، اختیارات اور دائرہ کار خود آئین میں طے کردہ ہیں اور عدالت عظمٰی کے فیصلوں کی پابندی ملک کی دیگر تمام عدالتوں پر لازم ہے۔
انھوں نے کہا کہ قومی اداروں کو چلانے کے لیے ہمیں تربیت یافتہ اور قابل بیورو کریسی کی ضرورت ہے جو کہ سماجی و معاشی چیلنجز کا مقابلہ کرنے اور ان سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہوں اور اُن کے پاس اِن مسائل کے موثر حل بھی موجود ہوں، کسی بھی ترقی پذیر ملک جیسا کہ پاکستان کی قومی ترقی کی بنیاد چار ستونوں مثلاً اداروں کی مضبوطی، بنیادی ڈھانچے، معاشی استحکام، صحت اور تعلیم پر ہے، یہ چار ستون ترقی کے حصول کو یقینی بناتے ہیں جو کہ ملک میں سماجی و معاشی استحکام کی وجہ سے بنتی ہے اور ترقی کے یہ چار ہتھیار تب کارآمد ہوں گے جب سرکاری ملازمین ان کا درست استعمال کریں گے، ان چاروں ستونوں کی مضبوطی اور کمزوری کا براہِ راست اثر قومی ترقی کے عروج و زوال پر ہوتا ہے، سماجی و معاشی ترقی میں اداروں کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔
نوبل انعام یافتہ معیشت دان ڈگلس نارتھ کے مطابق ''کسی معاشرے میں ادارے مملکت کے معاملات کے قواعد کا کردار ادا کرتے ہیں، کسی معاشرے کی ترقی و نشوونما در اصل اُن قواعد و ضوابط پر منحصر ہے جو وہ خود اپنے لیے منتخب کرتے ہیں، اگر قواعد و ضوابط قانون اور آئین کے مطابق تمام افراد کو سازگار ماحول اور برابری کے مواقع فراہم کرتے ہیں تو معاشرے کی ترقی ناگزیر ہے اور اگر اصول اکثریت کے خلاف ہوں تو ماحول میں تذبذب و سراسیمگی پیدا ہو گی جو کہ معاشرے کو انتشار اور بد امنی کی طرف لے جائے گی۔
اس موقع پر انھوں نے شرکا سے مخاطب ہوتے ہوئے 6 سوالات کیے کہ کیا ہم صلاحیت اور محنت کی قدر کرتے ہیں؟ کیا قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کے دہرے اصول کا اطلاق صحیح معنوں میں ہو رہا ہے؟ کیا ملک کے شہریوں کو نظام پر اعتماد ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ اُنھیں اپنے خوابوں کی تعبیر شفاف اور دُرست طریقے سے مِل جائے گی؟ کیا موجودہ نظام میں طاقت ہے کہ وہ بد دیانتوں اور منافع خوروں کی حوصلہ شکنی کرے؟ کیا ہمارے پاس ایک ایسا نظام ہے جہاں دیوانی اور ملکیت کے حقوق محفوظ اور معاہدات مکمل طور پر نافذ شدہ ہیں؟ اگر اِن تمام سوالات کا جواب 'ہاں' میںآتا ہے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ نافذ شدہ قواعد و ضوابط شفاف اور دُرست ہیں، اِس طرح کے ماحول میں ہر ایک کو محنت کرنے کا موقع ملے گا اور وہ اپنی صلاحیتیں اور وسائل اپنے اپنے شعبے میں موثر طریقے سے استعمال میں لا سکیں گے۔
لیکن اگر بد قسمتی سے متذکرہ بالا سوالات کا جواب 'ناں' میں ہوا تو مجھے ڈر ہے کہ نظام منشتر ہے اور یہ لوگوں کو ان کی صلاحیتوں کے مطابق زندگی گزارنے کے خاطر خواہ مواقع فراہم نہیں کرے گا، جب تک کہ ہم اپنے نظام سے اِس انتشار کو ختم کرنے کی حتی المقدور کوشش نہیں کریں گے ایک ساز گار ماحول جو کہ مقابلے کے رجحان اور ترقی کو بڑھاوا دے تقریباً نا ممکن ہے۔ انھوں نے کہا کہ آئینِ پاکستان ملک کے عوام کو بہت سے بنیادی حقوق دیتا ہے۔
یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اِن بنیادی حقوق کی پاسداری یقینی بنائے بلکہ اِن حقوق کی ارتداد کا فوری جواب دیا جائے اور عوام کو کم سے کم خرچ میں داد رسی دلوائی جائے اور یہی صحیح معنوں میں خود مختار معاشرے کی اصل خوبی ہے، وہ دن گئے جب ملک کا استحکام اور ترقی کا تعین اُس کے پاس موجود اسلحے، میزائلوں اور ٹینکوں کی تعداد جو کہ ریاست کے طاقتور ہونے کی علامت سمجھے جاتے تھے کی بنیاد پر کیا جاتا تھا آج کے دور میں قومی تحفظ کے نظریات تبدیل ہو رہے ہیں جن کے مطابق ریاست اپنے شہریوں کو معاشرتی تحفظ اور فلاح اور اُن کے قدرتی اور دیوانی حقوق کے تحفظ کی ذمہ دار ہے۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ موجودہ دور میں سپریم کورٹ کو جو مقام حاصل ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے اپنا اصل درجہ بے مثال جدوجہد جو کہ مختلف پیشہ ورانہ طبقات مثلاً وکلاء، طلباء، میڈیا سے وابستہ افراد اور سول سوسائٹی کی جدوجہد سے حاصل کیا، اب یہ امید کرتے ہیں کہ ملک کے اعلیٰ عدالتی حکام دیوانی جج سے لے کے سب سے بڑی اپیل کی عدالت تک بلا خوف و خطراور جلد از جلد انصاف فراہم کریں۔ چیف جسٹس نے زیر تربیت بیورو کریٹس کو بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے الفاظ یاد دلائے''آپ ریاست کے ملازم ہیں آپ کو کسی بھی سیاسی جماعت یا کسی حکومت سے کوئی غرض نہیں ہونا چاہیے۔
وزیر اعظم آتے اور جاتے ہیں لیکن آپ نے اپنا کام جاری رکھنا ہے''۔ چیف جسٹس نے شرکاء پر زور دیا کہ عوامی پالیسی اور خدمات کی سر انجام دہی میں ماہر ہونے کے طور پر یہ آپ کی ذمے داری ہے کہ آپ اپنی سیاسی قیادت کو مطلع کریں کہ قومی ترقی اور نشوونما کی کیا ضروریات ہیں۔ انھوں نے کہا آج کل عدالت دیگر معاملات سے نبرد آزما ہے چاہے وہ توانائی کا بحران ہو سی این جی یا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہوں یا بلوچستان اور کراچی میں امن و امان کی صورتحال ہو، کمزور انتظامیہ اور عملدرآمدی ڈھانچے کی ناکامی ہر جگہ پر نظر آتی ہے، ایسا لگتا ہے کہ قومی بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی کرنے کی کوئی کوششیں نہیں کی گئیں جن کے تحت ان قومی نوعیت کے مسائل سے درست طریقے سے نمٹا جا سکے۔
اداروں کی یہ ناکامی عوامی پالیسی کے شعبے میں قومی پالیسی بنانے کی آپ کی صلاحیت سے براہِ راست متعلق ہے، اسی طرح کچھ شعبوں میں عملدرآمد کا فقدان بھی نظر آتا ہے جہاں پر کسی قسم کی پالیسی بنانے کی تجاویز دی گئی ہوں، تاہم ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا ہمارے پاس بہت ساز گار ماحول ہے ترقی اور کامیابی حاصل کرنے کے لیے ہمارے پاس متحرک میڈیا ہے جو کہ عوامی مفادات کے تحفظ کے لیے نگران کا کردار نبھا رہا ہے، ہمارے پاس ملک میں سیاسی جماعتوں کا ایک امتزاج موجود ہے جن کے پاس عوامی فلاح کا کم و بیش ایک جیسا ایجنڈا موجود ہے اور آخر میں ہمارے پاس صحیح معنوں میں خود مختار عدلیہ ہے جس کی اولین ترجیح ہر حال میں قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کے دہرے اصول پر ڈٹے رہنا ہے۔
یہ عدلیہ ناصرف پرانی غلطیوں کا ازالہ کرتے ہوئے بلکہ آئین میں درج بنیادی حقوق کو تحفظ دینے، قانون کی حکمرانی قائم کرنے اور شفافیت برقرار رکھنے کے نظائر قائم کر کے ایک نئی ملکی تاریخ رقم کر رہی ہے۔ بہت سے مشہور فیصلے دئیے گئے ہیں جہاں پر اداروں کو اُن کی حدود میں رہتے ہوئے کام کرنے کی ہدایت دی گئی تا کہ نظام ترقی کر سکے۔ کچھ مقدمات میں سرکاری ملازمین کو براہِ راست ہدایت دی گئی کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے وہ ضابطوں کی پاسداری کریں۔ کراچی اور بلوچستان بد امنی کے مقدمات میں عدالت نے اِس بات پر زور دیا کہ قابل سرکاری ملازمین کی میرٹ پر بھرتیوں کے ذریعے انتظامیہ کو موثر بنایا جائے تاکہ وہ غیر جانبدار طریقے سے فرائض سر انجام دیتے ہوئے بہترین نظامِ حکومت قائم کر سکے۔